ہوم » نیوز » انٹرٹینمنٹ

یوم پیدائش پر خاص: ایک دن بہت بڑا شاعر بن کر دکھاؤں گا... کیفی اعظمی

کیفی اعظمی کی شعرو ادب سے دلچسپی کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ گھر میں علم وادب اور شعر وشاعری کا ماحول تھا

  • UNI
  • Last Updated: Jan 14, 2019 12:38 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
یوم پیدائش پر خاص: ایک دن بہت بڑا شاعر بن کر دکھاؤں گا... کیفی اعظمی
سال 1942 میں کیفی اعظمی اردو اور فارسی کی اعلی تعلیم کے لیے لکھنؤ اور الہ آباد گئے لیکن انہوں نے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی رکنیت حاصل کرکے پارٹی کارکن کے طور پر کام کرنا شروع کر دیا

کیفی اعظمی کا شمار اردو کے ممتاز ترقی پسند شعرا اور نغمہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ کیفی اعظمی کی ولادت 14 جنوری 1919 کو اتر پردیش کے اعظم گڑھ ضلع کے مجواں گاؤں میں ہوئی ۔ ان کا اصل نام سید اطہر حسین رضوی تھا اور کیفی تخلص کرتے تھے۔  کیفی نے ایک خوشحال زمیندار گھرانہ میں آنکھ کھولی۔ ان کے والد انہیں اعلی تعلیم دلانا چاہتے تھے اور اسی مقصد سے انہوں نے کیفی کا داخلہ لکھنٔو کے مشہور مدرسے ’’سلطان المدارس‘‘ میں کرا دیا تھا۔


شعرو ادب سے دلچسپی کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ گھر میں علم وادب اور شعر وشاعری کا ماحول تھا۔ ایسے ماحول میں جب انہوں نے آنکھیں کھولیں تو ابتدا ہی سے انہیں شعر وادب سے رغبت ہوگئی۔


کیفی نے محض گیارہ برس کی عمر سے ہی شعر کہنا شروع کر دیئے تھے اور وہ اکثر مشاعروں میں شرکت کرنے لگے۔ بیشتر لوگ جن میں ان کے والد بھی شامل تھے ، یہ سوچا کرتے تھے کہ کیفی اعظمی مشاعروں میں اپنی نہیں بلکہ اپنے بڑے بھائی کی غزلیں پڑھتے ہیں۔ ایک مرتبہ بیٹے کا امتحان لینے کے لئے ان کے والد نے انہیں ایک مصرعہ دیا اور اس پر غزل لکھنے کو کہا۔ کیفی نے اسے چیلنج کے طور پر قبول کیا اور پوری غزل لکھ ڈالی۔ ان کی یہ غزل کافی مقبول ہوئی جسے بعد میں مشہور گلوکارہ بیگم اختر نے اپنی آواز دی۔ غزل کا مطلع یوں ہے:۔


اتنا تو زندگی میں کسی کی خلل پڑے

ہنسنے سے ہو سکون نہ رونے سے کل پڑے


کیفی اعظمی محفلوں میں بہت شوق سے نظمیں پڑھا کرتے تھے۔ اس کے لئے انہیں کئی مرتبہ ڈانٹ بھی کھانی پڑتی تھی جس کے بعد وہ روتے ہوئے اپنی والدہ کے پاس جاتے اور کہتے ’’اماں دیکھنا ایک دن میں بہت بڑا شاعر بن کر دکھاؤں گا‘‘۔ کیفی اعظمی کبھی بھی اعلی تعلیم کی خواہش مند نہیں رہے ۔ مدرسہ میں اپنی تعلیم کے دوران وہاں کے غیرمنظم حالات دیکھ کر انہوں نے طلبا یونین بنائی اور طلبا کے کچھ مطالبات کو لے کر انتظامیہ سے بھی نبرد آزما ہوئے اور مدرسے کے جامد اور دقیانوسی نظام کے خلاف آواز اٹھائی اور طالب علموں سے ہڑتال پر جانے کی اپیل کی ۔ ان کی یہ ہڑتال تقریباً ڈیڑھ برس تک چلی ۔ اس ہڑتال سے کیفی اعظمی کو یہ فائدہ ہوا کہ اس وقت کے چند ترقی پسند مصنفین ان کی قیادت سے کافی متاثر ہوئے اور انہیں کیفی میں ایک ابھرتا ہوا شاعر نظرآیا ۔ان لوگوں نے انہیں حوصلہ دیا اور ہر ممکن مدد دینے کی پیشکش کی۔ اس کے بعد ایک طالب علم رہنما اطہر حسین میں ایک شاعر نے کیفی اعظمی کے طور پر جنم لے لیا۔


سال 1942 میں کیفی اعظمی اردو اور فارسی کی اعلی تعلیم کے لیے لکھنؤ اور الہ آباد گئے لیکن انہوں نے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی رکنیت حاصل کرکے پارٹی کارکن کے طور پر کام کرنا شروع کر دیا اور پھر بھارت چھوڑو تحریک میں شامل ہو گئے۔ اس دوران مشاعروں میں کیفی اعظمی کی شرکت جاری رہی۔ چنانچہ سال 1947 میں ایک مشاعرے میں شرکت کے لیے وہ حیدرآباد پہنچے جہاں ان کی ملاقات شوکت سے ہوئی اور ان کی یہ ملاقات رشتہ ازدواج میں بدل گئی۔ آزادی کے بعد ان کے والد اور بھائی پاکستان چلے گئے لیکن کیفی اعظمی نے ہندوستان میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا۔ شادی کے بعد اخراجات بڑھنے کے سبب کیفی اعظمی نے ایک اردو اخبار کے لیے لکھنا شروع کر دیا جہاں انہیں 150 روپے ماہانہ تنخواہ ملتی تھی۔ ان کی پہلی نظم ’’سرفراز‘‘لکھنؤ میں شائع ہوئی۔ انہوں نے روزنامہ اخبار کے لئے مزاحیہ اور طنزیہ شاعری شروع کی۔ اس کے بعد اپنے گھر کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور معاشی مشکلوں کے سبب کیفی نے فلموں میں نغمے بھی لکھے۔




تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

کیفی اعظمی نے سب سے پہلے شاہد لطیف کی فلم ’’بزدل‘‘کے لئے دو نغمے لکھے جس کے عوض انہیں 1000 روپے ملے۔ اس کے بعد انہوں نے 1959 میں آئی فلم کاغذ کے پھول کے لئے ’’وقت نے کیا کیا حسیں ستم، تم رہے نہ تم، ہم رہے نہ ہم‘‘جیسا سدا بہار نغمہ لکھا۔ اس کے بعد 1965 میں فلم ’’حقیقت‘‘ کے نغموں بالخصوص ’’کر چلے ہم فدا جان و تن ساتھیو، اب تمہارے حوالے وطن ساتھیو‘‘ کی شہرت کے ساتھ وہ کامیابی کی بلندیوں پر پہنچ گئے۔ کیفی اعظمی نے فلم ’’گرم ہوا ‘‘کی کہانی ڈائیلاگ اور اسکرین پلے لکھا۔ جس کیلئے انہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ فلم ’’ہیررانجھا‘‘ کے مکالموں کے ساتھ ساتھ انہوں نے شیام بینیگل کی فلم ’’منتھن‘‘ کی اسکرپٹ بھی لکھی۔ آہستہ آہستہ کیفی کی فلموں سے وابستگی بڑھتی گئی انہوں نے گانوں کے علاوہ کہانی، مکالمے اور منظرنامے بھی لکھے۔ کاغذ کے پھول، گرم ہوا، حقیقت، ہیر رانجھا جیسی فلموں کے نام آج بھی کیفی کے نام کے ساتھ لئے جاتے ہیں۔ فلمی دنیا میں کیفی کو بہت سے اعزازات سے بھی نوازا گیا۔


تقریباً 75 برس کی عمر کے بعد کیفی اعظمی نے اپنے گاؤں مجوا ں میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا۔ اپنے خوبصورت نغموں سے سامعین کو مسحور کرنے والے عظیم شاعر اور نغمہ نگار کیفی اعظمی 10 مئی 2002 کو اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔

First published: Jan 14, 2019 12:38 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading