உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Dilip Kumar 1st Death Anniversary:بہت یاد آتے ہیں’مغل اعظم کے سلیم‘! ہر کردار کو زندہ جاوید کردیتے تھے دلیپ کمار

    دلیپ کمار اور سائرہ بانو۔ (فائل فوٹو)

    دلیپ کمار اور سائرہ بانو۔ (فائل فوٹو)

    Dilip Kumar 1st Death Anniversary: پانچ دہائیوں پر محیط اپنے فلمی کیریئر میں دلیپ کمار نے ایک سے بڑھ کر ایک سوپرہٹ فلمیں دیں، جن کی فہرست ایک طویل ہے۔ پدم بھوشن، پدم وبھوشن اور دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے نوازے جانے والے دلیپ کمار جیسا عظیم اداکار نہ کوئی تھا، نہ کوئی ہے۔

    • Share this:
      Dilip Kumar 1st Death Anniversary:محمد یوسف خان جنہیں ہم دلیپ کمار کے نام سے جانتے ہیں، انہیں دنیا سے رخصت ہوئے ایک سال گزر گیا ہے۔ دلیپ کمار کا انتقال 7 جولائی 2021 کو ہوا تھا۔ 11 دسمبر 1922 کو پاکستان کے شہر پشاور کے قصہ خوانی بازار کی گلیوں میں ایک بچہ پیدا ہوا جو ہندوستان کا چمکتا ہوا ستارہ بن گیا۔ جب دلیپ کمار نے ہندوستان کی سرزمین پر قدم رکھا تھا تو کس نے سوچا ہوگا کہ ایک دن ایسا آئے گا کہ لوگ انہیں پلکوں پر بٹھا دیں گے۔ اگر دلیپ کمار ایک سال اور زندہ رہتے تو اپنی سالگرہ کی سنچری مناتے۔ ان کی پہلی برسی پر آئیے آپ کو بتاتے ہیں پشاور سے ممبئی تک کا اُن کا سفر۔

      دلیپ کمار نے جدوجہد آزادی دیکھی تھی، اس لڑائی کا حصہ بنیں اور جدوجہد آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ جب انہوں نے آزادی کی جدوجہد کو جواز بنا کر برطانوی حکومت کے خلاف تقریریں کیں تو انہیں یرواڈا جیل بھیج دیا گیا جہاں کئی ستیہ گرہیوں کو رکھا گیا تھا۔ وہاں کے حالات دیکھ کر جیل میں ہی انہوں نے بھوک ہڑتال کر دی۔ ملک آزاد ہوا تو جشن منایا گیا۔ سب نے کھلی ہوا میں سانس لیا۔ دلیپ صاحب ہندی سنیما کے وہ فنکار تھے جنہوں نے تقسیم کے زخم بھی جھیلے تھے۔

      ہندوستان سے محبت کرتے تھے دلیپ کمار
      دلیپ کمار جس زمانے میں جوان ہوئے تھے وہ دور قیامت خیز تھا۔ تقسیم کے بعد وہ کبھی پشاور کے قصہ خوانی بازار میں اپنے گھر واپس نہیں گئے۔ جس ملک نے انہیں عزت و احترام دیا وہ آخری سانس تک اسی سرزمین سے جڑے رہے۔ ان کی موت پر حکومت نے انہیں ترنگے میں لپیٹ کر پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ الوداع کیا۔

      شہنشاہ جذبات دلیپ کمار
      دلیپ صاحب اس قدر جنونی تھے کہ انہیں جو بھی کردار دیا جاتا وہ اس پر عمل کرتے تھے۔ فلم 'گنگا جمنا' میں دیہاتی انداز ہو یا مغل اعظم کا شہزادہ سلیم۔ ہر کہانی اور ہر کردار میں پرفیکٹ۔ دلیپ کمار کی کارکردگی نے انہیں کبھی اداکاری کے شہنشاہ اور کبھی ٹریجڈی کنگ کا خطاب دیا۔ دلیپ صاحب آخری بار 1998 کی فلم قلعہ میں نظر آئے تھے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      قانونی چکرمیں پھنسی نصرت بھروچاکی فلم’Janhit Mein Jaari‘رائٹرنے یہ الزام لگاکردرج کرایاکیس

      یہ بھی پڑھیں:

      ’Kapil Shamraنے پاکستانی شو کا کانسیپٹ چرایا‘،کامیڈین نے لگایا الزام

      5دہائیوں تک ہندی سینما کو گلزار بنائے رکھا
      پانچ دہائیوں پر محیط اپنے فلمی کیریئر میں دلیپ کمار نے ایک سے بڑھ کر ایک سوپرہٹ فلمیں دیں، جن کی فہرست ایک طویل ہے۔ پدم بھوشن، پدم وبھوشن اور دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے نوازے جانے والے دلیپ کمار جیسا عظیم اداکار نہ کوئی تھا، نہ کوئی ہے۔ دلیپ صاحب کے ساتھ ہی ایک دور کا خاتمہ ہو گیا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: