گھوڑوں کی ریس میں ماں نے گنوادیا تھا سب کچھ، شوٹنگ سے انکار کرنے پر ریکھا کو خوب پیٹتا تھا سوتیلا بھائی

گھوڑوں کی ریس میں ماں نے گنوادیا تھا سب کچھ، شوٹنگ سے انکار کرنے پر ریکھا کو خوب پیٹتا تھا سوتیلا بھائی

گھوڑوں کی ریس میں ماں نے گنوادیا تھا سب کچھ، شوٹنگ سے انکار کرنے پر ریکھا کو خوب پیٹتا تھا سوتیلا بھائی

ریکھا کو زبردستی فلموں میں کام کرنے کے لیے بھیجا جانے لگا۔ نوویں کلاس میں ہی ریکھا کی پڑھائی چھڑوادی گئی تھی۔

  • News18 Urdu
  • Last Updated :
  • Mumbai, India
  • Share this:
    ریکھا بالی ووڈ کی وہ اداکارہ ہیں، جنہیں بچے سے لے کر جوان اور بوڑھے تک پسند کرتے ہیں۔ ریکھا کی خوبصورتی آج بھی برقرار ہے۔ اپنے کرئیر یں کوئی سوپر ہٹ فلموں میں کام کرنے والی ریکھا کا گزرا ہوا کل بے حد دردناک رہا تھا۔ ریکھا کی ماں پشپاولی کو جیمی گنیشن سے  بنا شادی کے دو بیٹیاں ریکھا اور رادھا ہوئیں۔ رائٹر یاسر عثمان نے ریکھا کی زندگی پر لکھی کتاب میں ان کے بچپن کے درد کی پرتوں کو اس طرح سے کھولا ہے کہ وہ کسی کا بھی دل چیرنے کے لیے کافی ہے۔

    ماں کو نہیں ملا بیوی کا درجہ
    ریکھا کے والد جیمینی گنیشن نے کبھی بھی پشپاولی کو بیوی کا درجہ نہیں دیا۔ جیمی گنیشن اپنی ہی فلم کی اداکارہ ساوتری کے پیار میں پڑ گئے تھے۔ انہوں نے ساوتری سے شادی بھی کی۔ اس خبر کو سننے کے بعد پشپاولی بہت پریشان ہوئیں۔ جیمینی گنیشن نے اپنی بیٹیوں سے ملنا بند کردیا تھا۔ یہاں تک کہ انہیں اپنا نام دینے سے بھی انکار کردیا تھا۔ ان سب تکلیفوں سے ریکھا واقف تھیں۔ پشپاولی بچوں کی پرورش کے لیے شوٹنگ میں مصروف رہتی تھیں اور ان پر دھیان نہیں دے پاتی تھیں۔ وہیں ریکھا کے اسکول میں سبھی کو ان کی زندگی کے قصے معلوم تھے۔

    یہ بھی پڑھیں:


    یہ بھی پڑھیں:

    نہ کہنے پر پیٹتا تھا بھائی
    پشپاولی کی عمر ہونے لگی اور انہیں کام ملنا کام ہوگیا۔ انہیں گھوٹے کے ریس میں پیسہ لگانے کی جوئے کی گندی لت بھی تھی۔ ایسے میں سارا پیسہ ختم ہوجانے پر فیملی بربادی کی دہلیز پر پہنچ گئی۔ ریکھا کو زبردستی فلموں میں کام کرنے کے لیے بھیجا جانے لگا۔ نوویں کلاس میں ہی ریکھا کی پڑھائی چھڑوادی گئی تھی۔ پہلے انہیں یہی لگتا تھا کہ ان کی ماں کے پاس پیسے بہت ہیں، لیکن جلد ہی انہیں اصلیت کا پتہ چل گیا۔ بائیوگرافی میں لکھا ہے کہ جب ریکھا کام کر پاجنے سے منع کرتی تھیں تو ان کا سوتیلا بھائی انہیں خوب مارتا پیٹتا تھا۔
    Published by:Shaik Khaleel Farhaad
    First published: