உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Kamaal R Khan: کمال آر خان کو چھیڑ چھاڑ کیس میں ملی ضمانت، لیکن متنازع ٹویٹس پر جیل میں رہیں گے

    کمال آر خان

    کمال آر خان

    ٹویٹس کے معاملے میں ان کی ضمانت کی درخواست پر بدھ کو بوریولی میٹروپولیٹن مجسٹریٹ عدالت میں سماعت ہونے کا امکان ہے۔ خان کو 30 اگست کو ممبئی انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے مبینہ توہین آمیز ٹویٹس کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Mumbai | Delhi | Hyderabad | Lucknow | Bihar Sharif
    • Share this:
      ممبئی کی عدالت نے اداکار کمال آر خان (Kamaal R Khan) کو 2021 میں چھیڑ چھاڑ کے ایک مقدمے میں ضمانت دے دی جو ان کے خلاف ورسوا پولیس نے درج کیا تھا۔ کمال آر خان کے آر کے نام سے مشہور ہے۔ تاہم اب بھی وہ جیل میں ہی رہیں گے، کیونکہ اداکار اکشے کمار اور فلم ساز رام گوپال ورما کے بارے میں متنازعہ ٹویٹس کے 2020 کیس میں ان کی ضمانت کی درخواست بوریولی مجسٹریٹ عدالت کے سامنے زیر التوا ہے۔

      ٹویٹس کے معاملے میں ان کی ضمانت کی درخواست پر بدھ کو بوریولی میٹروپولیٹن مجسٹریٹ عدالت میں سماعت ہونے کا امکان ہے۔ خان کو 30 اگست کو ممبئی انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے مبینہ توہین آمیز ٹویٹس کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور بوریولی مجسٹریٹ عدالت نے انہیں عدالتی تحویل میں بھیج دیا تھا۔ ورسووا پولیس نے اتوار کو چھیڑ چھاڑ کے معاملے میں انھیں اپنی تحویل میں لے لیا اور ان کو باندرہ کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

      کمال آر خان نے باندرہ مجسٹریٹ کورٹ میں وکلاء اشوک سروگی اور جے یادو کے ذریعے دائر کی گئی اپنی ضمانت کی عرضی میں دعویٰ کیا کہ پہلی اطلاعاتی رپورٹ (ایف آئی آر) کے مندرجات مبینہ طور پر چھیڑ چھاڑ کے واقعہ سے میل نہیں کھاتے ہیں۔ ایڈوکیٹ یادو نے عدالت کے سامنے پیش کیا کہ ایف آئی آر واقعے کے 18 ماہ بعد درج کی گئی تھی اور وہ بھی متاثرہ کے دوست کے کہنے کے بعد۔

      انہوں نے مزید دلیل دی کہ کمال آر خان کے خلاف انڈین پینل کوڈ کی دفعہ قابل ضمانت ہے۔ عدالت نے خان کی درخواست منظور کر لی۔ تفصیلی آرڈر ابھی دستیاب نہیں تھا۔ چھیڑ چھاڑ کا مقدمہ جون 2021 میں ایک 27 سالہ خاتون کی شکایت کی بنیاد پر آئی پی سی کے سیکشن 354 (اے) جنسی طور پر ہراساں کرنا اور 509 کسی بھی شخص کی عزت نفس کی توہین کرنے کے لیے لفظ یا اشارہ کرنے کے تحت درج کیا گیا تھا۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      NCERTکا انکشاف: امتحان و نتائج کی فکر سے دباؤ میں رہتے ہیں 33فیصدی طلبہ،3.79لاکھ بچوں پر سروے

      شکایت کنندہ نے الزام لگایا تھا کہ خان نے اسے ایک فلم میں مرکزی کردار کی پیشکش کے بہانے ورسووا میں واقع اپنے بنگلے پر بلایا تھا۔ ایف آئی آر کے مطابق انھوں نے اس کے مشروب میں دیگر ملائے اور اسے نامناسب طریقے سے چھوا۔

      یہ بھی پڑھیں:

      دہلی میں اس سال بھی دیوالی کے موقع پر پٹاخوں پر رہے گی مکمل پابندی، گوپال رائے کا بیان



      پولیس کے مطابق خان کی جانب سے 2020 میں پوسٹ کی گئی ٹویٹس فرقہ وارانہ تھیں اور انہوں نے بالی ووڈ کی مشہور شخصیات کو نشانہ بنایا تھا۔ ان پر 2020 میں آئی پی سی کے دفعہ 153 (فساد پیدا کرنے کے ارادے سے اشتعال انگیزی کرنا)، 500 (ہتک عزت کی سزا) اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: