உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ڈرگ معاملہ کے بیچ شاہ رخ خان کی بیٹی سہانا نے لکھا عجیب وغریب پوسٹ، خواتین کو لے کر کہی بڑی بات

    ڈرگ معاملہ کے بیچ شاہ رخ خان کی بیٹی سہانا نے لکھا عجیب وغریب پوسٹ، وائرل

    ڈرگ معاملہ کے بیچ شاہ رخ خان کی بیٹی سہانا نے لکھا عجیب وغریب پوسٹ، وائرل

    سہانا خان کا یہ پوسٹ اب تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ سہانا نے اپنی پوسٹ میں خواتین کے تئیں غلط سلوک اور نفرت انگیز برتاو پر اپنے خیالات ساجھا کئے ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      ممبئی۔ شاہ رخ خان (Shah Rukh Khan) کی بیٹی سہانا خان (Suhana Khan) اکثر ہی سوشل میڈیا پر اپنی تصویروں اور ویڈیوز کو لے کر چرچا میں بنی رہتی ہیں۔ ان کی تصویریں تیزی سے وائرل ہوتی ہیں، لیکن ان دنوں ان کا ایک پوسٹ چرچا کا موضوع بنا ہوا ہے۔ سہانا خان نے انسٹاگرام پر ایک (Suhana Khan Post on misogyny) پوسٹ شئیر کیا ہے جس میں انہوں نے ' دوہرے معیار' کی طرف اشارہ کیا ہے۔ سہانا خان کا یہ پوسٹ اب تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ سہانا نے اپنی پوسٹ میں خواتین کے تئیں غلط سلوک اور نفرت انگیز برتاو پر اپنے خیالات ساجھا کئے ہیں۔

      سہانا خان نے یہ پوسٹ اپنی انسٹا پر شئیر کی ہے۔ سہانا کی یہ انسٹا اسٹوری انگریزی میں ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے۔ 'Misogyny نہ صرف خواتین کے تئیں نفرت ہے بلکہ یہ خواتین کے تئیں گھناونا سلوک بھی ہے۔ آپ کو محتاط طور پر یہ سوچنے کی ضرورت نہیں ہے کہ کہیں آپ بھی تو خواتین سے نفرت نہیں کرتے ہیں۔ آپ خود سے پوچھئے کہ جب کوئی خاتون ایسا کچھ کرتی ہے تو یہ آپ کو کسی مرد کے ذریعہ کئے جانے سے زیادہ ردعمل کیوں محسوس ہوتا ہے۔ دوہرا برتاو خطرناک ہوتا ہے۔

      سہانا خان کا یہ پوسٹ تیزی سے لوگوں کا دھیان اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔


      سہانا خان کا یہ پوسٹ تیزی سے لوگوں کا دھیان اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔ سہانا کے پوسٹ کو اب لوگ بالی ووڈ میں ڈرگس کو لے کر جاری نارکوٹکس کنٹرول بیورو کی کارروائی سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔ غور طلب ہے کہ سشانت سنگھ راجپوت موت معاملہ میں نارکوٹکس کنٹرول بیورو نے کئی بالی ووڈ کی اداکاراوں کو جانچ کے گھیرے میں لیا ہے۔
      بیتے جمعہ کو ہی این سی بی نے رکول پریتی سنگھ سے پوچھ گچھ کی ہے اور آج دیپکا پادوکون، سارا علی خان اور شردھا کپور سے بھی ایجنسی سوال وجواب کرے گی۔
      Published by:Nadeem Ahmad
      First published: