உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    50 کے دہائی کی اس ایکٹریس نے اپنے گلیمر سے بڑی بڑی ہیروئینوں کو کردیا تھا فیل، آج بیٹا ہے ٹی وی کا مشہور اسٹار

    ایکٹنگ سے زیادہ گلیمرس لُک سے ماضی کی یہ اداکارہ نے بڑی بڑی ہیروئینوں کو کردیا تھا فیل۔

    ایکٹنگ سے زیادہ گلیمرس لُک سے ماضی کی یہ اداکارہ نے بڑی بڑی ہیروئینوں کو کردیا تھا فیل۔

    Bollywood Actress Begum Para: اس دہائی میں اداکارہ کو بالی ووڈ کی گلیمر گرل کے طور پر جانا جاتا تھا۔ 1951 میں، انہوں نے فوٹوگرافر جیمز برک کے لائف میگزین کے لیے ایک گلیمرس فوٹو شوٹ کیا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Hyderabad, India
    • Share this:
      Bollywood Actress Begum Para: پچاس کی دہائی کی تمام بالی ووڈ کی ایکٹریس ہیں جن کے میں حسن اور اداکاری کے آج بھی لوگ قائل ہیں۔ مدھوبالا اور نرگس انہیں اداکاراوں میں شمار کی جاتی ہیں لیکن کیا آپ کو پتہ ہے کہ اسی دور کی ایک اور اداکارہ تھیں جن کے گلیمرس انداز نے اس دور میں تہلکہ مچادیا تھا، جن کا نام تھا بیگم پارا(Begum Para) ۔ بیگم پارا نے اپنی ایکٹنگ سے تو بالی ووڈ میں وہ جگہ نہیں بنائی لیکن ان کے لُک اور گلیمر نے ضرور خوب سرخیاں بٹوری تھیں۔ آج یہ اداکارہ ہمارے درمیان نہیں ہیں لیکن ان کے دلچسپ قصے ضرور لوگ سن کر انہیں یاد کرتے ہیں۔

      گلیمرس گرل کے نام سے مشہور تھیں بیگم پارا
      بیگم پارہ کا اصل نام زبیدہ الحق تھا۔ 1940 سے 1950 تک وہ بالی ووڈ انڈسٹری میں بہت سرگرم رہیں۔ اس دہائی میں اداکارہ کو بالی ووڈ کی گلیمر گرل کے طور پر جانا جاتا تھا۔ 1951 میں، انہوں نے فوٹوگرافر جیمز برک کے لائف میگزین کے لیے ایک گلیمرس فوٹو شوٹ کیا۔ اس فوٹو شوٹ کے بعد وہ نہ صرف ملک بلکہ بیرون ملک بھی مشہور ہوگئیں۔ کہاں تو یہاں تک جاتا ہے کہ امریکی فوجی اپنی جیب ان کی تصویریں رکھ کر جنگیں لڑتے تھے۔

      دلچسپ ہے اداکارہ بننے کی کہانی
      بیگم پارہ برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئیں جو اب پاکستان میں ہے۔ اداکارہ کا بچپن بیکانیر میں گزرا اور انہوں نے اپنی تعلیم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے حاصل کی۔ بیگم پارہ کے والد میاں احسان الحق ایک جج تھے اور وہ بیکانیر کی شاہی ریاست، جو اب شمالی راجستھان ہے، وہاں کی عدالتی سروس میں چلے گئے۔ جہاں وہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بنے۔ بیگم پارہ کے بھائی مسرور الحق 1930 کی دہائی میں ایک اداکار بننے کے لیے بمبئی چلے آئے۔ یہاں ان کی ملاقات بنگالی اداکارہ پروتیما داس گپتا سے ہوئی۔ دونوں کی یہ ملاقات محبت میں بدل گئی اور چند سال بعد دونوں شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔ بیگم پارہ اپنی بھابھی کے رہن سہن اور ان کی ذہانت سے بہت متاثر ہوئیں۔ کئی بار وہ اپنی بھابھی کے ساتھ بالی ووڈ ایونٹس میں جاتی تھیں۔ بیگم پارہ خوبصورت تو تھیں ہی لہٰذا انہیں بھی فلموں کی آفرز آنے لگے۔

      اس فلم سے کیا تھا بالی ووڈ ڈیبیو
      ایکٹریس نے 1944 میں فلم ’چاند‘ سے بالی ووڈ ڈیبیو کیا تھا۔ اس کے بعد وہ سوہنی مہیوال، نیل کمل، مہندی، مہربانی، لیلا مجنوں، قسمت کا کھیل جیسی فلموں میں نظر آئیں۔ بیگم پارا نے فلموں میں اپنی ایکٹنگ سے وہ جگہ قائم نہیں کی جتنی ان کی گلیمر امیج نے لوگوں کا دھیان کھینچا۔ فلموں میں انہیں اسی طرح کے رول ملا کرتے تھے۔



       




      View this post on Instagram





       

      A post shared by RetroBollywood (@retrobollywood)





      یہ بھی پڑھیں:

      Money Laundering Case:’میری جائیدادخودکی کمائی کی‘-جیکولن نے منی لانڈرنگ کیس پردی صفائی

      یہ بھی پڑھیں:
      کبھی واچ مین کی نوکری کرنے والے نوازالدین ہیں آج کروڑوں کے مالک،لیتے ہیں بھاری فیس

      سنجے لیلا بھنسالی کی فلم میں آخری مرتبہ آئیں نطر
      سنجے لیلا بھنسالی کی فلم ’سانوریا‘ میں انہوں نے سونم کپور کی دادی کا رول پلے کیا تھا۔ یہ فلم سال 2007 میں آئی تھی۔ بیگم پارا کے کرئیر کی یہ آخری فلم تھی۔ سال 2008 میں ان کا انتقال ہوگیا۔ اداکارہ کے تین بچے ہیں میں سے ایک ایوب خان ہیں۔ ایوب خان چھوٹے پردے کے مشہور ایکٹر ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: