உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دیویانکا ترپاٹھی سے شرد ملہوترا کی 6 سال سے نہیں ہوئی بات، پھر بھی اُن کے ساتھ ڈبل ڈیٹ پر جانا چاہتے ہیں ایکٹر

    دیویانکا ترپاٹھی سے شرد ملہوترا کی 6 سال سے نہیں ہوئی بات، پھر بھی اُن کے ساتھ ڈبل ڈیٹ پر جانا چاہتے ہیں ایکٹر

    دیویانکا ترپاٹھی سے شرد ملہوترا کی 6 سال سے نہیں ہوئی بات، پھر بھی اُن کے ساتھ ڈبل ڈیٹ پر جانا چاہتے ہیں ایکٹر

    شرد ملہوترا نے انٹرویو کے دوران دیویانکا کو ٹی وی کی بیسٹ ایکٹریس کا بھی خطاب دیا۔ ساتھ ہی دیویانکا کے ساتھ ڈبل ڈیٹ پر جانے تک کی بات کہہ دی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Mumbai, India
    • Share this:
      ٹی وی کے پاپولر کپل کی جب بھی بات آتی ہے تو اس فہرست میں دیویانکا ترپاٹھی اور شرد ملہوترا کا ذکر ضرور ہوتا ہے۔ بے شک دیویانکا اور شرد اب ایک ساتھ نہیں ہیں، لیکن دونوں کے رشستے کو ابھی بھی کوئی نہیں بھول پایا ہے۔ بنوں میں تیری دلہن کی شوٹنگ کے وران دونوں کی ملاقات ہوئی تھی، اس کے بعد دونوں نے ایک دوسرے کو ڈیٹ کرنا شروع کردیا۔ دونوں قریب 8 سال تک ریلیشن شپ میں رہے اور پھر بریک اپ ہوگیا۔ حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران شرد ملہوترا نے اپنی سابقہ گرل فرینڈ دیویانکا ترپاٹھی کو لے کر ایسی باتیں کردی ہیں جسے سن کر آپ بھی دن رہ جائیں گے۔ اداکار نے انٹرویو کےد وران ماضی کی باتوں کو بھول کر آگے بڑھنے کی بات کہی تھی۔

      یہ بھی پڑھیں:
      رانی چٹرجی کا غضب کا انداز دیکھ کر یش کمار ہوئے زخمی، آپ نے دیکھا یہ رومانوی ویڈیو؟

      یہ بھی پڑھیں:
      کٹرینہ کی اس بات پر سلمان کو آتا تھا غصہ، کیٹرینہ کی یہ بات نہیں ہوتی تھی برداشت

      اتنا ہی نہیں شرد ملہوترا نے انٹرویو کے دوران دیویانکا کو ٹی وی کی بیسٹ ایکٹریس کا بھی خطاب دیا۔ ساتھ ہی دیویانکا کے ساتھ ڈبل ڈیٹ پر جانے تک کی بات کہہ دی۔ انٹرویو میں شرد نے کہا کہ جس طرح سے عوامی سطح پر دیویانکا خود کو مینیج کرتی ہیں اور خیال رکھتی ہیں وہ بہت ہی زیادہ شاندار ہے۔ انہیں ایسے دیکھ کر بہت زیادہ خوشی ہے مجھے۔ شرد نے آگے یہ بھی کہا کہ ان کی پچھلے 6 سالوں سے دیویانکا سے بات نہیں ہوئی ہے، لیکن ہمیشہ تیار ہوں ان کے ساتھ کام کرنے کے لئے۔ اسی دوران ڈبل ڈیٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے شرد نے کہا کہ بالکل، مجھے نہیں پتہ، کب ہوگا وہ، لیکن امید ہے کہ کبھی ایسا ہو یار۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: