ہوم » نیوز » انٹرٹینمنٹ

سالگرہ پر خصوصی : دلیپ کمار کا المیہ کردار اور سانحہ قصہ خوانی بازار

ممبئی : آج سے کوئی 93 سال قبل پشاور کے قصہ خوانی بازار میں جو اب پاکستان میں ہے رات میں گئے آگ لگ گئی۔ سناروں کی گلیوں سے پھیلنے والی آگ کے شعلے جب دور تک پھیلنے لگے تو حیران و پریشان پٹھانوں نے اپنے طور پر آگ بجھانے کی کوشش میں بالٹیوں میں پانی بھر بھر کر پھینکنا شروع کیا۔

  • UNI
  • Last Updated: Dec 11, 2015 12:59 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
سالگرہ پر خصوصی : دلیپ کمار کا المیہ کردار اور سانحہ قصہ خوانی بازار
ممبئی : آج سے کوئی 93 سال قبل پشاور کے قصہ خوانی بازار میں جو اب پاکستان میں ہے رات میں گئے آگ لگ گئی۔ سناروں کی گلیوں سے پھیلنے والی آگ کے شعلے جب دور تک پھیلنے لگے تو حیران و پریشان پٹھانوں نے اپنے طور پر آگ بجھانے کی کوشش میں بالٹیوں میں پانی بھر بھر کر پھینکنا شروع کیا۔

ممبئی : آج سے کوئی 93 سال قبل پشاور کے قصہ خوانی بازار میں جو اب پاکستان میں ہے رات میں گئے آگ لگ گئی۔ سناروں کی گلیوں سے پھیلنے والی آگ کے شعلے جب دور تک پھیلنے لگے تو حیران و پریشان پٹھانوں نے اپنے طور پر آگ بجھانے کی کوشش میں بالٹیوں میں پانی بھر بھر کر پھینکنا شروع کیا۔


وہیں ایک خوبصورت حویلی میں ایک خاتون اس وقت درد زہ سے گزر رہی تھیں ۔ تھوڑی ہی دیر میں معاونت کرنے والی داعی نے نئے مہمان کی آمد کا اعلان کیا۔ وہ تھے یوسف خاں جنہوں نے دلیپ کمار کی شناخت کے ساتھ ہندوستانی پردۂ سیمیں پر عہد بہ عہدراج کیا۔


دلیپ کمار کی دادی اکثر یہ واقعہ سنایا کرتی تھیں جو اس جملے پر ختم ہوتا تھا کہ ’’ اور عائشہ کا سونا بیٹا یوسف تشریف لے آیا ‘‘۔ عالمی سنیما کی عظیم شخصیت دلیپ کمار 1922 میں 11 نومبر کو شمال مغرب پشاورمیں پیدا ہوئے ۔ ان کی پیدائش کا پورے خاندان نے جشن منایا۔ ان کی والدہ عائشہ بیگم اور والد سرور خاں جو میوہ جات کے تاجر تھے، دلیپ کمار کے پیدا ہونے پر مالک حقیقی کے انتہائی ممنون تھے۔


دلیپ کمار کی آنکھیں اتنی پرکشش تھیں کہ ہر گزرنے والے دن کے ساتھ وہ دیکھنے والوں کو اپنا گرویدہ بناتے گئے۔ دلیپ کمار جب پانچ سال کے ہوئے تو محلے سے گزرنے والے ایک فقیر سے ان کی آنکھیں ملیں ۔ فقیر نے دلیپ کمار کو غور سے دیکھا جس کے بعد ان کی زندگی میں تبدیلیاں آنے شروع ہوگئیں۔


فقیر نے دلیپ کمار کی دادی سے کہا کہ اگر یہ بچہ زندہ رہ جاتا ہے تو یہ خاندان کی شہرت کا سبب بنے گا لیکن اثبات کا بھی ڈر ہے کہ اسے کہیں نظرنہ لگ جائے ،لہذا اس کی حفاظت کی جانی چاہیے۔ فقیر نے ایک نسخہ بتایا کہ دلیپ کمار کی خو بصورتی کو بری نظر سے بچانے کے لئے اسے ہمیشہ کالا ٹیکا لگاکر رکھیں۔’’اس بچے کو انتہائی شہرت اور بے مثال کامیابیوں کے لئے خلق کیاگیا ہے اور یہ بچہ بری نظر سے بچا رہا تو بڑھاپے میں بھی خوبصورت نظر آئے گا‘‘۔


یہ ساری باتیں کسی اور کی بیان کی ہوئی نہیں بلکہ خود دلیپ کمار کی بیان کردہ ہے جو ان کی سوانح میں موجود ہے۔ انہوں نے رائٹراودیترا نیا سے بات چیت میں یہ واقعہ سنائے تھے۔


اپنی آپ بیتی کو والدین (اماں اور آغاجی) کے نام منسوب کرتے ہوئے دلیپ کمار کہتے ہیں کہ’’ سکون دل کے لئے کچھ تو اہتمام کروں۔ ذرا نظر جو ملے پھر انہیں سلام کروں،مجھے تو ہوش نہیں آپ مشورہ دیجئے۔کہاں سے چھیڑوں فسانہ کہاں تمام کروں۔


فقیر کی ہدایت پر دادی نے دلیپ کمار کا سرمنڈوادیا اور روزانہ ان کے ماتھے پر بڑا سا کالا ٹیکہ لگانے لگیں۔ وہ اسی حالت میں اسکول جاتے تھے جہاں دوسرے بچے انہیں چھیڑتے تھے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے۔ دلیپ کمار کو ان باتوں سے سخت چڑھ پیدا ہونے لگی۔ انہوں نے دادی سے یہ سلسلہ بند کرنے کو کہا لیکن وہ ایک نہیں مانیں۔ اس حوالے سے گھر میں کئی بار تلخی بھی پیدا ہوئی لیکن معاملہ جوں کا توں رہا یعنی کالا ٹیکہ ماتھے کا حصہ بنا رہا۔


اپنے زندگی کے اس دور کے اثرات دلیپ کمار نے کچھ اس طرح بیان کئے ہیں کہ ان کی دادی کو فقیر کی باتوں پر اندھا یقین ہوگیا تھا جس کی وجہ سے وہ انہیں بد شکل بناتی رہیں اور وہ تکلیف جھیلتے رہے ۔اسکول میں بچوں کی بھیڑ میں وہ خود کو تنہا پاتے تھے ۔


اپنے فلمی کیریئر کے آغاز میں اپنے غم انگیز کردار کو انہوں نے اسی عہد سے جوڑا ہے ۔ بعد میں دلیپ کمار شہنشاہِ جذبات اور ٹریجڈی کِنگ بن کر اُبھرے ۔اپنے زندگی کے اس تجربے کو انہوں نے اپنی کتاب میں سطر بہ سطر لکھا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ انسانی ذہن کے اندر تجربات کو محفوظ رکھنے اور پھر حسب موقع ان سے استفادہ کرنے کی خاطر خواہ صلاحیت ہے۔


دلیپ کمار کی زندگی ویسے بھی عام فلمی ستاروں سے الگ رہی وہ ایک بڑے ادا کارہ ہی نہیں بلکہ روا داری ، وضع داری اور خدمت انسانی کے فروغ علمبردار بھی ہیں ۔ چنئی میں بدترین آفات سماوی کو شدت سے محسوس کرتے ہوئے انہوں نے اس مرتبہ اپنی سالگرہ کو تقریب کی شکل دینے سے منع کردیا۔


فقیر کی ہدایت پر دادی نے دلیپ کمار کا سرمنڈوادیا اور روزانہ ان کے ماتھے پر بڑا سا کالا ٹیکہ لگانے لگیں۔ وہ اسی حالت میں اسکول جاتے تھے جہاں دوسرے بچے انہیں چھیڑتے تھے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے۔ دلیپ کمار کو ان باتوں سے سخت چڑھ پیدا ہونے لگی۔ انہوں نے دادی سے یہ سلسلہ بند کرنے کو کہا لیکن وہ ایک نہیں مانیں۔ اس حوالے سے گھر میں کئی بار تلخی بھی پیدا ہوئی لیکن معاملہ جوں کا توں رہا یعنی کالا ٹیکہ ماتھے کا حصہ بنا رہا۔


اپنے زندگی کے اس دور کے اثرات دلیپ کمار نے کچھ اس طرح بیان کئے ہیں کہ ان کی دادی کو فقیر کی باتوں پر اندھا یقین ہوگیا تھا جس کی وجہ سے وہ انہیں بد شکل بناتی رہیں اور وہ تکلیف جھیلتے رہے ۔اسکول میں بچوں کی بھیڑ میں وہ خود کو تنہا پاتے تھے ۔


اپنے فلمی کیریئر کے آغاز میں اپنے غم انگیز کردار کو انہوں نے اسی عہد سے جوڑا ہے ۔ بعد میں دلیپ کمار شہنشاہِ جذبات اور ٹریجڈی کِنگ بن کر اُبھرے ۔اپنے زندگی کے اس تجربے کو انہوں نے اپنی کتاب میں سطر بہ سطر لکھا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ انسانی ذہن کے اندر تجربات کو محفوظ رکھنے اور پھر حسب موقع ان سے استفادہ کرنے کی خاطر خواہ صلاحیت ہے۔


دلیپ کمار کی زندگی ویسے بھی عام فلمی ستاروں سے الگ رہی وہ ایک بڑے ادا کارہ ہی نہیں بلکہ روا داری ، وضع داری اور خدمت انسانی کے فروغ علمبردار بھی ہیں ۔ چنئی میں بدترین آفات سماوی کو شدت سے محسوس کرتے ہوئے انہوں نے اس مرتبہ اپنی سالگرہ کو تقریب کی شکل دینے سے منع کردیا۔


جواربھاٹا میں پہلی مرتبہ دلیپ کمار نے ہیرو کا کردار ادا کیا۔ فلم کی عکس بندی کے ابتدائی مرحلے میں ہی ہدایت کار امیہ چکرورتی نے کہہ دیا تھا کہ یہ نوجوان ملک کا سب سے بڑا ادا کار بن کر ابھرے گا۔1945 میں پریتما اور 1946 میں ملن میں بھی دلیپ کمار محوری کردار میں رہے اور دیکھنے والوں کو متوجہ کرتے رہے۔ 1947 میں جگنو میں انہوں نے ملکہ ترنم نور جہاں کے ساتھ کام کیا۔ اس فلم نے دھوم مچا دی اور دلیپ کمار اسٹار بن گئے۔


1948 میں فلم میلہ میں نرگس ان کی ہیروئن تھیں ، موسیقار نوشاد نے اس فلم کے گانوں کو لافانی مقبولیت عطا کی ۔ اس فلم میں دلیپ کمار کی غم انگیز اداکاری لوگوں کے ذہنوں پر اس طرح چھائی کہ انہیں ان کے مداح ہر فلم میں المیہ کردار میں ہی دیکھنے کی خواہش کرنے لگے۔


دلیپ کمار کی یاد گار فلموں میں نیا دور مسافر،یہودی، مدومتی، پیغام، مغل اعظم، کوہِ نور، گنگا جمنا، لیڈر، دل دیا درد لیا، آدمی ، سنگھرش، رام اور شیام، سہینہ، گوپی، داستان، بیراگ کے نام نمایاں ہیں۔


انہوں نے سادھو اور شیطان انوکھا ملن ،کرانتی، ویدھاتا، شکتی، مزدور، دنیا، مشعل، دھرم ادھیکاری، کرما، قانون اپنا اپنا، سوداگر اور قلعہ میں بھی اپنے مختلف کردار کی زبردست چھاپ چھوڑی ۔

First published: Dec 11, 2015 12:58 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading