ہوم » نیوز » انٹرٹینمنٹ

نیشنل فلم ایوارڈ : علاقائی فلموں کا جلوہ ، ولیج راک اسٹارس بہترین فلم ، آنجہانی ونود کھنہ کو دادا صاحب پھالکے ایوارڈ

نیشنل فلم ایوارڈ میں اس سال علاقائی فلموں کا جلوہ رہا اور تقریبا ہر زمرے میں زیادہ تر انعام علاقائی فلموں نے ہی حاصل کئے۔

  • UNI
  • Last Updated: Apr 13, 2018 09:34 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
نیشنل فلم ایوارڈ : علاقائی فلموں کا جلوہ ، ولیج راک اسٹارس بہترین فلم ، آنجہانی ونود کھنہ کو دادا صاحب پھالکے ایوارڈ
آنجہانی ونود کھنہ: فائل فوٹو

نئی دہلی : نیشنل فلم ایوارڈ میں اس سال علاقائی فلموں کا جلوہ رہا اور تقریبا ہر زمرے میں زیادہ تر انعام علاقائی فلموں نے ہی حاصل کئے۔ سال 2017 کے لئے نیشنل فلم ایوارڈ کا اعلان کرتے ہوئے مشہور اداکار اور فیچر فلم زمرے کے جیوری سربراہ شیکھر کپور نے کہا کہ علاقائی فلمیں ہندی فلموں سے کہیں بہتر مظاہرہ کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندی فلم کا معیار علاقائی فلموں کےا ٓس پاس بھی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے علم ہی نہیں تھا کہ لکش دیپ میں بھی فلمیں بنتی ہیں۔ ایوارڈز کے لئے فلموں کے انتخاب کی دس دن کی مدت میں میں ملک میں بننے والی ان فلموں کا معیار دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ آسامی فلم ویلج راک اسٹار نے بہترین فلم سمیت چار ایوارڈ جیتے۔بنگلہ فلم ’نگر کرتن‘ کو بہترین اداکار سمیت چار ایوارڈ ملے۔خاص طور سے تیلگو میں بنی ’باہو بلی ۔2‘، ملیالم فلم ’بھاینکم ‘ کو تین تین ایوارڈ ملے۔

دادا صاحب پھالکے لائف ٹائم ایچیومنٹ ایوارڈ ہندی فلموں کے مشہور اداکار آنجہانی ونود کھنہ کو دیا گیا۔ فیچر فلم کے زمرے میں کل 321 فلموں کا ابتدائی انتخاب کیا گیا تھا۔ آخری دور میں 73 فلمیں منتخب ہوئیں۔جس میں آسامی فلم ’ویلج راک اسٹار‘کو بہترین فلم کا ایوارڈ دیا گیا۔اس کی فلم ساز اور ہدایت کار ریما داس ہیں۔ یہ فلم ایک دورا فتادہ گاؤں کے ان بچوں کی کہانی ہے جو راک اسٹار بننے کا خواب دیکھتے ہیں۔

لکشدیپ میں بنی جساری زبان کی فلم ’سینجر‘ کو بہترین ڈبلیو فلم ، باہوبلی۔ 2 (تیلگو) کو مقبول ترین فلم، مراٹھی فلم موکھریا کو بہترین چلڈرن فلم کا ایوارڈ دیا گیا۔قومی یکجہتی پر بہترین فلم کا ایوارڈ مراٹھی فلم ’دھپہ‘ کو ملا۔ سماجی مسائل کے لئے ملیالم کی ’آلورکم‘ کو ماحولیات کے تحفظ پر ہندی فلم ’ارادہ‘ کو بہترین فلم کا ایوارڈ دیا گیا۔

حال ہی میں دنیا کو الوداع کہنے والی اداکارہ شری دیوی کو فلم ’مام‘ میں ان کی شانداراداکاری کے لئے بہترین اداکارہ قرار دیا گیا اور ردھی سین کو بنگلہ فلم ’نگر کرتن‘ کے لئے بہترین اداکار کا ایوارڈ ملا۔ بہترین اداکارکا ایوارڈ ملیالم فلم بھیانکم کے ہدایت کار جے راج کو ملا۔

نان فیچر فلم کے لئے 156 فلموں میں سے 22 زمروں میں ایوارڈ جیتنے والوں کا اعلان کیا گیا۔ پیاشاہ کی ہدایت میں بنی فلم ’واٹر بے بی‘ کو کسی ہدایت کار کی پہلی فلم میں سب سے بہترین فلم قرار دیا گیا۔
فیچر فلموں میں مختلف زبانوں کی فلموں میں ہندی کے لئے نیوٹن کو ، آسامی کے لئے ’ایشو‘ کو بنگلہ کے لئے ’میوراکشی‘، کنڑ کے لئے ’ہے ویتو رام ککا‘ کو ، مراٹھی کے لئے’کچا لمبو کو، اڑیہ کے لئے ’ہیلوآرسی‘، تمل کے لئے ’ٹولیٹ‘، تیلگو کے لئے ’‘گاجی‘ اور گجرات کے لئے ’ڈی ایچ ایس‘ کو ایوارڈ دیا گیا۔
ایچ آر رحمان کو گیتوں میں موسیقی زمرے میں کاتروویلی دائی اور پلے بیک موسیقی کے زمرے میں ’مام‘ کے لئے بہترین موسیقار قرار دیا گیا۔جے ایم پرہلاد کو کنڑ فلم ’مارچ 22‘‘ کو متھوراتنا گیت کے لئے بہترین موسیقار کا خطاب دیا گیا۔ عباس سلیم مغل کو ’باہوبلی۔2‘ کے لئے بہترین ایکشن ڈائرکٹر، گنیش آچار کو ’ٹوائلٹ ایک پریم کتھا‘ کے لئے، گوری ٹو۔لٹھ مار‘ کے لئے بہترین کوریوگرافر اور آر سی کمل کنن کو ’باہوبلی۔2‘ کے لئے بہترین ایفکٹ کے زمرے میں ایوارڈ کے لئے منتخب کیا گیا۔
First published: Apr 13, 2018 09:32 PM IST