اپنا ضلع منتخب کریں۔

    سونو سود نے کی گریجویٹ چائے والی کی مدد، کہا-اب کوئی نہیں ہٹائے گا دکان

    سونو سود نے کی گریجویٹ چائے والی کی مدد، کہا-اب کوئی نہیں ہٹائے گا دکان

    سونو سود نے کی گریجویٹ چائے والی کی مدد، کہا-اب کوئی نہیں ہٹائے گا دکان

    پٹنہ میں چائے کا اسٹال چلانے والی پرینکا گپتا کی مدد کے لیے بالی ووڈ ایکٹر سونو سود نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا ہے۔ سونو سود نے بتایا کہ اب پرینکا کی چائے کی دکان کوئی نہیں ہٹائے گا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Mumbai | Patna
    • Share this:
      بہار کے شہر پٹنہ میں چائے کا اسٹال چلانے والی پرینکا گپتا کی مدد کے لیے بالی ووڈ ایکٹر سونو سود نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا ہے۔ سونو سود نے بتایا کہ اب پرینکا کی چائے کی دکان کوئی نہیں ہٹائے گا۔ حال ہی میں پٹنہ میونسپل کارپوریشن نے اینٹی اینکروچمنٹ کمپین کے تحت پرینکا کی چائے کی دکان کو سیز کرلیا تھا۔ اس کے بعد پرینکا نے اپنا ویڈیو بنا کر شیئرکرتے ہوئے بتایا تھا کہ اسے بار بار پریشان کیا جارہا ہے، جس سے وہ اپنا بزنس نہیں چلا پارہی ہے۔



      سونو سود نے دی جانکاری
      سونو سود نے اب پرینکا گپتا کی مدد کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ انہوں نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا، پرینکا کی چائے کی دکان کے یے جگہ کا انتظام کردیا گیا ہے۔ اب پرینکا کو وہاں سے کوئی نہیں ہٹائے گا۔ بہار آکر جلد ہی آپ کے ہاتھ کی چائے پیتے ہیں۔ جئے ہند۔

      یہ بھی پڑھیں:
      جانھوی کپور کو نہیں تھی باتھ روم میں لاک لگانے کی پرمیشن، اداکارہ نے خود کیا شاکنگ انکشاف

      آخر کیٹرینہ کیف نے ایسا کیا کردیا جو وکی کوشل نے بھرے یونٹ میں انہیں بتایا سائنسداں؟

      یہ بھی پڑھیں:

      شاہ رُخ کے گھر میں گھس آیا فین۔۔۔ سوئمنگ پول میں نہایا، پھر ایسے کی کنگ خان کی بے عزتی!


      عالیہ بھٹ یا رنبیر کپور؟ کون ہے سب سے زیادہ امیر؟ مجموعی دولت جان کر رہ جائیں گے دنگ

      وائرل ہوا تھا پرینکا کا ویڈیو
      ویڈیو میں پرینکا گپتا نے کہا تھا، ’میں نے بہار میں کچھ الگ کرنے کے بارے میں سوچا اور لوگ بھی مجھے سپورٹ کر رہے تھے، لیکن یہ بہار ہے اور یہاں خواتین کی حالت کچن تک ہی محدود ہے۔ لڑکیوں کو آگے بڑھنے کا حق نہیں ہے۔ پٹنہ میں اور بھی کئی اسٹال ہیں۔ یہاں کئی ناجائز کام جاری ہیں۔ شراب بیچی جارہی ہے، لیکن اگر کوئی لڑکی اپنا بزنس چلانے کے بارے میں سوچتی ہے، تو اسے بار بار پریشان کیا جاتا ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: