ہوم » نیوز » انٹرٹینمنٹ

نغمہ نگاروں کو ان کا واجب حق دلایا ساحر لدھیانوی نے

ممبئی۔ ساحر لدھیانوی ہندی فلموں کے ایسے پہلے نغمہ نگار تھے جن کا نام ریڈیو سے نشر ہونے والے فرمائشی نغمہ میں دیا گیا

  • UNI
  • Last Updated: Oct 25, 2015 02:57 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
نغمہ نگاروں کو ان کا واجب حق دلایا ساحر لدھیانوی نے
ممبئی۔ ساحر لدھیانوی ہندی فلموں کے ایسے پہلے نغمہ نگار تھے جن کا نام ریڈیو سے نشر ہونے والے فرمائشی نغمہ میں دیا گیا

ممبئی۔ ساحر لدھیانوی ہندی فلموں کے ایسے پہلے نغمہ نگار تھے جن کا نام ریڈیو سے نشر ہونے والے فرمائشی نغمہ میں دیا گیا۔ ساحر سے پہلے کسی نغمہ نگار کو ریڈیو سے نشر ہونے والے فرمائشی نغمہ میں اہمیت نہیں دی جاتی تھی ۔ ساحر نے اس بات کی کافی مخالفت کی جس کے بعد ریڈیو پر نشر نغموں میں گلوکار اور موسیقار کے ساتھ ساتھ نغمہ نگار کا نام بھی دیا جانے لگا، اس کے علاوہ وہ پہلے نغمہ نگارتھے جنہوں نے نغمہ نگاروں کے لئے رائیلٹی کے مطالبے کو منوایا۔


آٹھ مارچ 1921 کو پنجاب کے لدھیانہ شہر میں ایک زمیندار خاندان میں پیدا ہونے والے ساحر کی زندگی کافی جدوجہد میں گذری۔ ساحر نے اپنی میٹرک تک کی تعلیم لدھیانہ کے خالصہ اسکول سے مکمل کی۔ اس کے بعد وہ لاہور چلے آئے جہاں انہوں نے اپنی مزید تعلیم گورنمنٹ کالج سے مکمل کی۔ کالج کے پروگراموں میں وہ اپنی غزلیں اور نظمیں پڑھ کر سنایا کرتے تھے جس سے انہیں کافی شہرت حاصل ہوئی۔


مشہور پنجابی مصنفہ امرتا پریتم کالج میں ساحر کے ساتھ ہی پڑھتی تھیں جو ان کی غزلوں اور نظموں سے کافی متاثر ہوئیں اور ان سے محبت کرنے لگیں لیکن کچھ عرصے کے بعد ہی ساحر کالج سے نکال دیئے گئے۔ اس کی وجہ یہ سمجھی جاتی ہے کہ امرتا پریتم کے والد کو ان کے اور ساحر کے تعلقات پر اعتراض تھا کیونکہ دونوں مختلف مذاہب سے تعلق رکھتے تھے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ان دنوں ساحر کی مالی حالت بھی ٹھیک نہیں تھی۔


ساحر 1943 میں کالج سے نکال دیئے جانے کے بعد لاہور چلے گئے، جہاں انہوں نے اپنا پہلا شعری مجموعہ ’’تلخیاں‘‘ مرتب کیا۔ تقریبا دو برسوں کی انتھک کوششوں کے بعد آخر کار ان کی محنت رنگ لائی اور ’تلخیاں‘ کی اشاعت ہوئی۔ اس درمیان ساحر ترقی پسند تحریک سے منسلک ہو گئے اور انہوں نے’ اداب لطیف، شاہکار، اور سویرا جیسی کئی مقبول اردو رسائل نکالے لیکن ’سویرا‘ میں انقلابی خیالات کو دیکھتے ہوئے حکومت پاکستان نے ان کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کر دیا۔ اس کے بعد وہ 1950 میں ممبئی آ گئے۔


ساحر نے 1950 میں ریلیز ہوئی فلم ’’آزادی کی راہ پر‘‘ میں اپنا پہلا نغمہ ’’بدل رہی ہے زندگی‘‘لکھا لیکن فلم کامیاب نہیں ہوسکی۔ سال 1951 میں ایس ڈی برمن کی دھن پر فلم ’’نوجوان‘‘ میں لکھے اپنے نغمے ’’ٹھنڈی ہوائیں لہراکے آئیں‘‘کے بعد وہ نغمہ نگار کی حیثیت سے اپنی کچھ حد تک پہچان بنانے میں کامیاب ہوگئے۔


ساحر نے خیام کی موسیقی میں بھی کئی سپر ہٹ نغمے لکھے۔ سال 1958 میں آئی فلم ’’پھر صبح ہوگی‘‘ كے لئے راج کپور یہ چاہتے تھے کہ ان کے پسنديدہ موسیقار شنکر جے کشن اس کی موسیقی دیں جبکہ ساحر اس بات سے خوش نہیں تھے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فلم میں موسیقی خیام کی ہی ہو۔ ’’وہ صبح کبھی تو آئے گی‘‘ جیسے نغمے کی کامیابی سے ساحر کا فیصلہ درست ثابت ہوا۔ یہ گانا آج بھی کلاسیکی نغمے کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔


ساحر اپنی شرطوں پر گیت لکھا کرتے تھے ۔ ایک بار ایک فلم ساز نے نوشاد کی موسیقی میں انہیں نغمات لکھنے کی پیش کش کی ۔ ساحر کو جب اس بات کا علم ہوا کہ موسیقار نوشاد کو ان سے زیادہ معاوضہ دیاجارہا ہے تو انہوں نے پروڈیوسر کو معاہدہ ختم کرنے کو کہا ۔ ان کا کہنا تھا کہ نوشاد عظیم موسیقار ہیں لیکن دھنوں کو لفظ ہی وزنی بناتے ہیں لہذا ایک روپیہ ہی صحیح نغمہ نگار کوموسیقار سے زیادہ معاوضہ ملنا چاہیے۔


گرودت کی فلم ’’پیاسا ‘‘ساحر کے فلمی کیریئر کی اہم فلم ثابت ہوئی ۔فلم کی ریلیز کے دوران عجیب وغریب نظارہ دکھائی دیا۔ ممبئی کے منروا ٹاکیز میں جب یہ فلم دکھائی جا رہی تھی تب جیسے ہی ’’جنہیں ناز ہے ہند پر وہ کہاں ہیں‘‘ بجا تمام ناظرین اپنی سیٹ سے اٹھ کر کھڑے ہو گئے اور گانے کے اختتام تک تالی بجاتے رہے۔ بعد میں ناظرین کے مطالبے پر اسے تین مرتبہ اور دکھایا گیا۔ فلم انڈسٹری کی تاریخ میں شاید پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا۔


ساحر اپنے فلمی کیریئر میں دو بار بہترین نغمہ نگار کی حیثیت سے فلم فیئر ایوارڈ سے نوازے  گئے۔ تقریبا تین دہائی تک ہندی سینما کو اپنی زبردست نغموں سے ناظرین کو مسحور کرنے والے ساحر لدھیانوی 59 سال کی عمر میں 25 اکتوبر 1980 کو اس دنیا کو الوداع کہہ گئے۔


پچیس اکتوبر کو ساحر لدھیانوی کے یوم وفات کی مناسبت سے

First published: Oct 25, 2015 02:56 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading