உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ’’پولیس اہلکار سخت گیر اور بے رحم نہیں ہوتے، وہ بھی جذبات رکھتے ہیں‘‘ ممبئی پولیس کا رقص کرتے ہوئے ویڈیو وائرل

    کمبلے کے بقول ایک پولیس اہلکار کی حیثیت سے میری ذمہ داری ہے کہ میں پہلے امن و امان کو برقرار رکھوں اور شہریوں کی حفاظت کروں، لیکن اپنی ہفتہ وار چھٹیوں پر میں اپنے بچوں ، اپنی بہن کے بچوں کے ساتھ رقص کرتا ہوں اور تفریح ​​بھی کرتا ہوں۔

    کمبلے کے بقول ایک پولیس اہلکار کی حیثیت سے میری ذمہ داری ہے کہ میں پہلے امن و امان کو برقرار رکھوں اور شہریوں کی حفاظت کروں، لیکن اپنی ہفتہ وار چھٹیوں پر میں اپنے بچوں ، اپنی بہن کے بچوں کے ساتھ رقص کرتا ہوں اور تفریح ​​بھی کرتا ہوں۔

    کمبلے کے بقول ایک پولیس اہلکار کی حیثیت سے میری ذمہ داری ہے کہ میں پہلے امن و امان کو برقرار رکھوں اور شہریوں کی حفاظت کروں، لیکن اپنی ہفتہ وار چھٹیوں پر میں اپنے بچوں ، اپنی بہن کے بچوں کے ساتھ رقص کرتا ہوں اور تفریح ​​بھی کرتا ہوں۔

    • Share this:
      عام طور پر پولیس کا نام سنتے ہی ایک سخت رویہ کا احساس ہوتا ہے۔ سمجھا جاتا ہے کہ وہ بہت سخت مزاج اور بے رحم ہوتے ہیں۔ وہ انسانی جذبات و احساسات کا ذرہ کا لحاظ نہیں رکھتے، لیکن یہ سب باتوں اس وقت غلط ثابت ہوتی ہیں، جب ایک پولیس اہلکار کی جانب سے رقص کرتے ہوئے ویڈیو وائرل ہوتا ہے۔
      امول یشونت کمبلے Amol Yashwant Kamble ممبئی پولیس میں ایک 38 سالہ پولیس نائک سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ڈانس کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد انٹرنیٹ کی دنیا میں پسند کیے جارہے ہیں۔ کمبلے ڈیوٹی کے اوقات یا چھٹی کے دنوں میں ڈانس کرتے ہیں۔ وہ نائیگاؤں پولیس ہیڈ کوارٹر میں تعینات ہیں۔ اب ان کی ایک ویڈیو کے بعد ان کی تعریف کی جا رہی ہے ، جہاں انہوں نے فلم ’’ اپو راجا ‘‘ سے ’’ آیئے ہے راجہ ‘‘ پر ڈانس کرتے دیکھائی دے رہے ہیں۔

      ویڈیو کے بارے میں بات کرتے ہوئے کمبلے نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ ’’یہ ڈانس ایک آن ڈیوٹی پولیس اہلکار کے تھیم پر مبنی تھا جس میں ایک دو پہیہ سوار سے کہا گیا کہ وہ اپنا ماسک صحیح طریقے سے پہن لے اور بعد میں دونوں اپنے ڈانس کی چالیں دکھاتے ہیں۔"

      جبکہ کمبلے نے 2004 میں پولیس فورس میں شمولیت اختیار کی تھی، وہ چھوٹی عمر سے ہی رقص کا شوق رکھتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ’’میرا بڑا بھائی کوریوگرافر ہے اور میں نے پولیس فورس میں شمولیت سے پہلے اس کے ساتھ کچھ ڈانس شو کیے۔ ایک پولیس اہلکار کی حیثیت سے میری ذمہ داری ہے کہ میں پہلے امن و امان کو برقرار رکھوں اور شہریوں کی حفاظت کروں، لیکن اپنی ہفتہ وار چھٹیوں پر میں اپنے بچوں ، اپنی بہن کے بچوں کے ساتھ رقص کرتا ہوں اور تفریح ​​بھی کرتا ہوں۔

      کچھ لوگ میرے ویڈیوز پر تبصرہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میرا رقص ان کو متاثر کرتا ہے۔ یہ تبصرے مجھے خوش کرتے ہیں۔ لوگوں کو اپنے مشاغل کو آگے بڑھانا چاہیے اور کچھ وقت نکال کر اپنے جذبہ پر عمل کرنا چاہیے اور مثبت سوچنا چاہیے۔

      اس سے قبل ایک ویڈیو میں مرد اور خاتون پولیس اہلکار بالی ووڈ کے گانے "ٹکور ٹکور دیکھے ہو کیا" کی دھن پر عمل کرتے ہوئے دیکھے گئے تھے اور وہ دونوں اپنی وردیاں پہن رہے تھے۔ ویڈیو چند گھنٹوں میں وائرل ہوگئی تھی۔ دونوں کانسٹیبلز کو معطل کیا گیا ہے۔

      ہیڈ کانسٹیبل ششی اور کانسٹیبل وویک متھور ماڈل ٹاؤن پولیس اسٹیشن میں تعینات تھے۔ نارتھ ویسٹ ڈی سی پی ، اوشا رنگنانی نے ویڈیوز کے نوٹس میں لائے جانے کے بعد شوکاز نوٹس جاری کیا۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ دونوں ڈسپلنڈ فورس کا حصہ تھے اور ان کا طرز عمل اپنے سرکاری فرائض کی انجام دہی میں غیر پیشہ ورانہ دکھائی دیا۔ عہدیداروں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ دونوں کانسٹیبل COVID-19 ہدایات پر عمل نہیں کر رہے تھے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: