உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Dev Anand Birth Anniversary: ثریا کو ڈوبنے سے بچاتے بچاتے دیو آنند کو ہوگیا تھا عشق، ڈائمنڈ کی انگوٹھی دے کر کیا تھا پرپوز

    ثریا کو ڈوبنے سے بچاتے بچاتے دیو آنند کو ہوگیا تھا عشق، ڈائمنڈ انگوٹھی دے کر کیا تھا پرپوز

    ثریا کو ڈوبنے سے بچاتے بچاتے دیو آنند کو ہوگیا تھا عشق، ڈائمنڈ انگوٹھی دے کر کیا تھا پرپوز

    دیو آنند (Dev Anand) کے والدین نے اپنے بیٹے کا نام دھرم دیو پشوری مل آنند رکھا تھا۔ بعد میں فلمی دنیا میں انہیں دیو آنند کے نام سے جانا گیا۔ تقریباً 6 دہائی تک ہندی فلم انڈسٹری کا حصہ رہے دیو آنند فلموں میں آنے سے پہلے ممبئی کے ایک اکاونٹنسی فرم میں نوکری کیا کرتے تھے۔ یہ نوکری راس نہیں آئی تو دوسری جگہ بھی نوکری کی، لیکن جلد ہی فلمی دنیا کی راہ پکڑ لی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      ممبئی: ہندی فلم انڈسٹری میں دیو آنند (Dev Anand) ایک ایسے خوبصورت اداکار تھے، جن کے لئے لڑکیاں جان دے دیا کرتی تھیں۔ دیو آنند کی ایک جھلک پانے کے لئے لڑکیاں بے قرار رہا کرتی تھیں۔ دیوانگی کا عالم یہ تھا کہ دیو آنند جس راہ سے گزرتے تھے، دیکھنے والوں کی لائن لگ جاتی تھی۔ 26 ستمبر 1923 کو پنجاب کے شنکر گڑھ (اب پاکستان میں ہے) میں پیدا ہوئے دیو آنند کے لئے کہا جاتا ہے کہ انہیں کالے کپڑے پہن کر گھر سے باہر نکلنے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ بلیک کورٹ میں وہ اتنے جاذب لگتے تھے کہ لڑکیاں چھت سے کود جایا کرتی تھیں۔ ایسے سدا بہار اداکار کے یوم پیدائش پر (Dev Anand birth anniversary) ان سے جڑے کچھ قصے بتاتے ہیں۔

      دیو آنند فلموں سے پہلے کرتے تھے نوکری

      دیو آنند کے والدین نے اپنے بیٹے کا نام دھرم دیو پشوری مل آنند رکھا تھا۔ بعد میں فلمی دنیا میں انہیں دیو آنند کے نام سے جانا گیا۔ تقریباً 6 دہائی تک ہندی فلم انڈسٹری کا حصہ رہے دیو آنند فلموں میں آنے سے پہلے ممبئی کے ایک اکاونٹنسی فرم میں نوکری کیا کرتے تھے۔ یہ نوکری راس نہیں آئی تو دوسری جگہ بھی نوکری کی، لیکن جلد ہی فلمی دنیا کی راہ پکڑ لی۔

      دیو آنند کا پہلا پیار ثریا تھیں

      جس دیو آنند پر لاکھوں لڑکیان مر مٹنے کے لئے تیار تھیں، وہ ثریا سے محبت کرتے تھے۔ 1948 میں دیو آنند اور ثریا کی پہلی ملاقات فلم ’ودیا‘ کے سیٹ پر ہوئی تھی۔ ثریا کی خوبصورتی اور سادگی سے آنند دیو اس قدر متاثر ہوئے کہ انہیں دل دے بیٹھے۔ ثریا بھی خوبصورت اداکار سے دل لگا بیٹھیں۔ میڈیا کی خبروں کی مانیں تو دیو آنند نے ایک بار خود بتایا تھا کہ ’ایک فلم کے گانے کی شوٹنگ جھیل میں ہو رہی تھی۔ ہم ایک کشتی میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک پھسل کر ثریا پانی میں جاگریں۔ میں نے پانی میں کود کر انہیں ڈوبنے سے بچا لیا۔ ہاں میں ثریا سے پیار کرتا تھا، ہم سب جانتے ہیں کہ پہلا پیار کسی کی زندگی میں کیا اہمت رکھتی ہے‘۔

      میڈیا کی خبروں کی مانیں تو دیو آنند نے ایک بار خود بتایا تھا کہ ’ایک فلم کے گانے کی شوٹنگ جھیل میں ہو رہی تھی۔ ہم ایک کشتی میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک پھسل کر ثریا پانی میں جاگریں۔ میں نے پانی میں کود کر انہیں ڈوبنے سے بچا لیا۔ ہاں میں ثریا سے پیار کرتا تھا، ہم سب جانتے ہیں کہ پہلا پیار کسی کی زندگی میں کیا اہمت رکھتی ہے‘۔
      میڈیا کی خبروں کی مانیں تو دیو آنند نے ایک بار خود بتایا تھا کہ ’ایک فلم کے گانے کی شوٹنگ جھیل میں ہو رہی تھی۔ ہم ایک کشتی میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک پھسل کر ثریا پانی میں جاگریں۔ میں نے پانی میں کود کر انہیں ڈوبنے سے بچا لیا۔ ہاں میں ثریا سے پیار کرتا تھا، ہم سب جانتے ہیں کہ پہلا پیار کسی کی زندگی میں کیا اہمت رکھتی ہے‘۔


      دیو آنند نے اس زمانے میں ڈائمنڈ رنگ سے پرپوز کیا تھا

      اس کے بارے میں ثریا نے بھی بتایا تھا ’جب دیو آنند نے مجھے ڈوبنے سے بچالیا تھا تو میں نے کہا کہ اگر تم نہیں ہوتے تو میری جان نہیں بچتی، اس پر دیو آنند نے کہا کہ اگر تمہاری زندگی نہیں ہوتی تو میری بھی نہیں ہوتی۔ ہم دونوں پیار میں پڑ گئے تھے‘۔ کہتے ہیں کہ دیو آنند نے اس زمانے میں تین ہزار روپئے کی ہیرے کی انگوٹھی دے کر ثریا کو پرپوز کیا تھا۔

      ہندو دیو آنند سے ثریا کی نانی نے نہیں کرنے دی شادی

      دیو آنند اور ثریا جہاں ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار تھے، لیکن فیملی والے اس کے خلاف تھے، خاص طور پر ثریا کا رشتہ کسی ہندو لڑکے کے ساتھ منظور نہیں تھا۔ ایک بار گھر سے بھاگ کر شادی کرنے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن نانی کو اس بات کا پتہ چل گیا اور تیاریاں رکھی کی رکھی رہ گئیں۔ کہتے ہیں کہ ثریا ہمت نہیں کر پائیں اور اس طرح یہ رشتہ ختم ہوگیا۔ دیو آنند نے کافی وقت بعد کلپنا کارتک سے شادی کی۔ دیو آنند اور کلپنا کے سنیل آنند اور دیوینا آنند نام کے دو بچے ہوئے۔ لمبے وقت تک سب کی تفریح کرنے کے بعد 3 دسمبر 2011 کو سب کو غمگین کرکے دیو صاحب نے دنیا کو الوداع کہہ دیا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: