உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سیکس ٹوائے اور انڈر گارمنٹس بھیج کر دو ماہ سے پریشان کر رہا تھا شخص، اداکارہ نے ٹھایا یہ قدم

    معلومات کے مطابق اداکارہ نے پولیس کو بتایا کہ ملزم شخص نے گزشتہ تقریبا دو ماہ میں اسے 8 بار تحفے بھیجے ہیں جن میں سیکس ٹوائے اورانڈرگارمنٹس ہیں۔

    معلومات کے مطابق اداکارہ نے پولیس کو بتایا کہ ملزم شخص نے گزشتہ تقریبا دو ماہ میں اسے 8 بار تحفے بھیجے ہیں جن میں سیکس ٹوائے اورانڈرگارمنٹس ہیں۔

    معلومات کے مطابق اداکارہ نے پولیس کو بتایا کہ ملزم شخص نے گزشتہ تقریبا دو ماہ میں اسے 8 بار تحفے بھیجے ہیں جن میں سیکس ٹوائے اورانڈرگارمنٹس ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      فلمی دنیا سے اکثر ایسی خبریں آتی ہیں جو لوگوں کو حیران کرتی ہیں۔ کبھی مداحوں کا اپنے پسندیدہ ستاروں کے گھر پہنچ جانا اور کبھی ان تک تحفے پہنچانا۔ بعض اوقات یہ تحفے اتنے عجیب ہوتے ہیں کہ فنکاروں کو پولیس کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ حال ہی میں ایک 28 سالہ اداکارہ کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے۔ ممبئی پولیس ایک ایسے شخص کی تلاش میں ہے جو گزشتہ دو ماہ سے ایک اداکارہ کو سیکس ٹوائے اور انڈر گارمنٹس بھیج رہا ہے۔

      معلومات کے مطابق اداکارہ نے پولیس کو بتایا کہ ملزم شخص نے گزشتہ تقریبا دو ماہ میں اسے 8 بار تحفے بھیجے ہیں جن میں سیکس ٹوائے اورانڈرگارمنٹس ہیں۔ اداکارہ نے ایک دو بار نظر انداز کیا لیکن وہ مسلسل ایسی حرکتوں کی وجہ سے پریشان ہو گئی اور اس نے پولیس میں شکایت درج کی۔ اداکارہ نے امبولی پولیس میں شکایت درج کرائی ہے جس کے بعد پولیس اب اس شخص کی تلاش میں مصروف ہو گئی ہے۔

      ملزم شخص نے گزشتہ تقریبا دو ماہ میں اسے 8 بار تحفے بھیجے ہیں جن میں سیکس ٹوائے اورانڈرگارمنٹس ہیں۔


      اس معاملے پر امبولی پولیس اسٹیشن کے ایک افسر نے کہا کہ ہم نے نامعلوم ملزم کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 509 (لفظ ، اشارہ یا عورت کی شائستگی کی توہین کرنے کا ارادہ) کے تحت جرم درج کرلیا ہے۔ ایف آئی آر کے درج ہونے کے بعد سے خاتون کو ایسی کوئی پروڈکٹ نہیں ملے ہیں۔

      معاملے کی تفتیش پر انہوں نے کہا کہ انہیں کچھ موبائل نمبر ملے ہیں جن سے شاپنگ پورٹل پر آرڈر دیا گیا تھا۔ تاہم ، نمبر کا مقام ابھی تک معلوم نہیں ہو پایا ہے۔ فی الحال پولیس نامعلوم شخص کی تلاش کر رہی ہے۔

       
      Published by:Sana Naeem
      First published: