உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    News18India Chaupal میں نوازالدین صدیقی بولے،  میں صوفی سنت ۔ راہب بننا چاہتا تھا

    اداکار نوازالدین صدیقی (nawazuddin siddiqui) نے کہا۔ 'اب بھی ایسا لگتا ہے کہ بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ ایک زندگی بھی کافی نہیں ہوتی ہے۔

    اداکار نوازالدین صدیقی (nawazuddin siddiqui) نے کہا۔ 'اب بھی ایسا لگتا ہے کہ بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ ایک زندگی بھی کافی نہیں ہوتی ہے۔

    اداکار نوازالدین صدیقی (nawazuddin siddiqui) نے کہا۔ 'اب بھی ایسا لگتا ہے کہ بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ ایک زندگی بھی کافی نہیں ہوتی ہے۔ ۔ کبھی کبھی سوچ کر بھی کچھ نہیں ہوتا۔ یہاں تک کہ میں نے راہب، صوفی (sufi-saint monk) بننے کا بھی سوچا تھا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ 22-23 سال تک میں سوچتا رہا کہ میں پہاڑوں پر جاؤں گا، اداکار بننے کے بارے میں بہت بعد میں سوچا۔

    • Share this:
      نئی دہلی۔  News18 India Chaupal: اداکار نوازالدین صدیقی  (nawazuddin siddiqui)  نے جمعرات کو نیوز 18 انڈیا چوپال News18 Chaupal میں شرکت کی۔ اس دوران نوازالدین کا کہنا تھا کہ 'میں حقیقی زندگی میں رومانس نہیں کرسکا، جس کب کعب  اب میں رومانوی فلموں کے ذریعے پوری کر رہا ہوں۔ شاہ رخ خان، سلمان خان، عامر خان، رجنی کانت اور امیتابھ بچن کے ساتھ کام کرنے کی خواہش تھی جو پوری ہوئی۔ نوازالدین نے چوپال میں اپنے بچپن کی یادیں شیئر کیں۔ انہوں نے اپنے کیریئر اور اب تک کے مستقبل پر بھی بات کی۔

      نوازالدین نے کہا، 'میں نے بال ٹھاکرے کا کردار ادا کرنے کے لیے بہت محنت کی لیکن اس کردار کو ناظرین کی طرف سے زیادہ پیار نہیں ملا۔ منٹو کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا، صرف اس کی تصویریں دیکھی تھیں۔ اسی لیے میں نے منٹو کے کردار میں خود کو ڈھالا تھا۔ اب میں کہانی پر مبنی نہیں بلکہ کردار پر مبنی فلموں میں کام کرنا چاہتی ہوں۔ میں کسی ایک کردار کا ذہن پڑھ کر اس میں اداکاری کرنا چاہتا ہوں۔

      نیٹ فلکس کی ویب سیریز 'سیکرڈ گیمز' پر نوازالدین نے کہا، 'جب مجھے یہ کردار ملا تو او ٹی ٹی کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا۔ پہلے میں نے ویب سیریز کے لیے انکار کر دیا تھا، پھر انوراگ کشیپ نے مجھے سمجھایا کہ او ٹی ٹی کی وجہ سے بہت سے فنکاروں کو مواقع مل رہے ہیں، جنہیں شاید کبھی فلموں میں کام نہ ملے۔ ابھی میں 'ٹیکو ویڈز شیرو' کر رہا ہوں۔ 'جوگیرا ساراارا' کامیڈی  فلم ہے۔ اس سال میں لو اسٹوری  پر توجہ مرکوز کر رہا ہوں کیونکہ زندگی میں پیار  کی بہت کمی ہے۔

      میں نے راہب، صوفی بننے کے بارے میں سوچا تھا۔
      اداکار نوازالدین صدیقی  (nawazuddin siddiqui) نے کہا۔ 'اب بھی ایسا لگتا ہے کہ بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ ایک زندگی بھی کافی نہیں ہوتی ہے۔ جیسے جیسے میں آگے بڑھ رہا ہوں ڈر جاتا ہوں۔ میرے والد کا نام نواب ہے، وہ گاؤں میں رہتے تھے۔ اب اپنے بارے میں ایک 'بین الاقوامی نواب' کے بارے میں سن کر اچھا لگتا ہے۔ کبھی کبھی سوچ کر بھی کچھ نہیں ہوتا۔ یہاں تک کہ میں نے راہب، صوفی (sufi-saint monk) بننے کا بھی سوچا تھا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ 22-23 سال تک میں سوچتا رہا کہ میں پہاڑوں پر جاؤں گا، اداکار بننے کے بارے میں بہت بعد میں سوچا۔

      نوازالدین  صدیقی نے کہا، 'میرا دوست مدن گاؤں کی رام لیلا میں رام کا کردار ادا کرتا تھا، جس کی بہت عزت کی جاتی تھی۔ میں اس دوست سے متاثر تھا، اس جیسا بننا چاہتا تھا۔ چھوٹے رول کرنے کے لیے تیار تھا، پھر وانر سینا کا کردار ملا لیکن رام لیلا میں بڑا کردار ادا کرنے کی خواہش ادھوری ہی رہی۔ پہلے میں کردار کا انتخاب کرتے ہوئے ڈر جاتا تھا لیکن اب میرا اعتماد بڑھ گیا ہے اور میں اپنی مرضی کا کردار نبھاتا  ہوں۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: