உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    امرتا سنگھ۔اور سیف علی خان کی بیٹی سارہ علی خان ویشنو دیوی پہنچ کر بولیں، اگر آپ نے گناہ کئے ہیں تو یہ نہیں کر سکتے

    Sara Ali Khan

    Sara Ali Khan

    اس ویڈیو میں سارہ نے وشنو دیوی کی ویڈیو شیئر کیا ہے۔ اس میں وہ گھوڑے پر سوار بھون پر چڑھتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔ 'کہا جاتا ہے کہ جس نے گناہ کیا ہے وہ ماتا رانی کی گوفہ میں داخل نہیں ہو سکتا۔'

    • Share this:
      پٹودی خاندان کی بیٹی اور سیف علی خان (Saif Ali Khan) اور امرتا سنگھ (Amrita Singh) کی لاڈلی سارہ علی خان سوشل میڈیا (Social Media) پر کافی سرگرم رہتی ہیں۔ مداحوں کے ساتھ اکثر وہ ویڈیوز اور تصاویر شیئر کرتی رہتی ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے کچھ تصاویر اور ویڈیو کو شیئر کیا ہے جس میں انہوں نے نمستے درشکوں (Namaste Darshako)' کے ٹیگ لائن کے ساتھ ایک ایسا ویڈیو جس میں دہلی، بہار، جے پور سے لیکر گوا تک کے سفر کی کچھ جھلکیاں انہوں نے دکھائی ہیں۔

      سارہ علی خان نے جو ویڈیو شیئر کی ہے وہ دہلی کے انڈیا گیٹ سے شروع ہوتی ہے۔ سارہ کہتی ہیں ، ہیلو سامعین ، ہم انڈیا گیٹ یعنی بھارتیہ دروازے پر ہیں۔ اس کے بعد ، سارہ اپنے سر پر گھاس کا گٹھا اٹھائے ہوئے نظر آتی ہیں۔ جو کہ بہار کے کسی جگہ سے ہے۔ یہاں انہوں نے لوگوں کو بہت زیادہ بکرے بکریاں بھی دکھائے جس کے بعدسارہ نے پھر جے پور ، سانگلا ، ویشنو دیوی ، وارانسی اور گوا کی سیر کرائی۔



       




      View this post on Instagram





       

      A post shared by Sara Ali Khan (@saraalikhan95)






      اس ویڈیو میں سارہ نے وشنو دیوی کی ویڈیو شیئر کیا ہے۔ اس میں وہ گھوڑے پر سوار بھون پر چڑھتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔ جب گھوڑے کے ساتھ چلنے والا آدمی ان سے کہتا ہے ، 'کہا جاتا ہے کہ جس نے گناہ کیا ہے وہ ماتا رانی کی گوفہ  میں داخل نہیں ہو سکتا۔' یہ سن کر سارہ کہتی ہے ، 'اگر تو میں نے کوئی گناہ کیا ہے تو میں نہیں دیکھ پاؤں گی۔ میں اندر بھی نہیں جا پاؤں گی۔ سارہ کی یہ مکمل ویڈیو دیکھیں۔

      سیف علی خان (Saif Ali Khan) کی بیٹی اور بالی ووڈ اداکارہ سارہ علی خان (Sara Ali Khan) سرخیوں میں بنی رہتی ہیں۔ وہ صرف فلموں کے سبب سرخیوں میں نہیں رہتی ہیں بلکہ سوشل میڈیا (Social Media) پوسٹ کے سبب بھی سرخیوں میں ہیں۔ مداح ان کے سوشل میڈیا پوسٹ کو بہت پسند کرتے ہیں اور وہ بھی اپنے مداحوں کے رابطے میں بنے رہنے کے لئے سوشل میڈیا پر بہت سرگرم رہتی ہیں۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: