உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کرن جوہر کی حمایت میں آئے مہیش بھٹ ، پاکستانی فنکاروں کی بھی کی وکالت

    بالی ووڈ کے معروف فلمساز اور ڈائریکٹر مہیش بھٹ نے پاکستانی فنکاروں کے بالی ووڈ میں کام کرنے پر ہنگامہ آرائی کے دوران کہا کہ دہشت گردی ہماری زندگی پر کئی طرح سے اثرانداز ہوتی ہے اور پاکستانی فنکاروں کی ہندوستان میں ہو رہی مخالفت بھی اسی کا ہی ایک مہلک اثر ہے ۔

    بالی ووڈ کے معروف فلمساز اور ڈائریکٹر مہیش بھٹ نے پاکستانی فنکاروں کے بالی ووڈ میں کام کرنے پر ہنگامہ آرائی کے دوران کہا کہ دہشت گردی ہماری زندگی پر کئی طرح سے اثرانداز ہوتی ہے اور پاکستانی فنکاروں کی ہندوستان میں ہو رہی مخالفت بھی اسی کا ہی ایک مہلک اثر ہے ۔

    بالی ووڈ کے معروف فلمساز اور ڈائریکٹر مہیش بھٹ نے پاکستانی فنکاروں کے بالی ووڈ میں کام کرنے پر ہنگامہ آرائی کے دوران کہا کہ دہشت گردی ہماری زندگی پر کئی طرح سے اثرانداز ہوتی ہے اور پاکستانی فنکاروں کی ہندوستان میں ہو رہی مخالفت بھی اسی کا ہی ایک مہلک اثر ہے ۔

    • Pradesh18
    • Last Updated :
    • Share this:
      چندی گڑھ : بالی ووڈ کے معروف فلمساز اور ڈائریکٹر مہیش بھٹ نے پاکستانی فنکاروں کے بالی ووڈ میں کام کرنے پر ہنگامہ آرائی کے دوران کہا کہ دہشت گردی ہماری زندگی پر کئی طرح سے اثرانداز ہوتی ہے اور پاکستانی فنکاروں کی ہندوستان میں ہو رہی مخالفت بھی اسی کا ہی ایک مہلک اثر ہے ۔ بھٹ نے کہا کہ حکومت ہند نے واضح کر دیا ہے کہ ہندوستان میں آکر پاکستانی فنکاروں کے کام کرنے پر روک نہیں لگائی جا سکتی ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں جو مخالفت ہو رہی ہے وہ دہشت گردانہ حملوں کے بعد لوگوں کا غصہ ہے ، لیکن اس غصے کی وجہ سے دونوں ممالک کے لوگوں کو باہمی تعلقات ختم نہیں کرنے چاہئے ۔

      بھٹ نے کہا کہ ان کی ذاتی رائے ہے کہ دہشت گردی پر لگام لگنی چاہئے، مگر دونوں ممالک کے لوگ رابطے میں رہنے چاہئیں ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے لوگوں کو اپنی حکومتوں پر ہر مسئلے کو بات چیت سے حل کرنے کے لئے دباؤ بنانا چاہئے ۔ بھٹ نے کہا کہ عوام کو جنگ کرنے کی نہیں ، بلکہ جنگ کو روکنے کی کوششیں کرنی چاہئے ۔

      مہیش بھٹ نے کرن جوہر کی فلم اے دل ہے مشکل میں پاکستانی اداکار فواد خان کے کام کرنے کی وجہ سے چار ریاستوں کے سنیما مالکان کے فلم کی نمائش نہ کرنے کے فیصلے پر کہا کہ کرن جوہر ہمارے ملک کا ہی شہری ہے اور اس فلم کو روکنے سے ہمارے ملک کے لوگوں کا ہی نقصان ہوگا ۔ یہ فلم اس وقت شروع کی گئی تھی جب دونوں ملکوں کے درمیان سب کچھ ٹھیک تھا اور ہمارے وزیر اعظم خود چل کر نواز شریف سے ملنے پاکستان گئے تھے اور اب جب رشتے بگڑ گئے ہیں ، تو کرن جوہر کی اس فلم کی مخالفت کی جارہی ہے ۔ اس ملک کے لوگوں کو یہ طے کرنا ہوگا کہ یہ ملک لوگوں کے موڈ کے حساب سے چلے گا یا پھر پالیسی کے حساب سے؟ ۔
      First published: