உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    تنازعہ اور فلمیں: Gangubai کے افراد خاندان نے کی گنگوبائی کاٹھیاواڑی فلم کی ریلیز کو روکنے کی مانگ، اس سے پہلے بھنسالی کی ان فلموں پر ہوا ہنگامہ

    تنازعات میں گھری رہتی ہیں سنجے لیلا بھنسالی کی فلمیں۔

    تنازعات میں گھری رہتی ہیں سنجے لیلا بھنسالی کی فلمیں۔

    فلم کے ٹریلر میں گنگوبائی کو بازاری عورت کے روپ میں دکھایا گیا ہے، جس کی وجہ سے ان کے گھر والے اور کماٹھی پورہ کے لوگ کافی ناراض ہیں۔ گنگوبائی کا گود لیا بیٹا اور ان کے لوگ اب سنجے لیلا بھنسالی کی فلم کی ریلیز روکنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ مقدمات اب سپریم کورٹ میں ہیں جہاں جلد فیصلہ ہونے والا ہے۔

    • Share this:
      ممبئی:مشہور فلمساز سنجے لیلا بھنسالی کی فلم گنگوبائی کاٹھیاواڑی ریلیز سے قبل ہی تنازعات میں گھری ہوئی ہے۔ فلم کے ٹریلر میں گنگوبائی کو بازاری عورت کے روپ میں دکھایا گیا ہے، جس کی وجہ سے ان کے گھر والے اور کماٹھی پورہ کے لوگ کافی ناراض ہیں۔ گنگوبائی کا گود لیا بیٹا اور ان کے لوگ اب سنجے لیلا بھنسالی کی فلم کی ریلیز روکنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ مقدمات اب سپریم کورٹ میں ہیں جہاں جلد فیصلہ ہونے والا ہے۔

      گنگوبائی کاٹھیاواڑی سے پہلے بھی سنجے کی کئی فلمیں تنازعات میں گھری ہوئی ہیں۔ آئیے جانتے ہیں وہ کون سی فلمیں ہیں اور ان سے جڑے تنازعات کیا ہیں۔

      پدماوت
      دپیکا پڈوکون، رنویر سنگھ اور شاہد کپور کی سال 2018 میں ریلیز ہونے والی فلم پدماوت کافی تنازعات میں گھری تھی۔ اس فلم میں رانی پدماوت کی کہانی دکھائی گئی تھی لیکن کئی مذہبی جماعتیں اس کے خلاف تھیں۔ فلم کی شوٹنگ جے پور کے جئے گڑھ قلعے میں کی گئی تھی، جہاں کرنی سینا کے افراد نے 27 جنوری کو سیٹس میں داخل ہونے پر ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ یہی نہیں ناراض لوگوں نے سنجے لیلا بھنسالی پر ہاتھ اٹھا کر سیٹ کی توڑ پھوڑ بھی کی۔ یہ فلم پہلے 1 دسمبر 2017 کو ریلیز ہونا تھی لیکن تنازعات کی وجہ سے اسے 25 جنوری 2018 کو ریلیز کیا گیا۔ سینسر بورڈ نے فلم کے ٹائٹل کے بعد اسے یو سرٹیفکیٹ دے دیا، سین تبدیل کر دیے گئے۔

      گولیوں کی راس لیلا-رام لیلا
      دیپیکا پڈوکون اور رنویر سنگھ کی اداکاری والی فلم گولیوں کی راس لیلا – رام لیلا، جو سال 2013 میں ریلیز ہوئی تھی، اس کا نام پہلے رام لیلا تھا۔ لو اسٹوری کا رام لیلا سے موازنہ کرنے پر ہندو تنظیموں نے شدید احتجاج کیا، جس پر فلم کا ٹائٹل تبدیل کر دیا گیا۔ فلم میں دکھائی گئی کاسٹ کے لوگوں نے بھی کافی اعتراضات اٹھائے جس کی وجہ سے اس کا نام بدل کر فکشنل نام رجاڑی اور سنیرا رکھ دیا گیا۔ 15 نومبر 2013 کو ریلیز ہونے والی اس فلم پر دہلی ہائی کورٹ نے پابندی لگا دی تھی لیکن تبدیلی کے بعد اسے شیڈول کی تاریخ پر ہی ریلیز کر دیا گیا۔

      باجی راؤ-مستانی
      رنویر سنگھ، دیپیکا پڈوکون اور پریانکا چوپڑا اسٹارر باجی راؤ مستانی ایک تاریخی ڈرامہ فلم تھی، حالانکہ اس پر حقائق سے کھیلنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ فلم میں دکھایا گیا تھا کہ کاشی بائی اور مستانی ایک ساتھ ڈانس کرتے ہیں، جس پر ان کے گھر والوں نے کافی اعتراض کیا۔ اس کے علاوہ باجی راؤ کو فلم میں فتح کے بعد رقص کرتے دکھایا گیا تھا، جس پر ان کی اولاد نے بھی اعتراض کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ باجی راؤ اپنے دشمنوں کا احترام کرتے تھے اور انہوں نے اس طرح کبھی کسی فتح کا جشن نہیں منایا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: