உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Pakistani Restaurent Controversy: پاکستانی ریستوراں نے مارکیٹنگ کیلئے عالیہ بھٹ کی اس فلم کے سین کا کیا غلط استعمال، جم کر ہورہی تنقید

    Pakistani Restaurent Controversy: پاکستانی ریستوراں نے مارکیٹنگ کیلئے عالیہ بھٹ کی اس فلم کے سین کا کیا غلط استعمال، جم کر ہورہی تنقید ۔ فائل فوٹو ۔

    Pakistani Restaurent Controversy: پاکستانی ریستوراں نے مارکیٹنگ کیلئے عالیہ بھٹ کی اس فلم کے سین کا کیا غلط استعمال، جم کر ہورہی تنقید ۔ فائل فوٹو ۔

    Pakistani Restaurent Controversy, Gangubai, Alia Bhatt, Karachi: پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ایک مشہور ریستوراں اپنے یہاں گراہکوں کو راغب کرنے کے لیے عالیہ بھٹ کی فلم ’گنگو بائی‘ کے ایک مقبول سین ​​کا استعمال کرنے پر تنقید کی زد میں آگیا ہے ۔

    • Share this:
      کراچی: پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ایک مشہور ریستوراں اپنے یہاں گراہکوں کو راغب کرنے کے لیے عالیہ بھٹ کی فلم ’گنگو بائی‘ کے ایک مقبول سین ​​کا استعمال کرنے پر تنقید کی زد میں آگیا ہے ۔ سوئنگس نامی ریستوراں کو فلم کے ایک سین کا استعمال کرنے پر جمعہ کو سوشل میڈیا پر کافی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ فلم ایک سیکس ورکر کی حقیقی زندگی پر مبنی ہے جو اپنی ہی کمیونٹی کی خواتین کے حقوق کے لئے لڑتی ہے۔ کماٹی پورہ میں چھوڑے جانے کے بعد جسم فروشی کیلئے مجبورکردی گئی گنگو بائی اپنے پہلے گراہک کو راغب کرنے کی پوری کوشش کرتی ہے ۔

      اس کے کلپ اور ڈائیلاگ "آ جا نا راجہ - کس بات کا کر رہا ہے تو انتظار" کو ریستوراں میں 'مردوں کے لیے خاص دن' پر گراہکوں کو راغب کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ ریستوراں کی پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ "سوئنگس راجا کو یہاں بلا رہا ہے ۔ آ جاو اور سوئنگس میں پیر کو مردوں کے خاص دن پر 25 فیصد چھوٹ سے لطف اندوز ہوں ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: اس حسینہ نے پھر پار کی بولڈنیس کی حد، بدن کو صرف چادر سے ڈھک شیئر کی ایسی تصویر


      سوشل میڈیا پر کرکری ہونے اور اپنے صارفین کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کے کے بعد ریستوراں کے مالک نے آدھے من سے معافی مانگی ، جس کے بعد 'سوئنگس' کی مزید تنقید ہونے لگی ۔

       

      یہ بھی پڑھئے:  اداکارہ نصرت جہاں نے برالیٹ میں کرایا بولڈ فوٹوشوٹ، فینس نے کہہ دی ایسی بات


      ریستوران کے اس فعل سے لوگوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں، جس نے سنجے لیلا بھنسالی کی فلم کے ایڈیٹ شدہ کلپس کو اپنی مارکیٹنگ کی حکمت عملی کے طور پر اپنے سوشل میڈیا پیجز پر تشہیری حربے کے طور پر استعمال کیا ہے۔

      تشہیر کے اس طریقہ پر سوشل میڈیا پر تنقید کا سیلاب آگیا ہے ۔ کنٹینٹ کرئیٹر دانیال شیخ نے فیس بک پر لکھا: ’’یہ کیا ہے؟ یہ خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کو بڑھاوا دینا اور ان خواتین کا مذاق اڑانا ہے، جنہیں جسم فروشی کرنے پر مجبور کیا گیا ۔"
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: