உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مشہور فیشن ڈیزائنر کے بیٹے نے نشے میں سات ماہ کی حاملہ اداکارہ کو بھیجا فحش Message، پولیس نے کیا گرفتار

    مشہور فیشن ڈیزائنر کے بیٹے نے نشے میں اداکارہ کو بھیجا فحش Message، پولیس نے کیا گرفتار

    مشہور فیشن ڈیزائنر کے بیٹے نے نشے میں اداکارہ کو بھیجا فحش Message، پولیس نے کیا گرفتار

    مشہور فیشن ڈیزائنر پرساد بڈپپا کے بیٹے ایڈم بڈپپا کو ایک کنڑ فلم اداکارہ کومبینہ طور پر فحش میسیج بھیجنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ۔

    • Share this:
      بنگلورو : مشہور فیشن ڈیزائنر پرساد بڈپپا کے بیٹے ایڈم بڈپپا کو ایک کنڑ فلم اداکارہ کومبینہ طور پر فحش میسیج بھیجنے کے الزام میں گزشتہ روز گرفتار کیا گیا ۔ ایڈم بڈپپا کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرانے والی اداکارہ نے کہا کہ میں اور میرا کنبہ کافی صدے میں ہے اور ایک وی وی آئی پی کے بیٹے نے وہاٹس ایپ پر ان پر بے رحمی سے حملہ کیا ہے ۔ 25 فروری کی رات گیارہ بجے جب اس نے مجھے وہ میسیج بھیجا تو وہ پوری طرح سے نشے میں تھا ، اس کے میسیج توہین آمیز ، گھنونے اور کافی مجروح کرنے والے ہیں ۔ گزشتہ ایک ہفتہ میں اس سے مجھے ذہنی طور پر کافی پریشانی ہوئی ہے ۔

       

      یہ بھی پڑھئے : پاکستان کی فلم ڈھائی چال کا ٹریلر دیکھ بھڑک اٹھے ہندوستانی، کہا: 'تم لوگ صرف فلموں میں ہی...'


      اداکارہ نے میڈیا کیلئے جاری کئے گئے ایک بیان میں کہا کہ میں سات مہینے کی حاملہ ہوں ، میں ایسی کسی بھی چیز سے پرہیز کررہی ہوں، جو منفی توانائی کی وجہ بنتی ہے ۔ اداکارہ نے جمعرات کو اندرانگر پولیس اسٹیشن میں اپنی شکایت درج کرائی تھی ۔ اداکارہ نے یہ بھی کہا کہ وہ پرساد بڈپپا کا کافی احترم کرتی ہیں ۔

       

      یہ بھی پڑھئے : عمران ہاشمی کے ساتھ Lip lock kiss کرکے سرخیوں میں رہی مشہور اداکارہ نے اب دکھایا انتہائی بولڈ اوتار، تصاویر وائرل


      اداکارہ نے کہا کہ انہیں ایڈم کی ماں نے بتایا تھا کہ اس نے پہلے بھی نشے میں آنے کے بعد دوسرے لوگوں کو بھی ایسے ہی پریشان کیا تھا ، مجھے حقیقت میں اس کے ماں باپ کیلئے خراب لگ رہا ہے کہ وہ ایسے حالات سے گزر رہے ہیں ، لیکن میں بے بس ہوں ، مجھے خود کو محفوظ رکھنا ہے ۔

      اداکارہ نے کہا کہ انہیں یا ان کے کبنہ کو بدنام کرنے والے کسی بھی انسان کو وہ نہیں بخشیں گی ۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے ایک یا دو سال ان کیلئے کافی چیلنجنگ رہے تھے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: