உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Lata Mangeshkar: ’لتا کی آواز کا جادو رہتی دنیا تک رہے گا‘ پاکستانی شائقین نے لتامنگیشکر کی وفات پر یوں کیا اظہار خیال

    تصویر ٹوئٹر: Virender Sehwag

    تصویر ٹوئٹر: Virender Sehwag

    لتامنگیشکر کی شہرت سرحدوں سے بھی ماورا تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے شائقین دنیا بھر کے تمام ممالک میں پائے جاتے ہیں۔ ہندوستان کے ہر چپے چپے میں ان کو سنا جاتا ہے۔ اسی طرح ہندوستان کے پڑوسی ملک پاکساتن میں بھی ان کے شائقین کی بڑی تعداد ایسی ہے، جنھوں نے لتا کے انتقال پر اپنے گہرے رنج اور دیکھ درد کا اظہار کیا ہے۔

    • Share this:
      Lata Mangeshkar Passes Away: ہندی سنیما کی لیجنڈ گلوکارہ لتامنگیشکر اتوار 6 فروری 2022 کی صبح انتقال کر گئیں۔ ’نائٹنگل آف انڈیا‘ کے لقب سے مشہور گلوکاہ نے ممبئی کے بریچ کینڈی اسپتال میں آخری سانس لی جہاں وہ تقریباً ایک ماہ سے داخل تھیں۔ ان کی بہن اوشا منگیشکر اور ان کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کے مطابق لیجنڈری گلوکارہ لتا کا اعضا کی ناکامی کے باعث انتقال ہو گیا۔ وہ 92 برس کی تھیں۔

      لتامنگیشکر کی شہرت سرحدوں سے بھی ماورا تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے شائقین دنیا بھر کے تمام ممالک میں پائے جاتے ہیں۔ ہندوستان کے ہر چپے چپے میں ان کو سنا جاتا ہے۔ اسی طرح ہندوستان کے پڑوسی ملک پاکساتن میں بھی ان کے شائقین کی بڑی تعداد ایسی ہے، جنھوں نے لتا کے انتقال پر اپنے گہرے رنج اور دیکھ درد کا اظہار کیا ہے۔

      پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات حکومت پاکستان چوہدری فواد حسین نے ٹوئٹ کیا کہ ’’لتا منگیشکر کا انتقال موسیقی کے ایک عہد کا خاتمہ ہے، لتا جی نے عشروں تک سر کی دنیا پر حکومت کی اور ان کی آواز کا جادو رہتی دنیا تک رہے گا، جہاں جہاں اردو بولی اور سمجھی جاتی ہے وہاں لتا منگیشکر کو الوداع کہنے والوں کا ہجوم ہے، #LataMangeshkar‘‘


      پاکستان کی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا کہ ’’لتا منگیشکر کے انتقال سے دنیائے موسیقی نے ایک ایسے گلوکار کو کھو دیا ہے جس نے اپنی سریلی آواز سے نسلوں کو مسحور کیا تھا۔ میری نسل کے لوگ اس کے خوبصورت گانے سنتے ہوئے بڑے ہوئے جو ہماری یادوں کا حصہ رہیں گے۔ وہ سکون سے آرام کرے!‘‘


      پارلیمانی لیڈر پی پی پی؛ چیئرمین خارجہ امور کمیٹی سینیٹ، پاکستان و سابق قائد حزب اختلاف سینیٹر شیری رحمان نے ٹوئٹ کیا کہ ’’#لتامنگیشکر نے سریلی، ورچوسو گانے، سنیما پلے بیک اور بہت کچھ پیش کیا۔ ان کے انتقال کے بارے میں سن کر دکھ ہوا۔ ان کے پاس اتنا وسیع ذخیرہ تھا، 5 پسندیدہ گانوں کا انتخاب کرنا بھی ناممکن ہے، تو ایک یہ ہے: آج پھر جینے کی تمنا ہے‘‘




      لتا منگیشکر ملک کی سب سے بڑی ہستیوں میں سے ایک تھیں۔ اس نے نہ صرف اپنے جادوئی فن سے سب کو قائل کیا ہے بلکہ اپنی حیرت انگیز شخصیت سے سب کی پسندیدہ بھی رہی ہیں۔ گزشتہ کئی دنوں سے پورا ملک کورونا جیسی بیماری سے لڑتے لڑتے لتا دیدی کے لیے دعائیں کر تا رہا، لیکن ان کا اس دنیا میں سفر اب ختم ہو چکا ہے۔ 8 جنوری کو لتا منگیشکر کو کورونا مثبت ہونے اور نمونیا جیسی بیماری میں مبتلا ہونے کے بعد ممبئی کے بریچ کینڈی اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔تب سے اب تک وہ آئی سی یو میں تھی۔


      اب فلم انڈسٹری سمیت ملک بھر اور بیرون ملک سے لتا جی کو خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔ ہر کسی میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔

      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: