உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    42 Years Of Qurbani:اگر نہیں چلتی فلم’قربانی‘تو سڑک پر آجاتے فیروز خان، بیٹے فردین خان نے کیا انکشاف

    فلم قربانی کے 42 سال مکمل ہونے پر فردین خان نے کیا بڑا انکشاف۔

    فلم قربانی کے 42 سال مکمل ہونے پر فردین خان نے کیا بڑا انکشاف۔

    42 Years Of Qurbani: فردین خان نے لکھا-’قربانی کو ریلیز ہوئے 42 سال ہوگئے ہیں۔ اس فلم کو لے کر پاپا کہتے تھے کہ بیٹا، میں نے اس فلم کو بنانے کے لئے اپنی آخری شرٹ کو بھی داؤ پر لگادیا تھا۔ اگر یہ کام نہیں کرتی تو ہم سڑک پر ہوتے۔‘

    • Share this:
      42 Years Of Qurbani: فیروز خان بالی ووڈ کے ایک جانے مانے فنکار رہے ہیں، جنہوں نے نہ صرف اپنی اداکاری کی صلاحیتوں کو ناظرین تک پہنچایا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے کئی بہترین اور ہٹ فلموں کو پروڈیوس کیا اور ان کی ہدایت کاری بھی کی۔ فیروز خان کی ایسی ہی ایک فلم ہے 'قربانی' جسے ریلیز ہوئے 42 سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔

      خاص بات یہ ہے کہ فیروز خان کی یہ فلم 20 جون 1980 کو ریلیز ہوئی تھی جسے انہوں نے پروڈیوس اور ڈائریکٹ کیا تھا۔ ریلیز ہونے کے بعد یہ فلم ہٹ ثابت ہوئی، ساتھ ہی اس فلم نے اسی سال سب سے زیادہ کمائی کرنے کا ریکارڈ بھی اپنے نام کر لیا تھا۔ حالانکہ فیروز خان جب یہ فلم بنا رہے تھے تو وہ اس کو لے کر بہت ڈرے ہوئے تھے کیونکہ انہوں نے اس کے لیے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیا تھا۔ اس بات کا انکشاف حال ہی میں ان کے بیٹے فردین خان نے کیا ہے۔

      کیا کہا فردین خان نے؟
      فلم ’قربانی‘ کے 42 ویں سال پر فردین خان نے ٹوئٹر کے ذریعے انکشاف کیا کہ اس فلم کو بناتے وقت فیروز خان کافی ڈرے ہوئے تھے۔


      یہ بھی پڑھیں:
      Salman Khan کی’نوانٹری2‘میں ہوگی ساوتھ اداکاراوں کی انٹری، ان بڑے ناموں کی ہے چرچا

      یہ بھی پڑھیں:
      Shoaib Ibrahim Video:شعیب ابراہیم نے اپنی بہن Saba کے ہونے والے شوہر سے ملوایا

      فردین خان نے لکھا-’قربانی کو ریلیز ہوئے 42 سال ہوگئے ہیں۔ اس فلم کو لے کر پاپا کہتے تھے کہ بیٹا، میں نے اس فلم کو بنانے کے لئے اپنی آخری شرٹ کو بھی داؤ پر لگادیا تھا۔ اگر یہ کام نہیں کرتی تو ہم سڑک پر ہوتے۔‘

      آگے فردین نے لکھا-’آج کے لوگوں کو اس بات کی جانکاری نہیں ہے کہ اس وقت ایک فلم بنانے میں کیا لگتا تھا۔ سچ مچ خون، پسینہ اور آنسو۔‘
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: