اپنا ضلع منتخب کریں۔

    ’مجھے کالی بلی کہا جاتا تھا‘پرینکا چوپڑا نے بالی ووڈ کو لے کر کیا بڑا انکشاف

    ’مجھے کالی بلی کہا جاتا تھا‘پرینکا چوپڑا نے بالی ووڈ کو لے کر کیا بڑا انکشاف

    ’مجھے کالی بلی کہا جاتا تھا‘پرینکا چوپڑا نے بالی ووڈ کو لے کر کیا بڑا انکشاف

    پرینکا چوپڑا نے کہا، مجھے کالی بلی اور سانولی بلایا جاتا تھا۔ میرا کہنا ہے کہ اس ملک میں سانولی کا کیا مطلب ہے، جہاں پر زیادہ تر لوگ براون کلر کے ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Mumbai, India
    • Share this:
      پرینکا چوپڑا گلوبل اسٹار بن چکی ہیں۔ وہ بالی ووڈ سے لے کر ہالی ووڈ میں بڑے ستاروں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کام کررہی ہیں۔ فی الحال پرینکا شاندار اداکارہ ہی نہیں بلکہ پروڈیوسر، آتھر اور امیر شخصیت بھی ہیں۔ حالانکہ، اپنے اس کرئیر کے دوران پرینکا چوپڑا کئی طرح کی دقتوں کا سامنا کرچکی ہے۔ ایک انٹرویو کے دوران پرینکا چوپڑا نے بتایا کہ انہیں باڈی شیمنگ جھیلنی پڑی اور ان کے طرح طرح کے نام رکھے گئے تھے۔

      رنگ کی وجہ سے لوگ اڑاتے تھے مذاق
      پرینکا چوپڑا نے سال 2000 میں مس انڈیا کا خطاب جیتا تھا۔ اس کے بعد سال 2002 میں انہوں نے فلم ہیرو سے اپنے کرئیر کی شروعات کی، جس میں وہ سنی دیول کے مقابل نظر آئی تھیں۔ بی بی سی سے بات چیت میں پرینکا چوپڑا نے انکشاف کیا تھا کہ رنگ کی وجہ سے انہیں طرح طرح کے ناموں سے بلایا جاتا تھا۔



       




      View this post on Instagram





       

      A post shared by Priyanka (@priyankachopra)





      یہ بھی پڑھیں:
      ’مووینگ اِن وتھ ملائیکہ‘ کے اس نئے چیٹ فیچرسے شائقین کوہوگایہ فائدہ، اداکارہ نے کیا انکشاف

      یہ بھی پڑھیں:
      حنا خان کو آخر کس نے دے دیا دھوکہ؟ اس ایک پوسٹ کی وجہ سے پریشان ہوئے مداح

      ارجن کپور سے شادی اور بچے کے پلان پر ملائیکہ نے توڑی خاموشی، جانیے کیا کہا؟

      پرینکا چوپڑا کو کہتے تھے کالی بلی
      پرینکا چوپڑا نے کہا، مجھے کالی بلی اور سانولی بلایا جاتا تھا۔ میرا کہنا ہے کہ اس ملک میں سانولی کا کیا مطلب ہے، جہاں پر زیادہ تر لوگ براون کلر کے ہیں۔ مجھے لگا کہ میں زیادہ خوبصورت نہیں ہوں، تو مجھے زیادہ محنت کرنی پڑے گی۔ حالانکہ، مجھے یہ بھی لگتا تھا کہ میں کواسٹارس کے مقابلے میں تھوڑی زیادہ باصلاحیت ہوں، بھلے ہی ان کی اسکن میری اسکن کے مقابلے میں زیادہ گوری تھی۔‘
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: