உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پنجاب میں اکشے کمار کی ’سوریہ ونشی‘ کی اسکریننگ روکی گئی، مظاہرین کسانوں نے پھاڑے فلم کے پوسٹر

    اکشے کمار کی ’سوریہ ونشی‘ کی اسکریننگ روکی، مظاہرین کسانوں نے پھاڑے فلم کے پوسٹر

    اکشے کمار کی ’سوریہ ونشی‘ کی اسکریننگ روکی، مظاہرین کسانوں نے پھاڑے فلم کے پوسٹر

    Stop screening Akshay Kumar-starrer 'Sooryavanshi' in Punjab: زرعی قوانین کی مخالفت (Central farm laws) کر رہے کچھ کسانوں نے پنجاب کے ہوشیار پور شہر میں پانچ سنیما گھروں میں اکشے کمار کی فلم ’سوریہ ونشی‘ کو دکھائے جانے سے روک دیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ بالی ووڈ اداکارہ اکشے کمار (Akshay Kumar) کی اس لئے مخالفت کر رہے ہیں، کیونکہ انہوں نے ان کی مخالفت کی حمایت نہیں کی تھی۔

    • Share this:
      چندی گڑھ: مرکزی حکومت کے زرعی قوانین کی مخالفت (Central farm laws)کر رہے کچھ کسانوں نے پنجاب کے ہوشیار پور میں پانچ سنیما گھروں میں اکشے کمار کی فلم ’سوریہ ونشی‘ کو دکھائے (Stop screening Akshay Kumar-starrer 'Sooryavanshi'.) جانے سے روک دیا۔ نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق، مظاہرین نے سنیما گھر کے باہر لگے ’سوریہ ونشی‘ کے پوسٹر پھاڑ ڈالے۔ ان مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ بالی ووڈ اداکار اکشے کمار (Akshay Kumar) کی اس لئے مخالفت کر رہے ہیں، کیونکہ انہوں نے ان کی مخالفت کی حمایت نہیں کی تھی۔

      بھارتیہ کسان یونین (قادیان) کے کارکنان تنظیم کی ضلع یونٹ کے صدر سورن دھگا کی قیادت میں یہ احتجاج کر رہے تھے۔ تنظیم کے لوگوں نے شہر کے شہید ادھم سنگھ پارک سے سورن سنیما تک فلم ’سوریہ ونشی‘ کی مخالفت میں مارچ بھی کیا۔ ان لوگوں نے سنیما گھر کے مالکان کو فلم دکھانے سے روک دیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ فلم دکھانے کی اجازت تب تک نہیں دیں گے، جب تک کہ زرعی قوانین کو واپس نہیں لے لیا جاتا ہے۔

      گزشتہ سال نومبر سے سینکڑوں کسان دہلی بارڈر پر ان زرعی قوانین کو واپس لئے جانے کے مطالبات پر دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ زرعی قوانین انہیں کارپوریٹ کی مہربانی پر چھوڑ دیں گے۔ وہ زرعی پیداوار کے لئے کم از کم سپورٹ قیمت کی قانونی گارنٹی کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔ دوسری طرف کسان تنظیموں کے ساتھ اس تعطل کو توڑنے کے لئے 11 مرحلے کی بات چیت کرچکی مرکزی حکومت اس بات پر قائم ہے کہ نئے زرعی قوانین کسان حامی ہیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: