உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    شہنشاہ جذبات دلیپ کمار 18 سال پرانے چیک باؤنسنگ مجرمانہ کیس میں باعزت بری

    ممبئی: ممبئی کی مقامی عدالت نے آج یہاں شہنشاہ جذبات دلیپ کمار کو18 سالہ پرانے چیک باؤنسنگ کے ایک مجرمانہ معاملے میں باعزت بری کئے جانے کا حکم جاری کیا۔ مقامی گرگام عدالت کے مجسٹریٹ بی ایس کھرڈے نے یہ حکم جاری کیا اور دلیپ کمار کے ہمراہ ایک دوسرے ملزم کو بھی باعزت بری کیا۔

    ممبئی: ممبئی کی مقامی عدالت نے آج یہاں شہنشاہ جذبات دلیپ کمار کو18 سالہ پرانے چیک باؤنسنگ کے ایک مجرمانہ معاملے میں باعزت بری کئے جانے کا حکم جاری کیا۔ مقامی گرگام عدالت کے مجسٹریٹ بی ایس کھرڈے نے یہ حکم جاری کیا اور دلیپ کمار کے ہمراہ ایک دوسرے ملزم کو بھی باعزت بری کیا۔

    ممبئی: ممبئی کی مقامی عدالت نے آج یہاں شہنشاہ جذبات دلیپ کمار کو18 سالہ پرانے چیک باؤنسنگ کے ایک مجرمانہ معاملے میں باعزت بری کئے جانے کا حکم جاری کیا۔ مقامی گرگام عدالت کے مجسٹریٹ بی ایس کھرڈے نے یہ حکم جاری کیا اور دلیپ کمار کے ہمراہ ایک دوسرے ملزم کو بھی باعزت بری کیا۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      ممبئی: ممبئی کی مقامی عدالت نے آج یہاں شہنشاہ جذبات دلیپ کمار کو18 سالہ پرانے چیک باؤنسنگ کے ایک مجرمانہ معاملے میں باعزت بری کئے جانے کا حکم جاری کیا۔ مقامی گرگام عدالت کے مجسٹریٹ بی ایس کھرڈے نے یہ حکم جاری کیا اور دلیپ کمار کے ہمراہ ایک دوسرے ملزم کو بھی باعزت بری کیا۔


      ماضی میں ہندوستانی فلموں کی جان سمجھے جانے والے 94 سالہ فلم اداکار آج عدالت میں حاضر نہیں تھے البتہ ان کے وکلاء عدالت میں حاضر تھے۔ دلیپ کمار ایک نجی کمپنی جے کے ایگزم انڈیا کے اعزازی چیرمین تھے اورکمپنی نے سیکڑوں افراد سے ہزاروں کروڑ روپیہ کا سرمایہ حاصل کیا تھا بعد میں اس نے1998 میں سرمایہ کاروں کو ان کی رقم بذریعہ چیک واپس کی تھی لیکن وہ چیک باؤنس ہوگیا تھا۔


      سرمایہ کاروں نے چیک باؤنسنگ کے بعد دلیپ کمار سمیت کمپنی کے دیگر عہدے داران کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا جس میں سے دو عہدے داران کو عدالت نے سزا سنائی تھی لیکن دلیپ کمار اور ایک دیگر ڈائرکٹر نے عدالت میں عرضداشت داخل کی تھی اور عدالت کو بتایا تھا کہ وہ کمپنی کے صرف اعزازی عہدے پر فائز تھے اور کمپنی کے روزانہ کے امور سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں تھا۔


      بالکل ہندی فلموں کی طرح آج گرگام عدالت کے14 نمبر عدالت میں جب دلیپ کمار کے مقدمہ کی سماعت کا آغاز ہوا تو عدالتی اہلکار نے ملزمین کے نام پڑھ کر سنایا اور ملزمین نے محمد یوسف خان عرف دلیپ کمار کے نام کا اعلان کیا۔


      دلیپ کمار کے نام کے اعلان کے بعد عدالت میں موجود تمام افراد کی نگاہیں کمرہ عدالت کے داخلی دروازہ پر مرکوز ہوگئی اور وہ یہ توقع کر رہے تھے کہ دلیپ کمار عدالت میں حاضر ہوں گے ،اسی درمیان دلیپ کمار کے وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ فلم اداکار کو خراب صحت کی بنیاد پر عدالت میں حاضری سے مستثنیٰ قراردیا گیا ہے لہٰذا ان کا کے مقدمہ کا فیصلہ ان کی غیر موجودگی میں سنایا جائے۔


      مجسٹریٹ کھرڈے نے فیصلہ سناتے ہوئے دلیپ کمار کو باعزت بری کئے جانے کا اعلان کیا۔ پدم وبھوشن ایوارڈ یافتہ دلیپ کمار علیل ہیں اور وہ بستر علالت پر ہی پڑے ہوئے ہیں ۔غالباً یہ ان کی زندگی کا آخری مقدمہ تھا ، جب کسی معاملے میں عدالت میں ان نام کا بطور ملزم آیا تھا۔


      دوران مقدمہ اتر پردیش کے خلیل آباد ضلع سے تعلق رکھنے والے ان کے ایک مدح افضل بادشاہ بھی عدالت میں موجود تھے اور دلیپ صاحب کے باعزت بری کئے جانے پر انہوں نے مسرت کا اظہار کیا اور جوں ہی مجسٹریٹ نے دلیپ کمار کو باعزت بری کیا ، افضل بادشا ہ نے قریب کی ایک دکان سے مٹھائی لاکر عدالت کے احاطہ میں تقسیم کی۔


      دلیپ کمار کے خلاف چلنے والے اس مقدمہ کو لیکر ان کی فلم اداکار اہلیہ سائرہ بانوں نے بھی ٹیوٹر پر اس کی اطلاع دی تھی اور نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ خدا اس معاملے سے دلیپ کمار کو باعزت بری کرے۔



      اطلاع کے مطابق دلیپ کمار کے باعزت بری کئے جانے کی اطلاع سائرہ بانو نے دلیپ کمار کو دی جس کے بعد دلیپ کمار نے صرف ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ مسرت کا اظہار کیا۔

      First published: