نوازالدین کی اہلیہ عالیہ صدیقی نے دائر کی پیٹرنٹی ٹسٹ کی درخواست، کہا-اس سے ہی ثابت ہوگی میری حقیقت

 نوازالدین کی اہلیہ عالیہ صدیقی نے دائر کی پیٹرنٹی ٹسٹ کی درخواست، کہا-اس سے ہی ثابت ہوگی میری حقیقت

نوازالدین کی اہلیہ عالیہ صدیقی نے دائر کی پیٹرنٹی ٹسٹ کی درخواست، کہا-اس سے ہی ثابت ہوگی میری حقیقت

عالیہ نے بتایا، سب سے پہلے میں نوازالدین سے 2004 میں ملی تھی۔ اس کے بعد ہم ایکتا نگر، چارکوپ، مہادا، ممبئی میں لیو اِن میں رہے۔

  • News18 Urdu
  • Last Updated :
  • Mumbai, India
  • Share this:
    بالی وود ایکٹر نوازالدین صدیقی کی اہلیہ عالیہ صدیقی نے فیملی کورٹ میں درخواست دائر کر کے اپنے چھوٹے بیٹے کا پیٹرنیٹی ٹسٹ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ عالیہ اس ٹسٹ کے مقصد سے ثابت کرنا چاہتی ہیں کہ ان کے چھوٹے بیٹے کے والد نوازالدین ہی ہیں۔

    نوازالدین کی ماں نے لگائے تھے سنگین الزام

    غورطلب ہے کہ نوازلدین صدیقی کی والدہ مہرالنسا نے الزام لگایا تھا کہ عالیہ صدیقی کا چھوٹا بیٹا ناجائز ہے۔ بتادیں کہ کچھ وقت پہلے عالیہ کے وکیل رضوان صدیقی نے بامبے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، لیکن کچھ وقت بعد اسے واپس لے لیا تھا۔

    عالیہ نے انسٹاگرام پر پوسٹ کیا تھا ویڈیو

    بتا دیں کہ جائیداد کے تنازع میں پھنسنے کے بعد حال ہی میں فلم پروڈیوسر عالیہ نے کہا تھا کہ وہ طلاق کا مقدمہ دائر کریں گی۔ عالیہ عرف زینب عرف انجانا کشور پانڈے کا دعویٰ ہے کہ اداکار نے چھوٹے بیٹے کو اپنا ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ اسی دوران عالیہ نے جمعہ (10 فروری) کو انسٹاگرام پر اداکار نوازالدین کے بارے میں سنسنی خیز انکشافات کئے۔ انہوں نے ایک ویڈیو بھی پوسٹ کی، جس میں انہوں نے کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ میں نے اپنی زندگی کے 18 سال اس شخص کو دیے، جس کی نظروں میں میری کوئی عزت نہیں ہے۔

    یہ بھی پڑھیں:


    یہ بھی پڑھیں:

    عالیہ نے یوں بیان کیا اپنا درد

    عالیہ نے بتایا، سب سے پہلے میں نوازالدین سے 2004 میں ملی تھی۔ اس کے بعد ہم ایکتا نگر، چارکوپ، مہادا، ممبئی میں لیو اِن میں رہے۔ وہاں میں نوازالدین اور ان کے بڑھے بھائی شمس الدین صدیقی ایک ہی کمرے میں رہتے تھے۔ جب ہم نے اپنا سفر شروع کیا تھا، تب ہم کافی خوش تھے۔ مجھے یقین تھا کہ وہ مجھ سے محبت کرتے ہیں اور ہمیشہ مجھے خوش رکھیں گے۔ بتادیں کہ عالیہ پہلے ہی نوازالدین اور ان کے گھروالوں کے خلاف جہیز ہراسانی کا کیس درج کراچکی ہے۔
    Published by:Shaik Khaleel Farhaad
    First published: