ہوم » نیوز » انٹرٹینمنٹ

شاہ رخ خان کی فین تھیں شیلا دکشت، اتنی باردیکھی ڈی ڈی ایل جے کہ گھروالے ہوگئے تھے پریشان

سابق وزیراعلیٰ کی بیٹی لتکا دکشت سعید نے بتایا کہ وہ شاہ رخ خان کی بہت بڑی فین تھیں اوران کی اداکاری انہیں بے حد پسند تھی۔

  • Share this:
شاہ رخ خان کی فین تھیں شیلا دکشت، اتنی باردیکھی ڈی ڈی ایل جے کہ گھروالے ہوگئے تھے پریشان
شیلا دکشت کو فلمیں دیکھنا بہت پسند تھا۔ وہ شاہ رخ خان کی فین تھیں۔

دہلی کی سابق وزیراعلیٰ شیلا دکشت کو پڑھنے کے علاوہ فلمیں دیکھنے کا بھی بہت شوق تھا۔ اس بات کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے 'دل والے دلہنیا لے جائیں گے'، کئی باردیکھی تھیں۔ ان کی بیٹی لتکا دکشت سعید نے بتایا کہ وہ شاہ رخ خان کی بہت بڑی فین تھیں۔ شاہ رخ خان کی اداکاری انہیں بہت پسند تھی۔ لتکا سعید نے بتایا  کہ انہوں نے 'دل والے دلہنیا لے جائیں گے'، اتنی باردیکھی تھی کہ ہم لوگ پریشان ہوگئے تھے۔


شیلا دکشت کو فلمیں دیکھنا کافی پسند تھا۔ پہلے وہ ہندوستانی سپراسٹاردلیپ کماراورراجیش کھنہ کی بڑی فین تھیں۔ لوک سنگیت کے حلقے میں ان کی خاص دلچسپی تھی۔ شاید ہی کوئی دن ایسا بیتتا تھا، جب وہ بغیرسنگیت سنے بسترپرجاتی تھیں۔ لتکا سعید نے بتایا کہ ایک خاتون کے طورپروہ اندرسے بے حد مضبوط تھیں۔


بس میں ملا شادی کا پرپوزل


شیلا دکشت نے اپنی کتاب میں اس بات کا ذکرکیا ہے کہ ان کے شوہرونود نے ڈی ٹی سی کی بس میں ہی انہیں پرپوز کیا تھا۔ جب وہ آخری سال کا امتحان دینے والے تھے تب ایک دن پہلے 10 نمبرکی بس میں چاندنی چوک کے پاس ونود نے شیلا کو بتایا تھا کہ وہ اپنی ماں کو بتانے جارہے ہیں کہ انہوں نے لڑکی کا انتخاب کرلیا ہے، جس سے وہ شادی کریں گے۔  شیلا دکشت نے تب ونود سے کہا تھا کہ کیا تم نے اس لڑکی سے دل کی بات پوچھی ہے؟ تب ونود نے کہا تھا کہ نہیں، لیکن وہ لڑکی بس میری سیٹ کے آگے بیٹھی ہے۔

شیلا دکشت کا سیاسی سفر




پنجاب کےکپورتھلا میں پیدا ہوئیں شیلا شکست کی شادی اترپردیش کے سینئرکانگریسی لیڈراوما شنکردکشت کےبیٹے ونود دکشت سے ہوئی۔ پنجابی سےبرہمن بنیں شیلا دکشت نے سسرکےسیاسی وراثت کوبخوبی سنبھالا۔

اندرا گاندھی کے قتل کے بعد 1984 میں پہلی بارشیلا دکشت قنوج سے لڑکرپارلیمنٹ تک پہنچیں۔ گاندھی فیملی کی قریبی ہونے کےناطےانہیں راجیو گاندھی کی حکومت میں پارلیمانی امورکے وزیرمملکت اورپی ایم او میں وزیربننےکا موقع ملا۔

سال 1998 میں سونیا گاندھی کے سیاست میں آنے کے بعد شیلا دکشت کو بھی دوبارہ سیاست میں سرگرم ہونے کا موقع ملا۔ سونیا گاندھی نے انہیں دہلی کی کمان سونپی، جس کے بعد شیلا دکشت نے کبھی پلٹ کرنہیں دیکھا۔ مرکز میں چاہے بی جے پی کی حکومت ہو یا کانگریس کی، لیکن دہلی میں شیلا دکشت ہی اقتدارمیں رہیں۔

شیلا دکشت نے اپنے دوراقتدارمیں دہلی کو ایک نئی شناخت دی۔ فلائی اوورسے لےکرمیٹرو، دہلی کی ہریالی، صحت اورتعلیم کے میدان میں ایسی کئی پہل شیلا دکشت نےکی جس کوآج بھی وہ فخرسےگناتی ہیں، لیکن شیلا دکشت کےدامن پرکامن ویلتھ گیم (دولت مشترکہ کھیل) میں بدعنوانی کا الزام بھی لگا، لیکن یہ شیلا دکشت کی ذات ہی تھی جووہ ہرالزامات کے سامنے بہادری سے کھڑی رہیں۔ وہ 2014 میں کیرلا کی گورنربھی رہیں۔

ایک دورایسا بھی آیا جب اپنی تمام حصولیابیوں کے باوجود شیلا دکشت انا آندولن اوراروند کیجریوال کی بدعنوانیوں کےالزامات کا سامنا نہیں کرپائیں اوراقتدارگنوا بیٹھیں۔ ساتھ ہی انہیں 2013 میں نئی دہلی اسمبلی سیٹ سےاروند کیجریوال کےخلاف شکست کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

یوپی اے -2 کےدوران ہوئےانا آندولن اورکانگریس پربدعنوانی کےالزامات کےدرمیان شیلا دکشت بھی اپنا قلعہ نہیں بچا سکیں۔ دہلی سے کانگریس کا صفایا ہوگیا، لیکن پانچ سال گزرتے گزرتے دہلی کی عوام کے ساتھ ساتھ کانگریس قیادت کوبھی اس بات کا احساس ہوگیا کہ ان کے پاس شیلا دکشت سے بڑا کوئی تروپ کا اکا نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مودی اورکیجریوال کے ڈبل چیلنج کا سامنا کرنے کے لئے 78 سال کی شیلا دکشت کوپھرسے میدان میں اتارا گیا تھا۔




First published: Jul 20, 2019 08:42 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading