ہوم » نیوز » انٹرٹینمنٹ

کنگنا رانوت نے ایف آئی آر درج ہونے کے بعد شیئر کی اپنی یہ تصویر، ٹوئٹ کرکے دیا ایسا جواب

ممبئی کے باندرہ پولیس اسٹیشن میں 124 اے سمیت کئی دفعات کے تحت ہفتہ کو کنگنا رانوت (Kangana Ranaut) اور ان کی بہن رنگولی چندیل (Rangoli Chandel) کے خلاف ایف آئی آر درج کرلیا گیا، جس کے بعد کنگنا رانوت نے ایک ٹوئٹ کرکے اس کا جواب بھی دیا ہے۔

  • Share this:
کنگنا رانوت نے ایف آئی آر درج ہونے کے بعد شیئر کی اپنی یہ تصویر، ٹوئٹ کرکے دیا ایسا جواب
کنگنا رانوت نے ایف آئی آر درج ہونے کے بعد شیئر کی اپنی یہ تصویر، ٹوئٹ کرکے دیا ایسا جواب

نئی دہلی: بالی ووڈ اداکارہ کنگنا رانوت (Kangana Ranaut) اور ان کی بہن رنگولی چندیل (Rangoli Chandel) کے خلاف ممبئی کے باندرہ پولیس اسٹیشن میں 124 اے سمیت کئی دفعات کے تحت ہفتہ کو ایف آئی آر درج کرلیا گیا۔ ممبئی کی ایک عدالت نے پولیس کو ٹوئٹ کے ذریعہ مبینہ طور پر فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کی کوششوں کو لے کر اداکارہ کنگنا رانوت اور ان کی بہن رنگولی چندیل کے خلاف دائر شکایت کی ہفتہ کو ہی جانچ کرنے کو کہا تھا۔ باندرہ کے میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ جے دیو وائی گھلے نے جمعہ کو یہ حکم جاری کیا تھا۔


کنگنا رانوت نے ٹوئٹ پر کیا جواب


اس پر اب کنگنا رانوت کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کنگنا رانوت نے ایک ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا، ’نوراتر پر کون کون اپواس کر رہے ہیں؟ جیسے کہ میں بھی اپواس کر رہی ہوں، یہ آج کی سلیبریشن کی تصویریں ہیں۔ اس درمیان میرے خلاف ایک اور ایف آئی آر در کی گئی، لگتا ہے کہ مہاراشٹر میں بیٹھی پپو فوج کو مجھ سے بہت لگاو ہوگیا ہے۔ مجھے اتنا مس نہ کریں... میں جلد ہی وہاں آوں گی’۔ وہیں، کاسٹنگ ڈائریکٹر ساحل اشرف علی سید کے وکیل رویش زمیندار کے مطابق ان کے موکل نے عدالت میں شکایت دائر کرکے اداکارہ اور ان کی بہن کے خلاف تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی مختلف دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔




کنگنا رانوت پر لگائے گئے یہ الزام

شکایت کنندہ نے الزام لگایا کہ اداکارہ گزشتہ دو ماہ سے اپنے ٹوئٹ اور ٹیلی ویژن پر انٹرویو کے ذریعہ بالی ووڈ کو بدنام کر رہی ہیں۔ شکایت میں انہوں نے کہا کہ کنگنا رانوت نے ٹوئٹ میں ’بہت ہی قابل اعتراض’ تبصرہ کیا ہے، جن سے نہ صرف ان کی بلکہ کئی دیگر فنکاروں کے جذبات بھی مجروح ہوئے ہیں۔ سید نے الزام لگایا کہ کنگنا رانوت فنکاروں کو فرقہ وارانہ بنیاد پر تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا، ’ان کی بہن نے بھی دو مذہبی گروپ کے درمیان فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلانے کے لئے سوشل میڈیا پر قابل اعتراض تبصرے کئے’۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Oct 18, 2020 01:11 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading