உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    شبانہ اعظمی کو والد کیفی اعظمی لگتے تھے بے روزگار، دوستوں سے کہتی تھی ایسا جھوٹ

    شبانہ اعظمی اپنے والد کیفی اعظمی کے ساتھ۔ (فائل فوٹو)

    شبانہ اعظمی اپنے والد کیفی اعظمی کے ساتھ۔ (فائل فوٹو)

    شبانہ اعظمی سے جب پوچھا گیا کہ انہیں کب یہ احساس ہوا کہ ان کے والد کیفی اعظمی ایک اسپیشل انسان ہیں؟ اس پر شبانہ اعظمی نے کہا، بچپن میں یہ بالکل بھی آسانی سے نہیں ہوا۔ ابا ہمیشہ سے الگ تھے۔ وہ باقی والدوں کی طرح آفس نہیں جاتے تھے اور نہ تو نارمل ٹراوزر یا شرٹ پہنتے تھے۔ وہ 24 گھنٹے کاٹن کے سفیر کرتا پائجامہ میں رہتے تھے۔

    • Share this:
      ممبئی:شبانہ اعظمی (Shabana Azmi) کے لئے بھی باقی کسی بھی عام لڑکی کی طرح، اُن کے والد ہی اُن کے ہیرو تھے۔ اُنہیں دنیا کی سمجھ ہی اپنے شاعر والد کی نظروں سے ملی تھی۔ کیفی اعظمی ایک الگ طرح کے شاعر تھے۔ انہوں نے جتنا شبانہ کو گلاب دکھائے اتنے ہی کانٹے بھی۔ شبانہ اعظمی نے حال میں ایک انٹرویو میں اپنی والدہ اور والد کیفی اعظمی (Kaifi Azmi) کے بارے میں کھل کر بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ کیفی اعظمی ایک سچے فیمنسٹ تھے اور اُن سے ہی انہیں ایکٹیوازم اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کی ہمت ملی۔

      ایسا تھا کیفی اعظمی-شوکت علی کا رشتہ
      شبانہ اعظم نے ای ٹائمس کو دئیے انٹرویو میں بتایا کہ اُن کے والد کیفی اعظمی نے انہیں انسانیت کا درس دیا۔ انہوں نے اپنے والدین کے رشتے پر بھی بات کی اور کہا کہ شوکت اعظمی اور کیفی اعظمی کے درمیان پیار چاند تاروں کو توڑ لانے جیسے وعدوں سے بے حد اوپر تھا۔ انہوں نے کہا، ’میرے پیرینٹس کے تعلقلات کا اثر مجھ پر بھی پڑا اور آج 37 سالوں بعد بھی میں جاوید سے اتنا ہی پیار کرتی ہوں جتنا شادی کے وقت کرتی تھی۔‘

      میزوان میں گزارے آخری دن
      شبانہ اعظمی نے بتایا کہ ان کے والد کیفی اعظمی نے اپنے آخری دن اپنے گاوں ’میزوان‘ میں گزارے اور ہنستے مسکراتے اس دنیا کو الوداع کہہ گئے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی ماں بے حد رومانوی تھی اور انہیں کیفی اعظمی نے اپنی نظم سے راغب کیا تھا لیکن بعد میں اُن کی مضبوط کامریڈ شپ تھی جو شبانہ اعظمی کو بھی ہمیشہ راغب کیا کرتی تھی اور اس لئے 37 سالوں کے بعد بھی اُن کی اور جاوید اختر کی جوڑی بالی ووڈ کی سب سے مضبوط جوڑیوں میں شمار ہے۔

      والد کی نظموں پر شبانہ اعظمی کا ردعمل
      شبانہ اعظمی سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیفی اعظمی کئی نظموں جیسے ’بے تاب دل کی تمنا یہی ہے‘، کچھ دل نے کہا، جیسے نظموں سے پتہ چلتا تھا انہیں خواتین کے تئیں حساسیت کی کافی سمجھ تھی۔ اس پر شبانہ اعظمی نے کہا، جو بات مجھے اچھی لگتی ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے کبھی نظموں میں اقدار سے سمجھوتہ کرنے جیسی باتیں نہیں کی۔ اپنی انقلابی نظموں میں بھی انہوں نے شدت اور جوش کو برقرار رکھا۔ یہاں تک کہ، وقت نے کیا کیا حسین ستم، اور کوئی یہ کیسے بتائے کہ وہ تنہا کیوں ہے، جیسے گانوں میں بھی، یہ الفاظ کی سادگی اور جذبات کی شدت اور تڑپ تھی، جو الگ سے دکھائی دی۔

      والد کے بارے میں بولتی تھیں جھوٹ
      شبانہ اعظمی سے جب پوچھا گیا کہ انہیں کب یہ احساس ہوا کہ ان کے والد کیفی اعظمی ایک اسپیشل انسان ہیں؟ اس پر شبانہ اعظمی نے کہا، بچپن میں یہ بالکل بھی آسانی سے نہیں ہوا۔ ابا ہمیشہ سے الگ تھے۔ وہ باقی والدوں کی طرح آفس نہیں جاتے تھے اور نہ تو نارمل ٹراوزر یا شرٹ پہنتے تھے۔ وہ 24 گھنٹے کاٹن کے سفیر کرتا پائجامہ میں رہتے تھے۔ ان کی انگلش تو ہمیشہ سے خراب تھی۔ میں آج بھی انہیں ڈیڈی نہیں باقی بچوں کی طرح ابا ہی بلاتی ہوں۔ میں اسکول کےد وستوں کے سامنے ایسا کہنے سے بچتی تھی۔ میں جھوٹ بولتی تھی کہ وہ بزنس کرتے ہیں۔ زمین پر شاعر کا کیا مطلب ہے- کسی کے لئے ایک تمغہ جو کوئی کام نہ کرتا ہو۔ دھیرے دھیرے ابا فلموں کے لئے لکھنے لگے اورمیری ایک دوست نے مجھ سے کہا کہ اُس کے والد نے میرے والد کا نام نیوز پیپر میں پڑھا تھا۔ 40 بوں کی کلاس میں میں اکیلی تھی جس کے والد کا نام اخبار میں شائع ہوا تھا۔ پھر مجھے لگنے لگا کہ وہ الگ ہیں اور انہیں کرتا پائجامہ میں دیکھ کر مجھے برا لگنا بھی بند ہوگیا۔‘
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: