ہوم » نیوز » انٹرٹینمنٹ

سی بی آئی اب سشانت سنگھ راجپوت کی گرل فرینڈ ریاچکرورتی سے کرے گی پوچھ گچھ، اداکار کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے کھلا یہ بڑا راز

سشانت سنگھ راجپوت کیس میں سی بی آئی نے جانچ شروع کردی ہے۔ سشانت کے باورچی نیرج کو پالی ہِل علاقے سے گیسٹ ہاؤس لایا گیا جہاں سی بی ئی نے نیرج سے دو دن تک پوچھ تاچھ کی۔ سی بی آئی کی ٹیم گیسٹ ہاؤس میں ٹھہری ہوئی ہے ۔ذرائع کے مطابق ایجنسی ریا چکرورتی کے بھائی شووک سے بھی پوچھ تاچھ کرسکتی ہے۔

  • Share this:

سشانت سنگھ راجپوت کیس میں سی بی آئی نے جانچ شروع کردی ہے۔ سشانت کے باورچی نیرج کو پالی ہِل علاقے سے گیسٹ ہاؤس لایا گیا جہاں سی بی ئی نے نیرج سے دو دن تک پوچھ تاچھ کی۔ سی بی آئی کی ٹیم گیسٹ ہاؤس میں ٹھہری ہوئی ہے ۔ذرائع کے مطابق ایجنسی ریا چکرورتی کے بھائی شووک سے بھی پوچھ تاچھ کرسکتی ہے۔ ایجنسی ممبئی پولیس کو دیئے شووک کے بیان کی جانچ کررہی ہے۔ادھر سی بی آئی کی ایک ٹیم باندرا پولیس اسٹیشن پہنچی ہے۔یہ ٹیم پوسٹ مارٹم رپورٹ،فارنسک رپورٹ اورچھپن گواہوں کے بیانات اکھٹا کرے گی۔


سشانت سنگھ راجپوت کیس کی جانچ فی الحال سی بی آئی کررہی ہے ۔ اس کیس میں سی بی آئی کی ٹیم ابھی تک کئی لوگوں سے پوچھ گچھ کرنے کے ساتھ ہی کرائم سین کو ری کرئیٹ بھی کرواچکی ہے ۔ سشانت سنگھ راجپوت موت معاملہ کی جانچ سی بی آئی نے شروع کردی ہے ۔ اسی درمیان ہفتہ کو سشانت کی سات صفحات کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آئی ہے ۔ پانچ ڈاکٹروں کی ٹیم نے رپورٹ لکھی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق سشانت کی گردن پر 33 سینٹی میٹر کے گہرے نشان تھے اور ان کی زبان باہر نہیں ہوئی تھی ۔ دانت ٹھیک تھے ، جسم پر کوئی چوٹ کے نشان نہیں تھے ۔ رپورٹ کے مطبق ان کی آنکھوں کی پلک جزوی طور سے کھلی تھیں اور جسم کے کسی بھی حصہ کی ہڈی ٹوٹی ہوئی نہیں تھی ۔


رپورٹ کے مطابق منہ یا کان سے جھاگ یا خون نہیں نکل رہا تھا ۔ سشانت کے سبھی داخلی اعضا صحیح تھے ۔ ان کے گردن کی گولائی 49.5 سینٹی میٹر تھی جبکہ گلے کے نیچے 33 سینٹی میٹر کا لمبا گہرا نشان تھا ۔ رپورٹ کے مطابق رسی کا نشانہ ٹڈی سے 8 سینٹی میٹر نیچے تھا ۔ گلے کے دائیں جانب نشان کی موٹائی ایک سینٹی میٹر تھی ۔ گلے کی بائیں جانب نشان کی موٹائی 3.5 سینٹی میٹر تھی ۔ تصویر : سشانت سنگھ انسٹاگرام ۔ ادھر ان سب کے درمیان سشانت کے والد کے وکیل وکاس سنگھ نے اس رپورٹ پر سوالات کھڑے کردئے ہیں ۔




ان کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں ان کی موت کا وقت کیوں نہیں درج ہے ۔ یہ رپورٹ کا سب سے اہم حصہ ہوتا ہے ۔ انہوں نے موت سے پہلے جوس اور ناریل کا پانی پیا تھا ، مگر سشانت کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اس کا کوئی تذکرہ نہیں ہے ۔ رپورٹ کے مطابق منہ یا کان سے جھاگ یا خون نہیں نکل رہا تھا ۔ سشانت کے سبھی داخلی اعضا صحیح تھے ۔ ان کے گردن کی گولائی 49.5 سینٹی میٹر تھی جبکہ گلے کے نیچے 33 سینٹی میٹر کا لمبا گہرا نشان تھا ۔ رپورٹ کے مطابق رسی کا نشانہ ٹڈی سے 8 سینٹی میٹر نیچے تھا ۔ گلے کے دائیں جانب نشان کی موٹائی ایک سینٹی میٹر تھی ۔ گلے کی بائیں جانب نشان کی موٹائی 3.5 سینٹی میٹر تھی ۔

سشانت سنگھ راجپوت موت معاملہ کی جانچ سی بی آئی نے شروع کردی ہے ۔ اسی درمیان ہفتہ کو سشانت کی سات صفحات کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آئی ہے ۔ پانچ ڈاکٹروں کی ٹیم نے رپورٹ لکھی ہے ۔ تصویر : سشانت سنگھ انسٹاگرام ۔
سشانت سنگھ راجپوت موت معاملہ کی جانچ سی بی آئی نے شروع کردی ہے ۔ اسی درمیان ہفتہ کو سشانت کی سات صفحات کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آئی ہے ۔ پانچ ڈاکٹروں کی ٹیم نے رپورٹ لکھی ہے ۔ تصویر : سشانت سنگھ انسٹاگرام ۔


ادھر ان سب کے درمیان سشانت کے والد کے وکیل وکاس سنگھ نے اس رپورٹ پر سوالات کھڑے کردئے ہیں ۔

ان کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں ان کی موت کا وقت کیوں نہیں درج ہے ۔ یہ رپورٹ کا سب سے اہم حصہ ہوتا ہے ۔ انہوں نے موت سے پہلے جوس اور ناریل کا پانی پیا تھا ، مگر سشانت کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اس کا کوئی تذکرہ نہیں ہے ۔

وکیل وکاس سنگھ کا دعوی ہے کہ جوس اور ناریل پانی تو ان کے پیٹ میں ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں کئی گڑبڑیاں ہیں ۔ سشانت کے کمرے میں ٹول یا ٹیبل نہیں تھا تو کیسے انہوں نے خودکشی کرلی ۔ ادھر سی بی آئی نے پوسٹ مارٹم رپورٹ کی جانچ کرنے کیلئے ایمس دہلی کے ڈاکٹروں کی مدد لی ہے ۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت ک وقت کا تذکرہ کیوں نہیں ہے ۔

وکاس سنگھ نے کہا ہے کہ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ سشانت کا پوسٹ مارٹم صحیح طریقہ سے نہیں ہوا یا پھر رپورٹ صحیح نہیں لکھی گئی ۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ سی بی آئی کی جانچ میں سب واضح ہوجائے گا ۔ اطلاعات کے مطابق سی بی آئی کی ایک ٹیم نے ہفتہ کو ممبئی کے کوپر اسپتال کا بھی دورہ کیا تھا ، جہاں سشانت کا پوسٹ مارٹم ہوا تھا ۔ ٹیم نے کوپر اسپتال کے ڈین سے ملاقات کی تھی اور کہا کہ افسران ان ڈاکٹروں سے بھی ملیں گے ، جنہوں نے پوسٹ مارٹم کیا تھا ۔

ممبئی پولیس نے سشانت سنگھ راجپوت معاملے کی اسٹیٹس رپورٹ سپریم کورٹ میں دے دی ہے۔
ممبئی پولیس نے سشانت سنگھ راجپوت معاملے کی اسٹیٹس رپورٹ سپریم کورٹ میں دے دی ہے۔


قابل ذکر ہے کہ بالی ووڈ اداکار سشانت سنگھ راجپوت کی موت کے معاملہ میں ہر دن نئے انکشافات ہورہے ہیں ۔ ہر کوئی یہ جاننے کی کوشش کررہا ہے کہ آخر 14 جون کو سشانت کے فلیٹ میں کیا ہوا تھا ۔واقعہ والے دن سشانت سنگھ راجپوت کے کمرے کے دروازے کا تالا کھولنے والے چابی والے نے اس پورے معاملہ میں کئی بڑے راز کھولے ہیں ۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق محمد رفیع شیخ نام کے چابی والے نے سشانت کے کمرے کا تالا کھولا تھا ۔ رفیع شیخ نے بتایا کہ 14 جون کو سدھارتھ پٹھانی کے فون کرنے پر وہ سشانت کے فلیٹ میں پہنچا تھا ۔ حالانکہ اس نے بتایا کہ اس کو اس بات کا بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ فلیٹ سشانت سنگھ راجپوت کا ہے ۔ رفیع نے بتایا کہ جب وہ سشانت کے کمرے کے پاس پہنچا تو اس نے دیکھا کہ دروازے پر کمپیوٹرائز کی والا لاک لگا ہے ۔

رفیع شیخ نے بتایا کہ اس وقت سشانت کے فلیٹ میں چار لوگ موجود تھے ۔ اس نے بتایا کہ تالا توڑنے کے بعد اس کو فورا وہاں سے جانے کیلئے کہہ دیا گیا تھا اور اس وقت تک واقعہ کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں تھی ۔ رفیع نے بتایا کہ جیسے ہی سشانت کے کمرے کا تالا ٹوٹا اور میں نے دروازہ کھولنے کی کوشش کی تو وہاں موجود لوگوں نے مجھے کچھ دیکھنے ہی نہیں دیا ۔ دروازہ کھلتے ہی وہاں موجود لوگ مجھے باہر لے آئے اور وہاں سے جانے کیلئے کہہ دیا ۔ رفیع شیخ نے بتایا کہ اس دن چاروں میں سے کوئی بھی گھبرایا ہوا نہیں لگ رہا تھا ۔ ہر کوئی صرف یہی چاہتا تھا کہ میں دروازہ کھول دوں رفیع نے بتایا کہ انہوں نے کہا تھا کہ پیسے کی کوئی ٹینشن نہیں ہے بس دروازہ کھلنا چاہئے ۔ خواہ اس کو توڑنا ہی کیوں نہ پڑے ۔
Published by: sana Naeem
First published: Aug 23, 2020 01:57 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading