اپنا ضلع منتخب کریں۔

    سارہ علی خان نے پیپرازی کو دیکھ کر پہلے چھپایا چہراپھر شیئر کی ایسی تصویر، برف لگاتی آئی نظر

    سارہ علی خان نے پیپرازی کو دیکھ کر پہلے چھپایا چہراپھر شیئر کی ایسی تصویر، برف لگاتی آئی نظر

    سارہ علی خان نے پیپرازی کو دیکھ کر پہلے چھپایا چہراپھر شیئر کی ایسی تصویر، برف لگاتی آئی نظر

    سارہ علی خان اکثر اسپاٹ بھی ہوتی رہتی ہیں۔ وہیں، جب کبھی بھی وہ کہیں اسپاٹ ہوتی ہیں تو پیپرازی کے کیمرے میں جم کر پوز دیتی ہیں، لیکن۔۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Mumbai, India
    • Share this:
      سال 2018 میں فلم ’کیدارناتھ‘ سے اپنے بالی ووڈ کرئیر کی شروعات کر کے سارہ علی خان نے اپنی پہچان بنائی ہے۔ پروفیشنل لائف کے علاوہ اداکارہ کو ان کے لُکس اور خوبصورتی کے لیے بھی جانا جاتا ہے۔ وہ آئے دن سوشل میڈیا پر زیر بحث رہتی ہیں۔

      سارہ علی خان اکثر اسپاٹ بھی ہوتی رہتی ہیں۔ وہیں، جب کبھی بھی وہ کہیں اسپاٹ ہوتی ہیں تو پیپرازی کے کیمرے میں جم کر پوز دیتی ہیں۔ حال ہی میں وہ جم کے باہر نظر آئیں، جہاں پر گاڑی میں بیٹھی وہ پیپرازی کے کیمرے سے بچتے نظر آئیں تھیں اور اپنا چہرا چھپاتے ہوئے نظر آئیں۔ اسی درمیان انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے مارننگ لُکس کو شیئر کیا ہے۔

      سارہ نے شیئر کیا مارننگ لُک
      سارہ علی خان نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر ایک بومرینگ ویڈیو شیئر کیا ہے، جس میں وہ کھلے بالوں میں نظر آرہی ہیں۔ وہ اپنے کار میں بیٹھی ہیں اور اپنے چہرے پر برف رگڑتی نظر آرہی ہیں۔ اس بومرینگ میں انہوں نے ایک ایسا فلٹر یوز کیا ہے، جس سے ان کا چہرہ بالکل گلابی لگ رہا ہے اور ان کی آنکھیں بالکل ہی الگ دکھائی دے رہی ہیں۔ اس لُک کو شیئر کرتے ہوئے انہوں نے کیپشن میں لکھا، ’صبح سویرے کا چہرہ‘۔



      یہ بھی پڑھیں:
      کمل ہاسن کی اچانک خراب ہوئی طبیعت، چیک اپ کے بعد ملی اسپتال سے چھٹی!

      یہ بھی پڑھیں:
      ریچا چڈھا کے لیے مصیبت بنا’ٹوئٹ‘، دہلی پولیس تک پہنچا’گلوان‘ معاملہ

      شبھمن گل کی وجہ سے ہے سرخیوں میں
      بہرحال، گزشتہ کچھ دنوں سے سارا علی خان انڈین کرکٹر شبھمن گل کے ساتھ رشتے میں ہونے کو لے کر موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ یہ دونوں یاک دوسرے کو ڈیٹ کرنے کی خبروں کی وجہ سے آئے دن سرخیاں بٹورتے رہتے ہیں۔ حالانکہ دونوں نے ایک دوسرے کو ڈیٹ کرنے کی بات کو کنفرم نہیں کیا ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: