உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    شہیر شیخ کے والد کا انتقال، کورونا کی وجہ سے ہوا تھا شدید انفیکشن، علی گونی نے کی تعزیت

     شہیر شیخ کےوالدکا ہوا انتقال۔

    شہیر شیخ کےوالدکا ہوا انتقال۔

    والد کی شدید نازک حالت کو دیکھتے ہوئے شہیر شیخ نے حال ہی میں ایک ٹوئٹ کر کے فینس اور اپنے دوستوں سے اپنے والد کے لئے دعا کرنے کی اپیل کی تھی۔ علی گونی نے دیر رات ایک ٹوئٹ کیا ہے، جس کے ذریعے انہوں نے شہیر شیخ کےو الد کے انتقال کی جانکاری شیئر کی۔

    • Share this:
      ’کچھ رنگ پیار کے ایسے بھی (Kuch Rang Pyar ke Aise Bhi), اور پویتر رشتہ 2 (Pavitra Rishta 2(، فیم ایکٹر شہیر شیخ (Shaheer Sheikh) پر غموں کا پہاڑ ٹوٹ گیا ہے۔ شہیر شیخ کے والد شاہنواز شیخ کا انتقال (Shaheer Sheikh father passes away) ہوگیا ہے۔ پچھلے کافی دنوں سے اُن کی طبیعت خراب تھی اور وہ وینٹی لیٹر پر تھے۔ شہیر شیخ نے حال ہی میں فینس سے اُن کے والد کو دعاؤں میں یاد رکھنے کی اپیل کی تھی۔ ٹی وی ایکٹر اور بگ باس 14 فیم علی گونی (Aly Goni) نے ٹوئٹ کر کے شہیر شیخ کے والد کے انتقال پر تعزیت کااظہار کیا ہے۔

      وینٹیلیٹر پر تھے شہیر شیخ کے والد
      شہیر شیخ کے والد انتقال سے پہلے کورونا سے ہوئے سیرئیس انفیکشن سے متاثر تھے۔ پچھلے کافی وقت سے اُن کا علاج جاری تھا، لیکن حالت اتنی بگڑ گئی کہ وہ وینٹیلیٹر پر پہنچ گئے تھے۔ والد کی شدید نازک حالت کو دیکھتے ہوئے شہیر شیخ نے حال ہی میں ایک ٹوئٹ کر کے فینس اور اپنے دوستوں سے اپنے والد کے لئے دعا کرنے کی اپیل کی تھی۔ علی گونی نے دیر رات ایک ٹوئٹ کیا ہے، جس کے ذریعے انہوں نے شہیر شیخ کےو الد کے انتقال کی جانکاری شیئر کی۔


      علی گونی نے کیا ٹوئٹ
      علی گونی نے ٹوئٹ کیا اور لکھا- ’انا للہِ و انا الیہ راجعون۔۔ اللہ انکل کی روح کو سکون دے۔۔@Shaheer_S تم حوصلہ رکھو بھائی۔‘ علی گونی نے اس کے ساتھ ہاتھ جوڑنے والی اور ہارٹ والی ایموجی بھی شیئر کی ہے۔

      فینس بھی کررہے ہیں دُکھ کا اظہار
      شہیر شیخ کی جانب سے اُن کےو الد کو لے کر کوئی جانکاری نہیں دی گئی ہے۔ حالانکہ، علی گونی کی جانب سے شہیر شیخ کے والد کو لے کر دی گئی اطلاع کے بعد اُن کے فینس کافی غمزدہ ہیں۔ علی گونی کے اس ٹوئٹ پر فینس اب تعزیت کا اظہار کررہے ہیں اور لوگ شہیر شیخ کے والد کی روح کو سکون کے لئے دعائیں کررہے ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: