ہوم » نیوز » انٹرٹینمنٹ

Dilip Kumar: فروٹ کے کاروباری سے شہنشاہِ جذبات بننے تک کا سفر،محمد یوسف خان کو کیسے ملی فلموں میں انٹری؟

ہندوستان کے عظیم فنکار اور شہنشاہ جذبات کے نام سے مشہور دلیپ کمار کا 98 برس کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ ان کا علاج کر رہے ڈاکٹر جلیل پارکر نے ان کی موت کی تصدیق کی ہے۔ دلیپ کمار کافی دنوں سے علیل چل رہے تھے اور ان کا ممبئی کے ہندوجا اسپتال میں علاج چل رہاتھا۔

  • Share this:
Dilip Kumar: فروٹ کے  کاروباری سے  شہنشاہِ جذبات  بننے تک  کا سفر،محمد یوسف  خان کو کیسے  ملی فلموں میں انٹری؟
ہندوستان کے عظیم فنکار اور شہنشاہ جذبات کے نام سے مشہور دلیپ کمار عرف محمد یوسف خان کے فلمی سفر پر ایک نظر

مضمون نگار: ایس اے جواد میر، سینئر صحافی گلبرگہ کرناٹک


بات 1943 کی ہے۔ اُ سوقت کی سپراسٹار ریویکا رانی اپنی فلموں کیلئے لوکیشن دیکھنے کیلئے نینی تال آئی ہوئی تھیں۔ جہاں انکی نظر ایک دبلے پتلے لمبے پٹھانی قد قامت والے 21سالہ خوبرو نوجوان پر پڑی۔ جو اپنے ڈرائی فروٹ کے کاروبار کے سلسلے میں نینی تال آیا ہوا تھا۔پہلی ہی جھلک میں دیویکا رانی اس نوجوان کی خوبصورتی سے متاثر ہوئی اور نوجوان کو اپنا وزٹنگ کارڈ تھما دیااور کہا بامبے واپس لوٹنے پر آکر ان سے ملاقات ضرور کریں۔ ان دنوں دیویکا رانی، بامبے ٹاکیز کے بینر تلے ایک نئی فلم بنانے کی تیاری کر رہی تھیں۔ اسکے لئے انھیں ایک نئے چہرے کی تلاش تھی۔ نوجوان نے بامبے واپس آکر دیویکارانی سے ملاقات کی تو نوجوان کو فلم آفر ہوئی۔ سال1944 میں جوار بھاٹا کے نام فلم بن کر تیار ہوئی اور اسی فلم سے ہندی فلمی دنیا کے سامنے ایک خوبصورت ادکار متعارف ہوا۔ جس کا نام دیویکا رانی نے دلیپ کمار رکھا۔ آگے جا کر یہی دلیپ کمار ہندی فلمی صنعت کا نا قابل فراموش نام بن گیا۔ جس نے کئی نسلوں کو متاثر کیا۔ جس کی اداکاری کی نقل کرکے کئی ایک ادکاروں نے کامیابی کے جھنڈے گاڑ دئے۔


ابتدائی کچھ سالوں تک دلیپ کمار کچھ خاص شناخت بنانے میں ناکام رہے ۔سال۱۹۴۷ دلیپ کمار کی زندگی کا ٹرننگ ائیر ثابت ہوا۔ اس سال دلیپ کمار کی فلم جگنو ریلیز ہوئی جو کہ پہلی ہٹ فلم ثابت ہوئی۔ یہاں سے دلیپ کمار نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔بابل، ترانہ، ہلچل، دیدار، داغ اڑن کھٹولہ، دیدار، دیوداس، یہودی جیسی فلموں نے دلیپ کمار کو ہندی فلموں کے سب سے کامیاب ہیرو کے طور پرثابت کیا۔ سال۱۹۶۰میں آئی فلم مغل اعظم نے دلیپ کمار کو کامیابی کی معراج پر پہنچا دیا۔ شہزادہ سلیم کے کردار میں اپنے مخصوص لہجے میں ادا کئے دلیپ کمار کےء ڈائیلاگ آج بھی عام و خاص کے زبان پر بھی ہیں۔ اپنی ادکارانہ صلاحیتوں مخصوص لب ولہجے سے دلیپ کمار نے شہزادہ سلیم کے کردار و لافانی و زندہ جاوید بنا دیا۔ اپنے کیرئیر کے شروعات میں دلیپ کمار نے جذباتی اور غمزدہ فلمیں کی۔ جس کی وجہ سے انکو ٹریجڈی کنگ کے خطاب سے نوازا گیا۔



اپنی دھیمی آواز میں جب غم کا عنصر ڈال کر اپنے لہجے میں اتار چڑھاؤ لاتے تو سننے والا بھی مغموم ہوجاتا تھا۔ اداکاری کے دوران چہرے پر غم اور کرب کے ایسے تاثرات لاتے آواز میں ایسی نمی لاتے کہ فلم دیکھنے والا انکا مداح بھی اپنے محبوب اداکار کادرد محسوس کرتا۔ بطور ہیرو اسکرین پر سب سے زیادہ انتقال کرنے کا ریکارڈ دلیپ کمار کے نام ہی ہے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا تھا کہ جذباتی و غمزدہ فلمیں کرنے سے دلیپ کمار خود ڈیریشن کا شکار ہو گئے تھے۔ جس کے بعد انھیں ماہرین نفسیات نیہلی پھلکی کامیڈی والی فلمیں کرنے کا مشورہ دیا۔ جس کے بعد انھوں نے رام شیام، گوپی جیسے فلمیں کی۔

دلیپ کمار کے ہم اثر اداکاروں راج کپور پر چارلی چیپلین اور دیوآنند پر ہالی ووڈ اداکار گرگری پیک کی نقل کرنے کا الزام لگا تاہم دلیپ کمار اپنی ادکارانہ صلاحیتوں سے خود اپنی شناخت قائم کی۔ فلم فیئر کا پہلا بیسٹ ایکٹر ایوارڈ بھی دلیپ کمار نے ہی جیتا۔ کل سات بار یہ ایوارڈ دلیپ کمار کے حصے میں آیا۔

وقت اور عمر کے ساتھ ساتھ دلیپ کمار نے خود کو بھی بدلا اور اپنے کرداروں کو بھی بدلا۔ عمر کی چھٹی دہائی میں دلیپ کمار نے ودھاتا، مزدور، مشعل، شکتی اور کرماجیسی فلموں میں کام کیا۔ جن کا مرکزی کردار و ہ خود تھے۔ بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ دلیپ کمار نے فلموں میں کام کرنا کم کر دیا۔ سال ۱۹9۱ میں سبھاش گھئی کی ہدایت میں بنی فلم سوداگر دلیپ کمار کی آخری بلاک بسٹر فلم تھی۔ اسکے بعد سال 1998 میں آئی فلم قلعہ میں دلیپ کمار آخری بار دیکھے گئے تھے۔

اپنے نوجوانی کے ایام میں دلیپ کمار کافی رومانوی بھی تھے۔کئی ایک خوبصورت ادکاراؤں کے ساتھ دلیپ کمار کا نام جوڑا گیا۔ مدھوبالا سے انکی عشق کی داستان پر کئی ایک کتابیں بھی لکھی جا چکی ہیں۔ محمدرفیع کی آواز کو اسکرین پر پہنچان دلانے کا سہرا بھی دلیپ کمار کے سر جاتا ہے۔ لیجنڈٖری اداکار اپنی عمر کے اٹھانوے بہاریں دیکھ چکے ہیں۔ گیارہ ڈسمبر 1922 کو غیر منقسم ہندوستان کے شہر پشاور میں انکی پیدائش ہوئی تھی۔1935میں انکا خاندان پشاور سے ہجرت کرکے بامبے منتقل ہو گیا تھا۔ دلیپ کمار نے ابتدائی تعلیم انجمن اسلام ادارے سے حاصل کی۔ بعد ازاں کرافورڈ مارکٹ میں انھوں نے فروٹ کی دکان لگائی تاہم والد غلام سرور سے تنازعے کے بعد انھوں نے پونے میں ایک فوجی کینٹن بھی چلائی۔ دلیپ کمار کی اداکاری اور انکی زندگی میں مختلف زبانوں میں کئی ایک کتابیں بھی لکھی جا چکی ہیں۔

مضمون نگار: ایس اے جواد میر، سینئر صحافی گلبرگہ کرناٹک
Published by: Mirzaghani Baig
First published: Jul 07, 2021 03:46 PM IST