உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    'The Kashmir Files' کو لے کر نواز الدین صدیقی نے وویک اگنی ہوتری کے لئے کہہ دی یہ بڑی بات

    فلم ’دی کشمیر فائلس (The Kashmir Files)‘ پورے ملک میں ایک بڑی بحث کا موضوع بن چکی ہے۔ وویک اگنی ہوتری (Vivek Agnihotri) کی ہدایت کاری میں بنی اس فلم کو دیکھنے کے لئے لوگ سنیما گھروں میں امنڈ رہے ہیں۔ اس فلم نے کئی ریکارڈ توڑ دیئے ہیں اور یہ 200 کروڑ کا اعدادوشمار پار کرچکی ہے۔ حالانکہ اس فلم کی مخالفت بھی ہو رہی ہے اور اسے حقائق سے دور بتایا جا رہا ہے۔

    فلم ’دی کشمیر فائلس (The Kashmir Files)‘ پورے ملک میں ایک بڑی بحث کا موضوع بن چکی ہے۔ وویک اگنی ہوتری (Vivek Agnihotri) کی ہدایت کاری میں بنی اس فلم کو دیکھنے کے لئے لوگ سنیما گھروں میں امنڈ رہے ہیں۔ اس فلم نے کئی ریکارڈ توڑ دیئے ہیں اور یہ 200 کروڑ کا اعدادوشمار پار کرچکی ہے۔ حالانکہ اس فلم کی مخالفت بھی ہو رہی ہے اور اسے حقائق سے دور بتایا جا رہا ہے۔

    فلم ’دی کشمیر فائلس (The Kashmir Files)‘ پورے ملک میں ایک بڑی بحث کا موضوع بن چکی ہے۔ وویک اگنی ہوتری (Vivek Agnihotri) کی ہدایت کاری میں بنی اس فلم کو دیکھنے کے لئے لوگ سنیما گھروں میں امنڈ رہے ہیں۔ اس فلم نے کئی ریکارڈ توڑ دیئے ہیں اور یہ 200 کروڑ کا اعدادوشمار پار کرچکی ہے۔ حالانکہ اس فلم کی مخالفت بھی ہو رہی ہے اور اسے حقائق سے دور بتایا جا رہا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: 11 مارچ کو ریلیز ہوئی ’دی کشمیر فائلس (The Kashmir Files)‘ فلم پورے ملک میں ایک بڑی بحث کا موضوع بن چکی ہے۔ وویک اگنی ہوتری (Vivek Agnihotri) کی ہدایت کاری میں بنی اس فلم کو دیکھنے کے لئے لوگ سنیما گھروں میں امنڈ رہے ہیں۔ اس فلم نے کئی ریکارڈ توڑ دیئے ہیں اور یہ 200 کروڑ کا اعدادوشمار پار کرچکی ہے۔ اس فلم میں کشمیری پنڈتوں کے درد اور ان پر ہوئے مظالم کو پردے پر اتارنے کی کوشش کی گئی ہے۔ حالانکہ دوسری طرف یہ بھی الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ اس فلم میں صرف ایک پہلو کو دکھایا گیا ہے، جس سے ملک کا ماحول خراب ہوسکتا ہے۔ ساتھ ہی اس فلم پر پابندی عائد کئے جانے کا مطالبہ بھی ہونے لگا ہے۔ بہر حال پورے ملک میں اس پر سیاست جاری ہے۔

      ’دی کشمیر فائلس (The Kashmir Files)‘ فلم کو لے کر ناظرین دو حصوں میں منقسم نظر آرہے ہیں۔ ناظرین کا ایک طبقہ اس فلم کو پوری طرح سے سپورٹ کر رہا ہے، تو وہیں دوسرا طبقہ اس فلم کو بنانے پر ناراضگی کا اظہار کر رہا ہے اور فلم ڈائریکٹر وویک اگنی ہوتری کے خلاف مخالفت میں اتر آیا ہے۔ اس فلم سے متعلق کئی نامی گرامی شخصیات نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ اب اس معاملے پر نواز الدین صدیقی (Nawazuddin Siddiqui) نے وویک اگنی ہوتری کی حمایت کی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      فلم 'The Kashmir Files' کو لے کر سلمان خان نے کیا کہا تھا؟ انوپم کھیر نے کیا انکشاف

      ’وویک اگنی ہوتری کا نظریہ اچھا ہے‘

      بالی ووڈ کے ایک خاص طبقے کی طرف سے فلم کی مخالفت کئے جانے کے جواب میں نواز الدین صدیقی نے اے بی پی سے کہا، ’ہر فلمساز کو یہ حق ہے کہ وہ اپنی فلم میں سچے حادثات پر مبنی کہانیوں میں اپنا نظریہ رکھے۔ فلم بنانے کے لئے ہر ڈائریکٹر کا اپنا طریقہ کار اور نظریہ ہوتا ہے۔ وویک اگنی ہوتری نے جس نظریے سے یہ فلم بنائی ہے، وہ اچھا ہے‘۔ نواز الدین صدیقی نے یہ بھی کہا ہے کہ انہوں نے ابھی تک فلم ’دی کشمیر فائلس‘ نہیں دیکھی ہے، لیکن وہ اس فلم کو ضرور دیکھیں گے۔ کیونکہ لوگ اسے دیکھ رہے ہیں ‘۔

      پریتی زنٹا نے بھی لوگوں سے کی ہے یہ اپیل

      اس سے قبل اداکارہ پریتی زنٹا (Preity Zinta) نے بھی اس فلم کو دیکھنے کے بعد وویک اگنی ہوتری کی حمایت اور ایک پوسٹ کے ذریعہ لوگوں سے یہ اپیل کی کہ ’دوستوں اس فلم کو مس نہ کریں۔ ’دی کشمیر فائلس‘ ضرور دیکھیں‘۔ اس فلم میں انوپم کھیر، متھن چکرورتی، درشن کمار، پلوی جوشی وغیرہ اہم رول میں ہیں۔ ’دی کشمیر فائلس‘ کو اترپردیش، تریپورہ، گوا، ہریانہ اور اتراکھنڈ سمیت کئی ریاستوں میں ٹیکس فری کردیا گیا ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: