ہوم » نیوز » انٹرٹینمنٹ

Sushant Case Update: سی بی آئی کے لئے ریا چکرورتی کو گرفتار کرنا آسان نہیں، جانیں کیا ہے وجہ

  • Share this:
Sushant Case Update: سی بی آئی کے لئے ریا چکرورتی کو گرفتار کرنا آسان نہیں، جانیں کیا ہے وجہ
سی بی آئی کے لئے ریا چکرورتی کو گرفتار کرنا آسان نہیں

سشانت سنگھ راجپوت (Sushsnt Singh Rajput) کی موت کی جانچ میں اب سی بی آئی (CBI) انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (Enforcement Directorate)

اور نارکوٹکس کنٹرول بیورو (NCB) کی ٹیم لگ گئی ہے۔ تینوں ہی جانچ ایجنسیوں کی تفتیش جیسے جیسے آگے بڑھ رہی ہے، ویسے ویسے اس معاملے میں نئے انکشاف بھی ہونے لگے ہیں۔ واضح رہے کہ سی بی آئی نے اس پورے معاملے کی جانچ کے 8ویں دن اہم ملزم ریا چکرورتی (Rhea Chakraborty) کو پہلی بار پوچھ گچھ کے لئے بلایا تھا۔ آج ریا چکرورتی چوتھے دن مسلسل سی بی آئی کے سوالوں کا جواب دینے ڈی آرڈی او کے گیسٹ ہاوس پہنچی ہیں۔ 26 گھنٹے سے زیادہ وقت تک سی بی آئی کی جانچ کے بعد اب ہر کوئی یہی جاننا چاہتا ہے کہ آخر سی بی آئی کی ٰٹیم ریا چکرورتی کو کب گرفتارکرے گی؟


سی بی آئی بھی سشانت سنگھ راجپوت کی موت کے معاملے میں ہر قدم پھونک پھونک کر رکھ رہی ہے۔ سی بی آئی نہیں چاہتی کہ وہ آناً فاناً میں ریا چکرورتی کو گرفتار کرلے اور کمزور ثبوتوں کی بنیاد پر انہیں فوراً ضمانت مل جائے۔ یہی نہیں اس معاملے پر اب ہر کسی کی نظر ہے، ایسے میں سی بی آئی اس پورے حادثہ سے پردہ اٹھانا چاہ رہی ہے۔ حالانکہ اس پورے معاملے میں کئی تکنیکی پہلو بھی ہے، جس کے سبب سی بی آئی کے لئے ریا چکرورتی  کو گرفتار کرنا آسان نہیں نظر آتا ہے۔


ابھی تک ملی رپورٹس کے مطابق، ریا چکرورتی کے خلاف سی بی آئی کو ایسے کوئی پکے ثبوت نہیں ملے ہیں، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوں کہ سشانت سنگھ راجپوت کو خود کشی کرنے کے لئے انہوں نے ہی اکسایا تھا۔ حالانکہ سشانت سنگھ راجپوت کے والد نے ایف آئی آر میں ریا چکرورتی پر ہی سشانت سنگھ کو خود کشی کے لئے اکسانے کا الزام لگایا ہے۔

سی بی آئی کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہے، اس معاملے میں شامل گواہوں کے بیان۔ سی بی آئی نے جب سے اس معاملے کی جانچ شروع کی ہے تب سے ہی سشانت سنگھ راجپوت کے دوست سدھارتھ پٹھانی، کک نیرج سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ حالانکہ ابھی تک کوئی بھی گوال اپنے بیان پر قائم نہیں رہ سکا ہے۔ 13 جوان اور 14 جون کو سشانت سنگھ کے فلیٹ میں کیا ہوا، اس کو لے کر ہر کسی کے بیان میں فرق دکھائی دے رہا ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Aug 31, 2020 03:16 PM IST