உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Raj Kundra Bail: جیل سے باہر آئے راج کندرا، پورنو گرافی معاملے میں ملی ضمانت

    Raj Kundra Bail: جیل سے باہر آئے راج کندرا، پورنو گرافی معاملے میں ملی ضمانت۔ فائل فوٹو

    Raj Kundra Bail: جیل سے باہر آئے راج کندرا، پورنو گرافی معاملے میں ملی ضمانت۔ فائل فوٹو

    چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ ایس بی بھاجی پالے نے راج کندرا کی ضمانت (Raj Kundra Bail) عرضی کو 50,000 روپئے کے مچلکے پر منظور کرلیا، جس کے بعد ممبئی کی آرتھر روڈ جیل میں عدالتی حراست میں بند 46 سالہ راج کندرا اب جیل سے باہر آگئے ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      ممبئی: بالی ووڈ اداکارہ شلپا شیٹی (Shilpa Shetty) کے شوہر اور بزنس مین راج کندرا (Raj Kundra) کو پیر کو ممبئی کی ایک مجسٹریٹ عدالت نے ضمانت دے دی۔ چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ ایس بی بھاجی پالے نے راج کندرا کی ضمانت (Raj Kundra Bail) عرضی کو 50,000 روپئے کے مچلکے پر منظور کرلیا، جس کے بعد ممبئی کی آرتھر روڈ جیل میں عدالتی حراست میں بند 46 سالہ راج کندرا اب جیل سے باہر آگئے ہیں۔

      راج کندر کے معاون اور شریک ملزم ریان تھورپے، جنہیں 19 جولائی کو راج کندرا کے ساتھ ہی گرفتار کیا گیا تھا کو بھی عدالت نے مبینہ طور پر فحش فلمیں بنانے اور کچھ ایپ کے ذریعہ انہیں نشر کرنے سے متعلق معاملے میں ضمانت دے دی تھی۔

       



       




      View this post on Instagram





       

      A post shared by Viral Bhayani (@viralbhayani)






      راج کندرا کو ممبئی پولیس کی رائم برانچ نے تعزیرات ہند، انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ اور خواتین کی غیر واضح نمائندگی (ممانعت) ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت معاملہ درج کرنے کے بعد گرفتار کیا تھا۔

       






      View this post on Instagram





       

      A post shared by Viral Bhayani (@viralbhayani)






      پولیس کے ذریعہ معاملے میں اضافی چارج شیٹ داخل کرنے کے کچھ دنوں بعد راج کندرا نے گزشتہ ہفتہ کے روز میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ عدالت میں ضمانت عرضی داخل کی تھی۔ بزنس مین راج کندرا نے اپنی عرضی میں دعویٰ کیا تھا کہ معاملے میں انہیں ’بلی کا بکرا‘ بنایا جا رہا ہے۔ وہیں پورن ریکٹ کی جانچ کر رہی کرائم برانچ کی پراپرٹی سیل نے معاملے کے دو فرار ملزمین کے خلاف لُک آوٹ نوٹس جاری کیا ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: