உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Lata Mangeshkar: جب لتامنگیشکر نےسب سےپہلے ’اے میرے وطن کے لوگو‘ کو گایا تو لوگ رہ گئے دنگ

    حب الوطنی پر مبنی گانا ’’اے میرے وطن کے لوگو‘‘ چین ۔ ہندوستان جنگ کے بعد لکھا گیا تھا اور تب سے یہ ہندوستانی قوم پرستی کی علامت بن گیا ہے۔ جب لتا منگیشکر نے اسے 27 جنوری 1963 کو نیشنل اسٹیڈیم میں صدر ڈاکٹر ایس رادھا کرشنن اور وزیر اعظم جواہر لال نہرو کی موجودگی میں گایا تو اس وقت کے وزیر اعظم کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں تھی۔

    حب الوطنی پر مبنی گانا ’’اے میرے وطن کے لوگو‘‘ چین ۔ ہندوستان جنگ کے بعد لکھا گیا تھا اور تب سے یہ ہندوستانی قوم پرستی کی علامت بن گیا ہے۔ جب لتا منگیشکر نے اسے 27 جنوری 1963 کو نیشنل اسٹیڈیم میں صدر ڈاکٹر ایس رادھا کرشنن اور وزیر اعظم جواہر لال نہرو کی موجودگی میں گایا تو اس وقت کے وزیر اعظم کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں تھی۔

    حب الوطنی پر مبنی گانا ’’اے میرے وطن کے لوگو‘‘ چین ۔ ہندوستان جنگ کے بعد لکھا گیا تھا اور تب سے یہ ہندوستانی قوم پرستی کی علامت بن گیا ہے۔ جب لتا منگیشکر نے اسے 27 جنوری 1963 کو نیشنل اسٹیڈیم میں صدر ڈاکٹر ایس رادھا کرشنن اور وزیر اعظم جواہر لال نہرو کی موجودگی میں گایا تو اس وقت کے وزیر اعظم کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں تھی۔

    • Share this:
      Lata Mangeshkar Passes Away: ہندی سنیما کی لیجنڈ گلوکارہ لتا منگیشکر کے سب سے مشہور گانوں میں حب الوطنی پر مبنی کمپوزیشن ’’اے میرے وطن کے لوگو‘‘ (Aye Mere Watan Ke Logon) گانا ہے۔ جو کہ چین کے ساتھ 1962 کی جنگ میں مارے گئے ہندوستانی فوجیوں کی یاد میں 1963 میں یوم جمہوریہ کے موقع پر نئی دہلی کے نیشنل اسٹیڈیم میں پیش کیا گیا تھا۔ لتا منگیشکر نے اسے صدر ایس رادھا کرشنن (Dr S Radhakrishnan) اور سابق وزیر اعظم جواہر لال نہرو (Pandit Jawaharlal Nehru) کی موجودگی میں براہ راست گایا۔

      حب الوطنی پر مبنی گانا ’’اے میرے وطن کے لوگو‘‘ چین ۔ ہندوستان جنگ کے بعد لکھا گیا تھا اور تب سے یہ ہندوستانی قوم پرستی کی علامت بن گیا ہے۔ جب لتا منگیشکر نے اسے 27 جنوری 1963 کو نیشنل اسٹیڈیم میں صدر ڈاکٹر ایس رادھا کرشنن اور وزیر اعظم جواہر لال نہرو کی موجودگی میں گایا تو اس وقت کے وزیر اعظم کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں تھی۔ نہرو نے کہا کہ ایک سچا ہندوستان اس گانے سے پوری طرح متاثر ہو جائے گا۔

      یہ ابتدائی طور پر دہلی کے نیشنل اسٹیڈیم میں ایک فنڈ ریزر میں پیش کیا گیا تھا، جس کا اہتمام فلم انڈسٹری نے ہندوستانی جنگی بیواؤں کے لیے کیا تھا۔ یہ گانا سی رام چندر نے ترتیب دیا تھا اور اسے لتا منگیشکر نے گایا تھا۔ جیسے ہی ساڑھے چھ منٹ کا گانا گایا گیا، تب پنڈت جواہر لال نہرو کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔ آئیے اس بہت مشہور روح پرور راگ کے بارے میں مزید پڑھتے ہیں۔

      ابتدا میں جب لتا منگیسکر نے اے میرے وطن کے لوگو گانے سے انکار کر دیا تو ان کی جگہ آشا بھوسلے کے نام پر غور کیا گیا۔ تاہم کوی پردیپ لتا کو گانے کے لیے قائل کرنے میں کامیاب رہے۔

      سگریٹ کے ڈبے کے ایلومینیم ورق پر لکھا:

      پردیپ نے انکشاف کیا تھا کہ اے میرے وطن کے لوگو کی لائنیں ان کے ذہن میں اس وقت آئی تھیں جب وہ ممبئی کے ماہم بیچ پر ٹہل رہی تھی۔ ان کے پاس قلم یا کاغذ نہ ہونے کی وجہ سے انھوں نے قریب سے گزرنے والے ایک اجنبی سے قلم منگوایا اور سگریٹ کے ڈبے کے المونیم فوائل پر یہ سطریں لکھ دیں۔

      لتا اور موسیقار کے درمیان رائے کا فرق:

      اس بات کی تصدیق کی گئی کہ لتا منگیشکر گانا گائیں گی اور سی رام چندر اسے کمپوز کریں گے۔ گلوکار اور موسیقار کے درمیان اختلاف تھا اور لتا نے گانا چھوڑ دینے کا انتخاب کیا۔ اس کے بعد آشا بھوسلے نے انھیں گانے کے لیے کہا گیا۔ لیکن پردیپ اس بات پر بضد تھے کہ اسے صرف لتا ہی گا سکتی ہیں۔ انہوں نے محسوس کیا کہ لتا کی آواز اس گانے کو جو احساس اور انصاف دے سکتی ہے وہ بے مثال ہے۔ اس کے بعد پردیپ لتا کے پاس گیا اور اسے گانے کے لیے راضی کیا۔

      لتا نے جب پہلی بار گانا سنا تو رو پڑی:

      کہا جاتا ہے کہ جب لتا نے پہلی بار گانے کے بول سنے تو وہ رو پڑیں۔ وہ فوراً اسے گانے کے لیے راضی ہوگئیں لیکن اس شرط پر کہ پردیپ خود ریہرسل کے دوران موجود رہیں گے۔ حالانکہ گانا سننے کے بعد لتا نے مشورہ دیا کہ اسے سولو کے بجائے ڈوئیٹ میں گانا چاہیے۔ دوسری طرف پردیپ چاہتے تھے کہ لتا اسے اکیلے گائے۔ اس گانے کی ریہرسل لتا اور آشا نے جوڑی میں ہی کی تھی، لیکن آشا نے خود کو گانے سے دور کر لیا۔ لتا نے اسے سمجھانے کی بہت کوشش کی لیکن آشا نے اپنا فیصلہ کر لیا تھا۔

      اخبارات میں لتا اور آشا دونوں کا نام گلوکارہ کے طور پر شائع ہوا تھا۔ عظیم موسیقار اور گلوکار ہیمنت کمار نے اس ناکامی کو سنبھالنے کی کوشش کی لیکن وہ بھی آشا کو قائل نہ کر سکے۔ پھر لتا نے اسے دہلی میں اکیلے گایا۔




      جب لتا منگیشکر  نے سب سے پہلے ’اے میرے وطن کے لوگو‘ کو گایا تو لوگ دنگ رہ گئے تھے۔ اس وقت سب لوگ ایسا ہی محسوس کررہے تھے کہ گویا یہ ان کے اپنے دل کی آواز ہے۔

      92 سالہ گلوکار نے کئی زبانوں میں نغمے گانے کا ریکارڈ بنایاہے۔انہوں نے  1000 سے زیادہ ہندی فلموں میں گانے ریکارڈ کیے ہیں۔ لتا منگیشکر 28 نومبر 1921 کو پیدا ہوئیں۔ انہوں نے ہندی سنیما میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ لتا منگیشکر کو ہندوستانی سنیما میں نمایاں خدمات انجام دینے  کے لئے پدم بھوشن، پدم وبھوشن، دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سمیت کئی قومی فلم ایوارڈز سے نوازا گیا ہے۔

      ان کا نام گنیز ورلڈ بک ریکارڈ میں بھی شامل ہے۔ انہوں نے  بہت چھوٹی عمر میں ہی گانا شروع کر دیا تھا۔ والد کے انتقال کے بعد خاندان کی ذمہ داری ان پر آ گئی تھی۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: