உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سہیل اشرف نے نیٹ امتحان میں دکھائی بہترین کارکردگی، بڈگام کا نام کیا روشن، بولے۔ تعلیم سے ہی کچھ بھی کرسکتے ہیں حاصل

    سہیل کی والدہ نے بتایا کہ بچوں کو پڑھانے کے دوران جو بھی مشکلات پیش آئیں انہیں برداشت کرنے کا مادہ ہونا چاہیے اسی سےبچوں کا مستقبل سنوارا جاتاہے۔

    سہیل کی والدہ نے بتایا کہ بچوں کو پڑھانے کے دوران جو بھی مشکلات پیش آئیں انہیں برداشت کرنے کا مادہ ہونا چاہیے اسی سےبچوں کا مستقبل سنوارا جاتاہے۔

    سہیل کی والدہ نے بتایا کہ بچوں کو پڑھانے کے دوران جو بھی مشکلات پیش آئیں انہیں برداشت کرنے کا مادہ ہونا چاہیے اسی سےبچوں کا مستقبل سنوارا جاتاہے۔

    • Share this:
    حوصلہ جب ہو تو انسان کچھ بھی کر سکتا ہے جب تعلیم کی بات تو کچھ زیادہ ہی دلی سکون اور خوشی کا مقام حاصل ہوتا ہے ایسی خوشی اور دلی سکون وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام چاڈورہ کے کزویرا علاقے سے تعلق رکھنے والے سہیل اشرف نے دی ہے۔ سہیل اشرف نے نیٹ امتحان میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرکے 615 مارکس حاصل کئے ہیں۔ ان کے اس کامیابی پر پورا علاقہ پھولے نہیں سمایا۔ سہیل کے والد پیشے سے ایک مزدور ہیں یعنی وہ مستری کا کام کرتے ہیں۔ سہیل کا کہنا ہے کہ ان کے والدین نے غریبی کی زندگی گزار کر انہیں پڑھایا ہے۔ ان کے والدین نے تعلیم حاصل کرنے کے دوران ہر وہ چیز میسر رکھی جس کی انہیں ضرورت تھی۔ سہیل نے مزید بتایاکہ جب بھی وہ پڑھائی سے جی چراتے تھے تو انہیں اپنے والدین کی تمنا اور ان کی غریبی پڑھنے کے لئے مجبور کرتی تھی۔

    سہیل نے بتایا کہ والدین سے کافی مدد ملی اور حوصلہ ملا بلکہ غریبی کی زندگی گزارنے کے باوجود بھی کوئی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔ سہیل نے مزید بتایا کہ لاک ڈاؤن اور انٹرنیٹ کی غیر موجودگی سے انہیں کئی مرتبہ مشکلات پیش آئے۔ انہوں نے سرکار سے اپیل کی کہ آئندہ انٹرنیٹ کو معطل نہ کیاجائے اس سے خاص طور پر طالب علموں کو سخت دشواریاں پیش آرہے ہیں۔ سہیل نے اسکولوں کو دوبارہ کھولنے کی بھی اپیل کی تاکہ بچوں کا مستقبل بہتر ہوسکے۔

    سہیل کی اس کامیابی سے ان کے اہلخانہ کے ساتھ ساتھ انکے دوست بھی اور علاقے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ سہیل کے دوستوں نے بتایا کہ اگر انسان لگن سے محنت کرے گا تو کوئی بھی راہ مشکل نہیں ہوتی۔ بلکہ ہر راہ آسان بنتی ہے۔ سہیل کے والدین نے بھی مسرت کا اظہار کیا۔انہوں نے کہاکہ ان کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ جب انہیں یہ خبر ملی تو وہ بے حد خوش ہوئے۔

    سہیل کی والدہ نے بتایا کہ بچوں کو پڑھانے کے دوران جو بھی مشکلات پیش آئیں انہیں برداشت کرنے کا مادہ ہونا چاہیے اسی سےبچوں کا مستقبل سنوارا جاتاہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بچوں کے بہتر مستقبل کے لئے انہیں سب کچھ منظور تھا۔کشمیر میں بچوں کوایسے امتحانات اور خاص طور پر تعلیم کی جانب راغب کرنے کی مزید ضرورت ہے۔ تاکہ یہاں کا بچہ بچہ تعلیم کے نور سے منور ہوسکے ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: