உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Sara Ali Khanنے ماں امریتا سنگھ کے ساتھ رشتوں سے متعلق کہہ دی یہ بڑی بات

    اپنے والدین سیف اور امریتا کی علیحدگی پر سارہ علی خان نے کہہ دی یہ بڑی بات۔

    اپنے والدین سیف اور امریتا کی علیحدگی پر سارہ علی خان نے کہہ دی یہ بڑی بات۔

    سارہ نے کہا تھا کہ انہیں اپنی ماں کو مستی کرتے دیکھنا اچھا لگتا ہے کیونکہ بچپن میں انہوں نے یہ سب کچھ بہت مس کیا تھا۔ بتادیں کہ طلاق کے بعد بچوں کی تحویل صرف امریتا سنگھ کے پاس تھی۔

    • Share this:
      امریتا سنگھ (Amrita Singh) اور سیف علی خان(Saif Ali Khan) کی شادی 1991 میں ہوئی تھی۔ اسی دوران شادی کے 13 سال بعد 2004 میں دونوں میں طلاق ہو گیا تھا۔ بتادیں کہ سیف اور امریتا کی اس شادی سے دو بچے ہوئے جن کے نام سارہ علی خان (Sara Ali Khan)اور ابراہیم علی خان (Ibrahim Ali Khan)ہیں۔ آج ہم آپ کو بتائیں گے کہ سارہ علی خان نے اپنے والدین کی طلاق پر ایک بار کیا کہا تھا۔ اداکارہ نے کہا تھا کہ والدین کو الگ ہوتے دیکھنا ان کے لیے کوئی آسان بات نہیں تھی۔

      سارہ کہتی ہیں کہ، ’میرے اندر عمر سے زیادہ میچیور ہونے کی ٹینڈینسی ہے، میں صرف 9سال کی عمر میں یہ جان گئی تھی کہ میرے پیرنٹس ساتھ رہ کر خوش نہیں ہیں۔ وہیں، الگ الگ رہتے ہی ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔‘

      سارہ علی خان نے اس انٹرویو کے دوران یہ بھی بتایا تھا کہ انہوں نے پورے 10 سال تک اپنی والدہ کو ہنستے ہوئے نہیں دیکھا تھا اور طلاق کے بعد وہ خوش تھیں۔ اداکارہ کے مطابق ان کی والدہ ایک بار پھر ہنسنے لگی تھیں، مسکرانے لگی تھیں اور جوکس سنانے لگیں تھیں۔ سارہ نے یہ بھی بتایا تھا کہ اگرچہ ان کے والدین میں علیحدگی ہو گئی تھی لیکن وہ خوش تھی کہ اب ان کے والدین الگ ہونے پر بہت خوش ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:
      زویا اختر کی فلم سے ڈیبیو کررہیKhushi Kapoorبنی سوشل میڈیاسینسیشن،بولڈنیس میں انہیں دی ٹکر

      یہ بھی پڑھیں:
      Avneet Kaur monokini photos:مونوکنی پہن کر سوئمنگ پل میں اونیت کور نے کیا’بریک فاسٹ‘

      سارہ نے کہا تھا کہ انہیں اپنی ماں کو مستی کرتے دیکھنا اچھا لگتا ہے کیونکہ بچپن میں انہوں نے یہ سب کچھ بہت مس کیا تھا۔ بتادیں کہ طلاق کے بعد بچوں کی تحویل صرف امریتا سنگھ کے پاس تھی۔ وہیں سیف نے اس طلاق کے بعد 2012 میں کرینہ کپور خان(Kareena Kapoor Khan) سے دوسری شادی کرلی تھی۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: