உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Exclusive: لتامنگیشکر ہمارے لیے خاندان کی طرح تھیں، سائرہ بانو سے نیوز18 کی خصوصی گفتگو

    ’’دلیپ صاحب اور لتا جی کے بارے میں جو یادیں مجھے یاد ہیں ان میں سے ایک وہ ہے جب 1974 میں رائل البرٹ ہال، لندن میں اپنے پہلے بین الاقوامی کنسرٹ میں دلیپ صاحب نے ان کا تعارف ’لتا میری چھوٹی بہن، اسٹیج پر آو‘ کے طور پر کرایا تھا۔ وہ ہمیشہ رکھشا بندھن مناتے تھے۔ وہ اکثر ٹرین میں اکٹھے سفر کرتے تھے‘‘۔

    ’’دلیپ صاحب اور لتا جی کے بارے میں جو یادیں مجھے یاد ہیں ان میں سے ایک وہ ہے جب 1974 میں رائل البرٹ ہال، لندن میں اپنے پہلے بین الاقوامی کنسرٹ میں دلیپ صاحب نے ان کا تعارف ’لتا میری چھوٹی بہن، اسٹیج پر آو‘ کے طور پر کرایا تھا۔ وہ ہمیشہ رکھشا بندھن مناتے تھے۔ وہ اکثر ٹرین میں اکٹھے سفر کرتے تھے‘‘۔

    ’’دلیپ صاحب اور لتا جی کے بارے میں جو یادیں مجھے یاد ہیں ان میں سے ایک وہ ہے جب 1974 میں رائل البرٹ ہال، لندن میں اپنے پہلے بین الاقوامی کنسرٹ میں دلیپ صاحب نے ان کا تعارف ’لتا میری چھوٹی بہن، اسٹیج پر آو‘ کے طور پر کرایا تھا۔ وہ ہمیشہ رکھشا بندھن مناتے تھے۔ وہ اکثر ٹرین میں اکٹھے سفر کرتے تھے‘‘۔

    • Share this:
      اداکارہ سائرہ بانو (Saira Banu) لتامنگیشکر (Lata Mangeshkar) کو اپنے خاندان کا عزیز ترین فرد سمجھتی تھیں۔ ان کے مرحوم شوہر اور سنیما کے آئیکن دلیپ کمار (Dilip Kumar) نے منگیشکر کے ساتھ اپنی چھوٹی بہن جیسا سلوک کیا۔ نیوز 18 کے ساتھ ایک خصوصی بات چیت میں سائرہ بانو نے کہا کہ جب سے وہ اسپتال میں داخل تھی، تب سے ہی وہ منگیشکر کی صحت کا مسلسل معائنہ کر رہی تھی۔ وہ گلوکارہ کے اپنے اور دلیپ کمار سے ان کے گھر ملنے کی کچھ دلکش یادیں بھی یاد کرتی ہیں۔

      سائرہ بانو نے کہا کہ یہ میرے لئے ایک خوفناک دن ہے۔ میں اس وقت سے اس کی عیادت کر رہا ہوں جب سے وہ پچھلے مہینے اسپتال میں داخل تھیں۔ میں ان کی بھانجی رچنا سے رابطے میں رہی ہوں۔ درحقیقت صبح تک وہ علاج کا جواب دے رہی تھی۔ میں نے آج صبح 1 بجے رچنا سے آخری بات کی تھی اور انھوں نے کہا کہ لتا جی نازک ہیں لیکن ٹھیک ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے وہ صبح سویرے چل بسیں۔

      لتا جی ہمارے لیے خاندان کی طرح تھیں۔ دلیپ صاحب نے اپنی چھوٹی بہن کو کھو دیا ہے۔ وہ دونوں واقعی ایک دوسرے کے دلدادہ تھے اور وہ اکثر ہمارے گھر آیا کرتی تھی۔ جب بھی وہ گھر آتیں تو ایسا محسوس ہوتا کہ ہمارے خاندان کا کوئی ایک فرد ہمارے ساتھ آ گیا ہے۔ ہم نے کبھی محسوس نہیں کیا کہ وہ ’لتا منگیشکر‘ ہیں۔ وہ ہمیشہ اس وقت آتی تھیں جب کوئی نہ ہوتا، کیونکہ وہ بیک وقت بہت سے لوگوں کے ساتھ گھل ملنا پسند نہیں کرتی تھیں۔

      سائرہ بانو سے نیوز18 کی خصوصی گفتگو پیش ہے:

      دلیپ صاحب اور لتا جی کے بارے میں جو یادیں مجھے یاد ہیں ان میں سے ایک وہ ہے جب 1974 میں رائل البرٹ ہال، لندن میں اپنے پہلے بین الاقوامی کنسرٹ میں دلیپ صاحب نے ان کا تعارف ’لتا میری چھوٹی بہن، اسٹیج پر آو‘ کے طور پر کرایا تھا۔ وہ ہمیشہ رکھشا بندھن مناتے تھے۔ وہ اکثر ٹرین میں اکٹھے سفر کرتے تھے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: