உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اس وجہ سےSalman Khanفلموں میں اُتار دیتے ہیں شرٹ، خود کیا انکشاف، جان کر آپ رہ جائیں گے دنگ

    سلمان خان اس لئے اتارتے ہیں اپنی شرٹ؟

    سلمان خان اس لئے اتارتے ہیں اپنی شرٹ؟

    Salman Khan Shirtless: ان دنوں سلمان خان اپنی آنے والی فلموں کبھی عید کبھی دیوالی(Kabhi Eid Kabhi Diwali) اور ٹائیگر 3 کو(Tiger 3) لے کر مصروف ہیں۔ ان کے مداح ان دونوں فلموں کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔

    • Share this:
      Salman Khan Shirtless: دبنگ خان کے نام سے مشہور سلمان خان (Salman Khan) بالی ووڈ کا ایک ایسا نام ہے جن کی کسی فلم میں محض موجودگی ہی ہٹ ہونے کی ضمانت دیتی ہے۔ سلمان خان آئے دن سرخیوں میں رہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وہ اپنی شخصیت کی وجہ سے بھی جانے جاتے ہیں۔ فلموں میں شرٹ اتارنے کے معاملے میں ان کا کوئی مقابلہ نہیں۔ سلمان خان نے پہلی بار فلم 'پیار کیا تو ڈرنا کیا' کے گانے میں اپنی شرٹ اتاری تھی۔ اس کے بعد نہ جانے کتنی فلموں میں ان کی بہترین باڈی دیکھنے کو ملی۔

      کیوں اتارتے ہیں فلموں میں شرٹ؟
      سلمان خان کے مداحوں کے دلوں میں اکثر یہ سوال آتا ہے کہ وہ فلموں میں اپنی شرٹ کیوں اتارتے ہیں؟ تو اس کا جواب سلمان نے خود دیا ہے، جی ہاں، کچھ دن قبل دبئی میں منعقدہ آئیفا ایوارڈ تقریب میں رتیش دیش مکھ اور منیش پال نے وہاں موجود لوگوں سے سلمان سے متعلق سوالات کیے تھے۔ شرٹ لیس ہونے کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال پر جینیلیا ڈی سوزا نے کہا کہ سلمان ایسا اس لیے کرتے ہیں کیونکہ وہ کول ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:

      یہ ہریانوی ڈانسر دے رہی ہیں Sapna Choudharyکو کڑی ٹکر،اپنے ٹھمکوں سے کردیتی ہے سب کو مدہوش

      یہ بھی پڑھیں:
      ’رسوڑے میں کون تھا‘فیمKokila Benاس فرنگی بہو کو سکھارہی ہیں ایسی ایسی باتیں، ویڈیوہواوائرل

      حالانکہ سلمان نے ان کے اس جواب کو غلط بتایا اور خود اس سوال کا جواب دے دیا۔ سلمان نے منیش کو اپنے جواب میں کہا کہ منیش، اگر آپ کے پاس مہنگی اور لگژری کار ہے تو کیا آپ اسے ڈھانپ کر رکھیں گے؟ اس پر منیش پال بھی کہتے ہیں کہ ہاں میں تو خوب دکھاؤں گا۔ فی الحال ان دنوں سلمان خان اپنی آنے والی فلموں کبھی عید کبھی دیوالی(Kabhi Eid Kabhi Diwali) اور ٹائیگر 3 کو(Tiger 3) لے کر مصروف ہیں۔ ان کے مداح ان دونوں فلموں کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: