ہوم » نیوز » انٹرٹینمنٹ

شہنشاہ جذبات دلیپ کمارپر جب لگا تھا "پاکستانی جاسوس" ہونے کا الزام

اس وقت پاکستان کے بارے میں دلیپ کمار کے رخ کو جانتے ہوئے بھی ٹھاکرے نے ایوارڈ کو قبول کرنے پر اپنی ناپسندیدگی ظاہر کی تھی

  • Share this:
شہنشاہ جذبات دلیپ کمارپر جب لگا تھا
رشید قدوائی کی تصنیف

کھلے طورپرکانگریس کی جانب جھکاو کے باوجود دلیپ کمار کے تعلقات شیوسینا سربراہ بال ٹھاکرے کے ساتھ بہت اچھے تھے۔ 1998- 99 میں ایک بار تلخی کےعلاوہ، ان کے ساتھ رشتہ بہت اچھا رہا۔ 98- 99 کا مرحلہ وہی تھا جب پاکستان حکومت نے اپنے یہاں کے اعلیٰ ترین شہری اعزاز’ نشان امتیاز‘ کو دلیپ کمارکو دینے کی خواہش ظاہر کی تھی۔


اس وقت پاکستان کے بارے میں دلیپ کمار کے رخ کو جانتے ہوئے بھی ٹھاکرے نے ایوارڈ کو قبول کرنے پر اپنی ناپسندیدگی ظاہر کی تھی۔ ان کی اس مخالفت سے بہت زیادہ سیاسی ہنگامہ بھی مچا۔ دلیپ کو سب سے زیادہ تکلیف اس بات سے پہنچی کہ کارٹونسٹ سے سیاست میں آنے والے تین دہانی پرانے ان کے دوست نے ان کی وفاداری اورحب الوطنی پرسوال اٹھائے تھے۔ انہوں نے اپنی سوانح عمری میں اس کے بارے میں لکھا بھی ہے۔ اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی سے دلیپ کمار نے اس بارے میں مشورہ مانگا کہ کیا انہیں یہ ایوارڈ لینا چاہئے یا نہیں۔ اس پر واجپئی نے کہا تھا کہ بالکل لینا چاہئے، کیونکہ وہ فنکار ہیں اور فنکار کے لئے کوئی سیاسی یا جغرافیائی سرحد نہیں ہوتی۔


اس تنازعہ سے میڈیا کے ایک طبقہ کو دلیپ کمار کو نشانہ بنانے کا موقع مل گیا۔ اب وفات پا چکے ایک فلم صحافی اورفینگ شوئی ماسٹرموہن دیپ نے لکھا تھا: "ٹھیک ہے، لیکن میں سمجھ نہیں پا رہا ہوں کہ دلیپ کمار کو کیوں نشان امتیازدیا جا رہا ہے۔ میں کبھی سمجھ بھی نہیں پاوں گا  کیونکہ یہ ایوارڈ پاکستان کو دی گئی خدمات کے لئے ہے، جس کے بارے میں ہم کچھ نہیں جانتے۔ صرف دلیپ کمار ہی ہمیں اس بارے میں کچھ بتا سکتے ہیں۔ "




دلیپ کمار: فائل فوٹو
دلیپ کمار: فائل فوٹو

یہ کوئی پہلا موقع نہیں تھا جب اس فنکار کو مذہبی وابستگی کے لئے نشانہ بنایا گیا۔ بہت پہلے ساٹھ کی دہائی میں گنگا جمنا کو سینسر بورڈ سے ہری جھنڈی ملنے کے بعد اس وقت کی کولکاتہ پولیس کی ایک ٹیم ان کے بامبے واقع گھر پر چھاپہ مارا۔ دلیپ کمار کو کہا گیا کہ وہ پاکستانی جاسوس ہیں اور انہیں گرفتار بھی کیا جا سکتا ہے۔ دلیپ کمار کے خلاف اس کارروائی کی بنیاد یہ تھی کہ کولکاتہ پولیس نے ایک پاکستانی جاسوس کو گرفتار کیا تھا جس کے پاس سے ایک ڈائری ملی تھی۔ ڈائری میں دلیپ کمار سمیت بہت سارے بڑے لوگوں کے نام تھے۔ اس جانچ میں پولیس کا سب سے زیادہ غیر مناسب رویہ یہ نظر آیا کہ اس نے لسٹ میں درج کئے گئے ہندووں کو کانٹریکٹ مانا اور مسلمانوں کو دشمن کا ایجنٹ۔ چونکہ پورا معاملہ ہی بے وجہ کی دلیلوں پر تھا لہذا اس سے اس بڑے فنکار کو بہت تکلیف ہوئی۔


اس واقعہ پرویرسنگھوی نے اپنے ایک مضمون میں جذباتی ہوکرلکھا ’’ اس سے پتہ چلتا ہے کہ سماج میں تعصب کس قدر گہرا ہو گیا ہے۔ ملک کا اعلیٰ درجہ کا فنکار، نہروکے دوست پر۔ اوراس وقت بھی نہروجی وزیراعظم ہی تھے ۔ مسلم ہونے کی وجہ سے جاسوسی کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ اگر دیوانند کا نام ڈائری میں ہوتا تو اس کا بہت کم اندیشہ ہے کہ ان کے گھر بھی چھاپہ مارنے کی کوئی زحمت اٹھاتا۔


کئی تکلیف دہ مہینوں کے بعد پولیس نے ثبوت کے نہ ہونے پرمعاملہ کو چھوڑ دیا۔ پھربھی افواہیں گردش کرتی رہیں۔ دلیپ کمار خود کنفیوز ہو گئے تھے۔ یہاں تک چرچا ہوئی کہ پولیس نے ان کے گھر کے فرش کے نیچے سے ریڈیو ٹرانسمیٹر برآمد کیا ہے۔


دلیپ کمارایک جاسوس ہیں؟ یہ کس طرح سے سوچا جاسکتا ہے؟ ان کے پاس کون سی اطلاعات ہیں، جنہیں وہ پاکستان کوبتا سکتے ہیں۔ سنگھوی نے اپنے آرٹیکل میں یہ بھی لکھا کہ اس طرح کی تمام افواہوں کے بعد بھی 65 میں لڑائی کے دوران وہ ہندوستانی فوج کا حوصلہ بڑھانے کے لئے کھڑے رہے۔


انہوں نے یہ بھی لکھا "یہ سب میں نے اس لئے لکھا کہ آپ سوچ سکیں؟ دلیپ کماربال ٹھاکرے کی غلط تشہیرکولے کربہت حساس رہے ہیں۔ اسے سمجھنے کے لئے کہ دلیپ کماراس طرح سے کیوں ردعمل ظاہرکررہے تھے، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ وہ مانتے تھے کہ اپنی حب الوطنی ثابت کرنے کے لئے چاہے وہ جوبھی کرلے، کچھ لوگ یہ سمجھتے رہیں گے کہ یہ سب مناسب نہیں ہے"۔


اس میں بھی حیرانی نہیں ہے کہ اگرجنہیں کوئی اپنا دوست مانے وہی اس کی حب الوطنی پرسوال کھڑے کرے۔ اپنے طویل کیریئرمیں انہیں لوگوں کا جتنا پیارملا، اس میں تلخی بھی شامل ہے کہ صرف ایک مذہب کو ماننے کی وجہ سے انہیں اس طرح کی حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ گزرے ہوئے وقت سے ملے تجربات کی وجہ سے ہی انہیں "نشان امتیاز" کے احترام کے معاملےمیں اٹھے تنازعہ سے انہیں یہ درد ہوا۔


یہ اقتباس معروف مصنف رشید قدوائی کی کتاب ’ نیتا ابھنیتا‘ سے ماخوذ ہے۔

First published: Oct 01, 2018 06:15 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading