ہوم » نیوز » انٹرٹینمنٹ

دیپکا کی فلم، "چھپاک" کی ریلیز روکنے کا مطالبہ، کورٹ پہنچی لکشمی اگروال کی وکیل

جواہرلال نہرو یونیورسٹی (JNU) کے احتجاج میں شامل ہونے کے بعد، دیپکا پاڈوکون (Deepika Padukone)اوران کی فلم ’چھپاک‘ (Chhapaak) تنازعات کی زد میں آگئی ہیں۔ ادھر’چھپاک‘ کے حوالے سے ایک نیا تنازعہ سامنے آیا ہے۔

  • Share this:

جواہرلال نہرو یونیورسٹی (JNU) کے احتجاج میں شامل ہونے کے بعد، دیپکا پاڈوکون (Deepika Padukone)اوران کی فلم ’چھپاک‘ (Chhapaak) تنازعات کی زد میں آگئی ہیں۔ ادھر’چھپاک‘ کے حوالے سے ایک نیا تنازعہ سامنے آیا ہےدیپکا پاڈوکون کی فلم چھپاک (Chhapaak) ریلیز سے پہلے ہی تنازع میں آگئی ہے۔ پہلے فلم میں acid attacker کے نام اور مذہب کو لیکر تنازعہ ہوا۔ اب اس فلم کی ریلیز روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ فلم چھپاک  کو لیکر سوشل میڈیا پر چل رہے ہنگامے کے درمیان ایسڈ حملے کی متاثرہ لکشمی اگروال کی وکیل اپرنا بھٹ نے اس فلم کی ریلیز روکنے کیلئے دہلی کے پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں عرضی دائر کی ہے۔ بتادیں کہ فلم "چھپاک" لکشمی اگروال کے ساتھ ہوئے سچے واقعے پر مبنی ہے۔



لکشمی کی وکیل اپرنا بھٹ نے اپنی عرضی میں کہا، "انہوں نے ایسڈ حملے کی متاثرہ لکشمی اگروال کا کیس سالوں تک لڑا لیکن اس فلم میں مجھے کریڈٹ نہیں دیا گیاہے"۔ اپرنا کا کہنا ہے کہ انہوں نے فلم چھپاک کی اسکرپٹ میں بھی کافی مدد کی تھی۔



اس کے پہلے فلم میں ملزموں کے نام اور مذہب کو تبدیل کرنے پر ہنگامہ ہوا ہے۔ اس فلم میں ملزم ندیم کا نام تبدیل کرکے راجیش کردیا گیا تھا۔ جیسے ہی یہ بات منظرعام پرآئی،دیپکا پاڈوکون اورفلم سازوں کے خلاف سوشل میڈیا پرسخت ناراضگی کا اظہارکیا۔ راجیش' اور 'ندیم' کے نام ٹویٹرپر رینڈ کرنے لگے۔جس کے بعد اب یہ اطلاعات سامنے آرہی ہیں کہ فلم سازوں نے اس غلطی کو سدھارلیاہے۔

 
First published: Jan 09, 2020 11:35 AM IST