உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Mumbai Drug Case: آرین خان کی مشکلات میں اضافہ، ابھی رہنا پڑے گا جیل میں، عدالت نے ضمانت عرضی مسترد کردی

    Mumbai Drug Case: آرین خان کی مشکلات میں اضافہ، ابھی رہنا پڑے گا جیل میں

    Mumbai Drug Case: آرین خان کی مشکلات میں اضافہ، ابھی رہنا پڑے گا جیل میں

    عدالت کی کارروائی کے بعد آرین خان (Aryan Khan) سمیت سبھی ملزمین کو آرتھر روڈ جیل لے جایا گیا۔ بتایا جارہا ہے کہ مرد قیدیوں کو آرتھر روڈ جیل اور خاتون قیدیوں کو بائیکلا جیل بھیجا گیا۔

    • Share this:
      نئی دہلی: ممبئی میں کروز پارٹی ڈرگس پارٹی میں گرفتار بالی ووڈ اداکار شاہ رخ خان (Shah Rukh Khan) کے بیٹے آرین خان (Aryan Khan) کی مشکلات میں مزید بڑھ گئی ہے۔ آرین خان کو کچھ دن اور جیل میں گزارنے ہوں گے۔ جمعہ کو عدالت نے آرین خان، ارباز مرچنٹ اور منمن دھمیچا کی ضمانت عرضی کو مسترد کردیا۔ اے ایس جی (ASG) انل سنگھ نے عدالت میں این سی بی کا موقف پیش کیا۔

      عدالت کی کارروائی کے بعد آرین خان سمیت سبھی ملزمین کو آرتھر روڈ جیل لے جایا گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ مرد قیدیوں کو آرتھر روڈ جیل اور خاتون قیدیوں کو بائیکولا جیل بھیجا گیا۔ واضح رہے کہ آرتھر روڈ جیل وہی جیل ہے، جہاں دہشت گرد اجمل قصاب کو رکھا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ابو سلیم اور اداکار سنجے دت بھی یہاں سزا کاٹ چکے ہیں۔

      آرین خان کی طرف سے عدالت میں ستیش مانشندے پیروی کر رہے ہیں۔ انہوں نے عدالت میں کہا کہ این سی بی کو آرین خان کے خلاف کچھ ملا نہیں ہے۔ انہوں نے صرف الزام لگائے ہیں۔ جانکاری کے مطابق، آرین خان اور دوسرے قیدیوں کو جیل کے اندر پہلے تین سے پانچ دنوں تک کوارنٹائن میں رکھا جائے گا۔

      وہیں دوسری طرف ارباز مرچنٹ کے وکیل طارق سعید نے کہا کہ معاملے میں ارباز مرچنٹ مرچنٹ کو کسی دوسرے شریک ملزم کے ساتھ جوڑنے کے کوئی ثبوت نہیں ہیں۔ ایسی صورتحال میں یہاں کسی طرح کی کوئی سازش نہیں بنتی۔ طارق  سعید نے کہا کہ وہ ضمانت عرضی کے لئے سیشن کورڈ میں عرضی داخل کریں گے۔ اب یہ دیکھنا ہوگا کہ سیشن کورٹ ارباز مرچنٹ کو ضمانت دیتی ہے یا نہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ سیشن کورٹ کا عمل بہت لمبا ہے، ایسی صورتحال میں ارباز مرچنٹ کو ضمانت ملنے میں 20 دن تک کا بھی وقت لگ سکتا ہے۔ جمعہ کو عدالت نے کروز پارٹی میں پکڑے گئے نائجیریائی ملزم پیڈلر کو 11 اکتوبر تک کے لئے پولیس حراست میں بھیج دیا ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: