உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    فلموں کےشائقین کیلئےخوشخبری! حیدرآبادیوں کو جلدہی’Drive in Theatre‘کےتجربےکی ملےگی سہولت

    کورونا وائرس وبائی بیماری کی وجہ سے دو سال سے زیادہ عرصے سے لوگ گھروں میں ہی رہے اور تھیٹروں میں فلمیں نہیں دیکھ سکے۔ لوگوں کو تفریح ​​فراہم کرنے کے لیے ریاستی حکومت نے ڈرائیو ان تھیٹر کے تصور کو متعارف کرانے کے منصوبے بنائے ہیں کیونکہ اب وبا کا خوف نہیں رہا۔

    کورونا وائرس وبائی بیماری کی وجہ سے دو سال سے زیادہ عرصے سے لوگ گھروں میں ہی رہے اور تھیٹروں میں فلمیں نہیں دیکھ سکے۔ لوگوں کو تفریح ​​فراہم کرنے کے لیے ریاستی حکومت نے ڈرائیو ان تھیٹر کے تصور کو متعارف کرانے کے منصوبے بنائے ہیں کیونکہ اب وبا کا خوف نہیں رہا۔

    کورونا وائرس وبائی بیماری کی وجہ سے دو سال سے زیادہ عرصے سے لوگ گھروں میں ہی رہے اور تھیٹروں میں فلمیں نہیں دیکھ سکے۔ لوگوں کو تفریح ​​فراہم کرنے کے لیے ریاستی حکومت نے ڈرائیو ان تھیٹر کے تصور کو متعارف کرانے کے منصوبے بنائے ہیں کیونکہ اب وبا کا خوف نہیں رہا۔

    • Share this:
      حیدرآباد: کیا آپ نے کبھی حیدرآباد میں کھلے آسمان تلے فلم دیکھنے کے بارے میں سوچا ہے؟ یہ جلد ہی حقیقت بن سکتا ہے جب حیدرآباد میٹروپولیٹن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (HMDA) نے آؤٹر رنگ روڈ پر ایک انٹر چینج پر ڈرائیو ان تھیٹر (drive-in theatre) قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ فلم کے شائقین کے لیے یہ ایک نیا تجربہ ہو سکتا ہے کیونکہ وہ سنیما تھیٹر میں فلم دیکھنے کے بجائے اپنی گاڑیوں میں آرام سے بیٹھ کر کھلے میدان میں فلم دیکھ سکتے ہیں۔

      حیدرآباد میٹروپولیٹن ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے وزیر کے ٹی راما راؤ نے حیدرآباد میٹروپولیٹن ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے عہدیداروں کے ساتھ ایک حالیہ میٹنگ میں ان سے کہا تھا کہ وہ ڈرائیو ان تھیٹر کے قیام کے لیے او آر آر پر موجودہ 19 انٹرچینج کے قریب مناسب جگہیں تلاش کریں۔ ذرائع نے دی نیو انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ ایک بار جب مناسب جگہ کی نشاندہی ہو جائے اور ریاستی حکومت اس کی منظوری دے دے تو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی بنیاد پر کام شروع ہو جائے گا۔

      پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ:
      ان کا کہنا ہے کہ ایک بار جب کسی مناسب جگہ کی نشاندہی ہو جائے اور ریاستی حکومت اس کی منظوری دے دے تو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی بنیاد پر کام شروع ہو جائے گا۔ ڈرائیو ان تھیٹر میں 150 کاریں آسکتی ہیں۔

      جیسا کہ نام سے پتہ چلتا ہے کہ کوئی بھی شخص آسانی سے تھیٹر میں جا سکتا ہے، جو کہ عام طور پر ایک بڑی پارکنگ ہوتی ہے جس کے سامنے ایک بڑی اسکرین ہوتی ہے۔ مقررہ وقت پر فلم اسکرین پر چلنا شروع ہو جائے گی اور کوئی بھی اسے اپنی گاڑی میں آرام کرتے ہوئے بھی اسے دیکھ سکتا ہے۔

      ڈرائیو ان تھیٹر مغربی اور یورپی ممالک کے ساتھ ساتھ ہندوستانی شہروں جیسے ممبئی، چنئی، احمد آباد، بنگلورو اور گڑگاؤں میں مقبول ہیں۔ عالمی وبا کورونا وائرس (Covid-19) کی وجہ سے دو سال سے زیادہ عرصے سے لوگ گھروں میں ہی رہے اور تھیٹروں میں فلمیں نہیں دیکھ سکے۔ لوگوں کو تفریح ​​فراہم کرنے کے لیے تلنگانہ حکومت نے ڈرائیو اِن تھیٹر کے تصور کو متعارف کرانے کا منصوبہ بنایا ہے۔

      کووڈ خوف کے بغیر بڑی اسکرین کا تجربہ:

      اس منصوبے پر تقریباً 5 سے 8 کروڑ روپے لاگت آسکتی ہے اور مجوزہ تھیٹر میں تقریباً 150 کاریں پاکنگ کی جاسکتی ہے۔ ہموار داخلے اور باہر نکلنے کی سہولت کے لیے احاطے میں دو دروازے ہوں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ ڈرائیو ان تھیٹر حیدرآباد کے لیے اگلی بڑی چیز ہے کیونکہ بالکل مختلف ماحول میں 'بڑے اسکرین کا تجربہ' ہوگا۔

      کورونا وائرس وبائی بیماری کی وجہ سے دو سال سے زیادہ عرصے سے لوگ گھروں میں ہی رہے اور تھیٹروں میں فلمیں نہیں دیکھ سکے۔ لوگوں کو تفریح ​​فراہم کرنے کے لیے ریاستی حکومت نے ڈرائیو ان تھیٹر کے تصور کو متعارف کرانے کے منصوبے بنائے ہیں کیونکہ اب وبا کا خوف نہیں رہا۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: