உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سپنا چودھری نے Blue Outfitمیں دکھایا نیا اوتار، فینس بولے’گارجیس‘

    ہریانوی ڈانسر سپنا چودھری۔

    ہریانوی ڈانسر سپنا چودھری۔

    حال ہی میں سپنا چودھری کا ایک انٹرویو وائرل ہوا تھا۔ اس انٹرویو میں سپنا نے بتایا تھا کہ وہ ہمیشہ سوٹ پہن کر پرفارم کرتی ہیں کیونکہ اس میں ان کا جسم ڈھکا ہوتا ہے۔

    • Share this:
      ہریانہ کی آن بان شان سپنا چودھری ٹیلنٹ کے ساتھ ساتھ اپنے دیسی اوتار کے لیے بھی جانی جاتی ہے۔ سپنا چودھری ان ستاروں میں سے ایک ہیں جنہوں نے وقت کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر ایکٹیو رہنا سیکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی وہ انسٹاگرام پر اپنے گانوں کی تشہیر کرتی نظر آتی ہیں تو کبھی تصویریں لگا کر تہلکہ مچا دیتی ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں اس معاملے پر سپنا کی نئی تصاویر۔

      سپنا چودھری کی لیٹسٹ فوٹوز
      سپنا چودھری، جو اکثر اپنے دیسی سویگ کی وجہ سے خبروں میں رہتی ہیں، نے انسٹاگرام پر نئی تصاویر شیئر کی ہیں۔ جن کی خوب چرچا ہو رہی ہے۔ فرق یہ ہے کہ اس بار سپنا دیسی نہیں ہیں بلکہ ویسٹرن لُک میں تباہی مچا رہی ہیں۔ تصاویر میں، سپنا نیلے رنگ کے کولڈ شولڈر فراک اسٹائل ٹاپ اور پلازو پینٹ پہنے ہوئے نظر آرہی ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:
      ماں سوہا نے ٹوائلٹ پیپر سے ننھی عنایہ کو بنایا انڈا، نہیں دیکھا ہوگا آپ نے ایسا ایسٹرEgg!

      کولڈ شولڈر فراک اسٹائل ٹاپ اور پلازو پینٹ کے ساتھ، سپنا نے ہائی پونی ٹیل اور کم سے کم میک اپ کے ساتھ اپنا لُک مکمل کیا۔ تصویروں میں سپنا مختلف روپ میں پوز دیتی نظر آ رہی ہیں۔ نئے روپ کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے سپنا نے بتایا کہ وہ پراعتماد اور خوبصورت محسوس کر رہی ہیں۔ ویسے سپنا اسٹائل کے ساتھ ساتھ ویسٹرن اسٹائل میں بھی بہت شاندار لگ رہی ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:
      جل پری والیBlack Dressپہن کرنورافتیحی نے چلی ایسی مستانی چال-لاکھوں دلوں کی دھڑکن ہوئی تیز

      سپنا کیوں پہنتی ہیں سوٹ؟
      حال ہی میں سپنا چودھری کا ایک انٹرویو وائرل ہوا تھا۔ اس انٹرویو میں سپنا نے بتایا تھا کہ وہ ہمیشہ سوٹ پہن کر پرفارم کرتی ہیں کیونکہ اس میں ان کا جسم ڈھکا ہوتا ہے۔ ڈانس شروع کرنے سے پہلے ہی انہوں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ ہمیشہ سوٹ پہن کر ڈانس کرے گی، چاہے کسی کو پسند آئے یا نہ آئے۔ بلکل ٹھیک، سپنا نے کہا آپ کو وہی کرنا چاہیے جو آپ کو پسند ہے۔ دوسرے کچھ اور کہیں گے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: