உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کمل ہاسن کی اچانک خراب ہوئی طبیعت، چیک اپ کے بعد ملی اسپتال سے چھٹی!

    کمل ہاسن کی اچانک خراب ہوئی طبیعت، چیک اپ کے بعد ملی اسپتال سے چھٹی!

    کمل ہاسن کی اچانک خراب ہوئی طبیعت، چیک اپ کے بعد ملی اسپتال سے چھٹی!

    کمل ہاسن کے ورک فرنٹ کی بات کریں تو وہ انڈین 2 کی شوٹنگ میں مصروف ہیں۔ اس کے ستھ ہی اداکار بگ باس تمل کے آنے والے سیزن میں بھی دکھائی دینے والے ہیں۔ وہ لگاتار شوٹنگ اور ٹریولنگ میں مصروف ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Chennai, India
    • Share this:
      ساوتھ اور ہندی فلم انڈسٹری میں اپنی ایکٹنگ کا جلوہ بکھیر چکے ایکٹر کمل ہاسن کو اسپتال میں بھرتی کرایا گیا ہے۔ رپورٹس کی مانیں تو ایکٹر کو بخار کی شکایت تھی۔ وہ جب اسپتال سے حیدرآباس واپس لوٹے رہے تھے تو انہوں نے بے چینی کی شکایت کی تھی۔ اس کے بعد اسپتال میں انہیں بھرتی کرایا گیا تھا۔ حالانکہ اب کہا جارہا ہے کہ ان کی صحت ٹھیک ہے۔ کہا یہ بھی جارہا ہے کہ اب انہیں اسپتال سے چھٹی بھی مل گئی ہے۔ ڈاکٹر کی جانب سے انہیں آرام کرنے کی صلاح دی گئی ہے۔ ان کی صحت کو لے کر ایکٹر کی جانب سے کوئی آفیشیل بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

      میڈیا رپورٹس کی مانیں تو چہارشنبہ کو جب کمل ہاسن حیدرآباد سے لوٹ رہے تھے تو اسی دوران انہیں بے چینی کی شکایت ہوئی تھی۔ ان کی اچانک طبیعت بگڑ گئی تھی۔ پہلے انہیں بے چینی ہوئی تھی اور ان کو ہلکا سا بخار آیا تھا۔ حیدرآباد سے لوٹنے کے فوری بعد اداکار کو علاج کے لئے چنئی کے اسپتال میں بھرتی کرایا گیا تھا۔ حالانکہ، اب کہا جارہا ہے کہ انہیں اسپتال سے چھٹی مل چکی ہے، اس پر ان کی جانب سے کوئی آفیشیل بیان نہیں آیا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      ’ہڈی‘ کے رول میں جان پھونکنے کے لیے نوازالدین صدیقی نے کی تھی زبردست تیاری

      یہ بھی پڑھیں:

      سشمیتا سین نے سالگرہ کے موقع پر شیئر کی سیلفی، بتایا عمر سے جڑا یہ راز


      بہرحال، اگر اس کے علاوہ کمل ہاسن کے ورک فرنٹ کی بات کریں تو وہ انڈین 2 کی شوٹنگ میں مصروف ہیں۔ اس کے ستھ ہی اداکار بگ باس تمل کے آنے والے سیزن میں بھی دکھائی دینے والے ہیں۔ وہ لگاتار شوٹنگ اور ٹریولنگ میں مصروف ہیں۔ اسی وجہ سے ہوسکتا ہے کہ ایکٹر کو تھوڑا اسٹریس اور تھکاوٹ ہوگئی اور ان کی طبیعت بگڑ گئی۔ رپورٹس کی مانیں تو وہ منی رتنم کی فلم کے ایچ 234 میں بھی بھی نظرآنے والے ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: