உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    صحیح ثابت ہوا فلم ساز کرن جوہر کا ڈر ، فیض آباد میں ہوا کیس درج

    لکھنؤ : بالی ووڈ کے مشہور فلم ساز اور ڈائریکٹر کرن جوہر کا ڈر صحیح ثابت ہوگیا ہے۔ ملک میں جمہوریت اور اظہار رائے کی آزادی پر بیان دینے کی وجہ سے اب وہ قانونی لڑائی میں پھنس گئے ہیں۔ کرن جوہر کے خلاف فیض آباد کے کورٹ میں سی آر پی سی کی دفعہ 200 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ کورٹ میں اس معاملے کی اگلی سماعت 2 فروری کو ہوگی ۔

    لکھنؤ : بالی ووڈ کے مشہور فلم ساز اور ڈائریکٹر کرن جوہر کا ڈر صحیح ثابت ہوگیا ہے۔ ملک میں جمہوریت اور اظہار رائے کی آزادی پر بیان دینے کی وجہ سے اب وہ قانونی لڑائی میں پھنس گئے ہیں۔ کرن جوہر کے خلاف فیض آباد کے کورٹ میں سی آر پی سی کی دفعہ 200 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ کورٹ میں اس معاملے کی اگلی سماعت 2 فروری کو ہوگی ۔

    لکھنؤ : بالی ووڈ کے مشہور فلم ساز اور ڈائریکٹر کرن جوہر کا ڈر صحیح ثابت ہوگیا ہے۔ ملک میں جمہوریت اور اظہار رائے کی آزادی پر بیان دینے کی وجہ سے اب وہ قانونی لڑائی میں پھنس گئے ہیں۔ کرن جوہر کے خلاف فیض آباد کے کورٹ میں سی آر پی سی کی دفعہ 200 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ کورٹ میں اس معاملے کی اگلی سماعت 2 فروری کو ہوگی ۔

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:

      فیض آباد : بالی ووڈ کے مشہور فلم ساز اور ڈائریکٹر کرن جوہر کا ڈر صحیح ثابت ہوگیا ہے۔ ملک میں جمہوریت اور اظہار رائے کی آزادی پر بیان دینے کی وجہ سے اب وہ قانونی لڑائی میں پھنس گئے ہیں۔ کرن جوہر کے خلاف فیض آباد کے کورٹ میں سی آر پی سی کی دفعہ 200 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ کورٹ میں اس معاملے کی اگلی سماعت 2 فروری کو ہوگی ۔


      سماجی کارکن محمد علی عرف علی بابا نے کرن جوہر کے خلاف کیس درج کرایا ہے۔ چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ دیوكانت شکلا نے عرضی گزار علی بابا کی عرضی پر سماعت کے بعد مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا۔


      خیال رہے کہ جے پور لٹریچر فیسٹول میں کرن جوہر نے جمہوریت اور اظہار کی آزادی کو ہندوستان میں سب سے بڑا مذاق قرار دیا تھا۔ کرن جوہر نے کہا تھا کہ آپ من کی بات کہنا چاہتے ہیں یا اپنی ذاتی زندگی کے راز کھولنا چاہتے ہیں ، تو ہندوستان سب سے مشکل ملک ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ انہیں لگتا ہے کہ ہمیشہ کوئی قانونی نوٹس ان کا پیچھا کرتا رہتا ہے۔ کسی کو پتہ نہیں کب اس کے خلاف ایف آئی آر درج ہو جائے۔


      کرن جوہر کے مطابق اپنی ذاتی رائے رکھنا اور جمہوریت کی بات کرنا، یہ دونوں ہی مذاق ہیں۔ ہم فریڈم آف اسپیچ کی بات کرتے ہیں، لیکن اگر میں ایک مشہور شخصیت ہونے کے ناطے اپنی رائے رکھ بھی دوں ، تو ایک بڑا تنازع کھڑا ہوجاتا ہے۔

      First published: