اپنا ضلع منتخب کریں۔

    جب فلائٹ میں فاطمہ ثنا شیخ کو پڑنے لگے مِرگی کے دورے، جذباتی انداز میں اداکارہ نے کہی یہ بات

    جب فلائٹ میں فاطمہ ثنا شیخ کو پڑنے لگے مِرگی کے دورے، جذباتی انداز میں اداکارہ نے کہی یہ بات

    جب فلائٹ میں فاطمہ ثنا شیخ کو پڑنے لگے مِرگی کے دورے، جذباتی انداز میں اداکارہ نے کہی یہ بات

    فاطمہ ثنا شیخ نے بتایا کہ انہیں اپنی بیماری کا انکشاف ہونے پر ڈر بھی تھا کیونکہ اسے انہیں کرئیر میں پریشانی ہونے کی فکر ہورہی تھی۔ اداکارہ نے کہا، میں نے اسے چھپایا نہیں ہے، لیکن کبھی موقع نہیں ملا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Mumbai, India
    • Share this:
      بالی ووڈ اداکارہ فاطمہ ثنا شیخ ان دنوں اپنی بیماری کو لے کر سرخیوں میں آگئی ہیں۔ فاطمہ نے حال ہی میں انکشاف کیا تھا کہ انہیں ایپلیپسی نامی بیماری ہے جس کی وجہ سے اداکارہ کافی ڈری ہوئی ہیں۔ اب فاطمہ نے پہلی مرتبہ اپنی بیماری کو لے کر بات کی ہے۔

      جب فلائٹ میں فاطمہ کو پڑنے لگے دورے
      دراصل، ایک بار فلائٹ میں فاطمہ ثنا شیخ کو دورے پڑنے لگے، تب اداکارہ کو فوری ایئرپورٹ کے میڈیکل وارڈ میں بھرتی کروایا گیا تھا۔ اس کے بعد بھی فاطمہ کئی دنوں تک اسپتال میں بھرتی رہی تھی۔ فی الحال، فاطمہ نے پہلی مرتبہ اپنے ہیلتھ ایشو پر بات کرتے ہوئے واقعہ کو یاد کیا ہے۔

      ’دنگل‘ اداکارہ نے بتایا کہ، انہیں پانچ مرتبہ مِرگی کے دورے پڑے تھے اور وہ بالکل اکیلی تھیں اور ان کی دیکھ بھال کے لیے ان کے آس پاس کوئی جان پہچان کا نہیں تھا۔ اس بیماری نے میرے کام اور زندگی کو روک دیا تھا۔ میرے لیے یہ ایک بڑا جھٹکا تھا، مجھے حقیقت میں لگا کہ میں قسمت والی ہوں کہ میں بچ گئی۔ اب میں اکیلی ٹریول نہیں کرسکتی ہوںِ مجھے اپنے ساتھ کسی کی ضرورت ہوتی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      ’فیک MMS لیک ہونے سے جھیلنے پڑے رشتہ داروں کے طعنے‘۔’کریمنل جسٹس‘ اداکارہ نے کیا انکشاف

      یہ بھی پڑھیں:
      ایشا گپتا کو ایسے ہی نہیں ملا گلیمرس اداکارہ کا ٹیگ، قاتلانہ اداوں کا چلاتی ہیں خوب جادو

      ڈر تھا کہ کام نہیں ملے گا
      اس کے علاوہ فاطمہ ثنا شیخ نے بتایا کہ انہیں اپنی بیماری کا انکشاف ہونے پر ڈر بھی تھا کیونکہ اسے انہیں کرئیر میں پریشانی ہونے کی فکر ہورہی تھی۔ اداکارہ نے کہا، میں نے اسے چھپایا نہیں ہے، لیکن کبھی موقع نہیں ملا۔ مجھے یہ سمجھنے میں کچھ وقت لگا کہ یہ کیا تھا۔ کسی بھی بیماری کو ایک داغ جیسا سمجھا جاتا ہے۔ میں نہیں چاہتی تھی کہ لوگ مجھے کمزور سمجھیں۔ مجھے ڈر تھا کہ اگر میں لوگوں کو بتادوں کہ مجھے یہ بیماری ہے تو مجھے کام نہیں ملے گا۔ میں یہ بھی قبول نہیں کرنا چاہتی تھی کہ مجھے کوئی نیورولاجیکل پریشانی ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: