உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ممبئی کروز ڈرگس کیس: سپر اسٹار شاہ رخ خان کے بیٹے آرین خان کو NCB نے دی کلین چٹ

    نارکوٹکس کنٹرول بیورو (NCB) نے ہائی پروفائل ممبئی کروز ڈرگس معاملے میں بالی ووڈ سپر اسٹار شاہ رخ خان کے بیٹے آرین خان (Aryan Khan) کو ‘کلین چٹ‘ دے دی ہے۔

    نارکوٹکس کنٹرول بیورو (NCB) نے ہائی پروفائل ممبئی کروز ڈرگس معاملے میں بالی ووڈ سپر اسٹار شاہ رخ خان کے بیٹے آرین خان (Aryan Khan) کو ‘کلین چٹ‘ دے دی ہے۔

    نارکوٹکس کنٹرول بیورو (NCB) نے ہائی پروفائل ممبئی کروز ڈرگس معاملے میں بالی ووڈ سپر اسٹار شاہ رخ خان کے بیٹے آرین خان (Aryan Khan) کو ‘کلین چٹ‘ دے دی ہے۔

    • Share this:
      ممبئی: نارکوٹکس کنٹرول بیورو (NCB) نے ہائی پروفائل ممبئی کروز ڈرگس معاملے میں بالی ووڈ سپر اسٹار شاہ رخ خان کے بیٹے آرین خان (Aryan Khan) کو ‘کلین چٹ‘ دے دی ہے۔ نیوز ایجنسی اے این آئی نے اس بارے میں جانکاری دی ہے۔ آرین خان کو گزشتہ سال ممبئی میں ایک کروز پر چھاپہ ماری کے دوران این سی بی نے کئی دیگر لوگوں کے ساتھ گرفتار کیا تھا اور ان کے پاس ڈرگس برآمد کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ کئی ہفتے تک جیل میں بند رہنے کے بعد آرین خان کو عدالت سے ضمانت ملی تھی۔

      ڈرگس آن کروز معاملے میں این سی بی نے جمعہ کو اسپیشل کورٹ میں چارج شیٹ داخل کی، جس میں اداکار شاہ رخ خان کے بیٹے آرین خان کو ملزم نہیں بنایا گیا ہے۔ این سی بی کے ڈی ڈی جی (آپریشنس) سنجے کمار سنگھ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ آرین خان اور موہک کو چھوڑ کر سبھی ملزمین کے پاس سے نشیلی اشیا برآمد کی گئی۔ این سی بی افسر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ 14 لوگوں کے خلاف این ڈی پی ایس ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت معاملہ درج کیا جا رہا ہے۔ باقی 6 لوگوں کے خلاف ثبوتوں کی کمی میں شکایت درج نہیں کی جارہی ہے۔





      کیا تھا پورا معاملہ، کیوں ہوئی تھی آرین خان کی گرفتاری؟

      آپ کو بتادیں کہ آرین خان کو این سی بی کی ٹیم نے 2 اکتوبر، 2021 کی رات ممبئی کے کروز شپ ٹرمنل سے پکڑا تھا۔ آرین خان کے ساتھ ان کے دوست ارباز مرچنٹ کو بھی این سی بی نے اپنی گرفت میں لیا تھا۔

      این سی بی کا الزام تھا کہ ممبئی سے گوا جا رہے کروز شپ پر ڈرگس پارٹی ہونے والی تھی اور آرین خان اس پارٹی کا حصہ بننے والے تھے۔ ارباز مرچنٹ کے جوتوں سے ڈرگس پکڑی گئی تھی۔ حالانکہ این سی بی کو آرین خان کے پاس سے کوئی نشیلی اشیا نہیں ملی تھی۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: